affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Shahzadi Hifsa
Showing posts with label Shahzadi Hifsa. Show all posts
Showing posts with label Shahzadi Hifsa. Show all posts

Saturday, 29 December 2018

Us ke mehaktay gulabon ke sung mein bhi by Shahzadi Hifsa


غزل
بقلم شہزادی حفصہ
اس کے مہکتے گلابوں کے سنگ میں بھی روز مہکتی ہوں
ہاں میں خود میں نہیں اس کے دل میں رہتی ہوں
ہاں تمہاری ہوں تمہاری ہوں اور صرف تمہاری ہوں
نہ جانے کتنی بار میں اس سے نکاحِ محبت کرتی ہوں
وہ ناسمجھ صرف لال رنگ کو خون سمجھتا ہے
میں لباسِ دلہن پہن کر اس کی رگوں میں بہتی ہوں
تو اپنے خیال کے مطابق مجھے چھوڑ تو سکتا ہے
مگر میرا تو خیال کر میں تیرے خیال میں جیتی ہوں
وہ کہتا ہے تمہارا نام و نشان کہیں نہیں ہے میرے گھر میں
مگر میں شہزادی روز شبنم بن کر اس کے آنگن میں برستی ہوں

Wednesday, 26 December 2018

Nikah e mohabbat by Shahzadi Hifsa


نظم:نکاحِ محبت
از قلم: شہزادی حفصہ
نکاحِ محبت ہو جاۓ
تو بات سنہری ہو جاۓ
ہاتھوں میں مہندی رچ جاۓ
ماتھے پہ بندیا سج جاۓ
ہم بن بیٹھیں ان کے صرف
وہ بن بیٹھیں ہمارے صرف
قاضی کلمات ادا کرے
وہ کہہ دیں " قبول ہے مجھے "
یہ دل وہیں کو اڑ جاۓ
یہ لمحہ وہیں ٹہر جاۓ
یہ سانس وہیں تھم جاۓ
یہ پل وہیں کو جم جاۓ
نکاحِ محبت ہو جاۓ
تو بات سنہری ہو جاۓ
چاند کی پوری رات ہو
چاہت کی برسات ہو
میرے ہاتھ پر ان کا قبضہ ہو
آنکھوں میں اپنی جکڑا ہو
وہ پوچھیں بتاؤ تم کس کی ہو
میں کہہ دوں ہاں تمہاری ہوں
وہ پھر پوچھیں تم کس کی ہو
میں کہہ دوں ہاں تمہاری ہوں
وہ پھر پوچھیں تم صرف کس کی ہو
میں کہہ دوں ہاں صرف تمہاری ہوں
نکاحِ محبت ہو جاۓ
تو بات سنہری ہو جاۓ

Thursday, 18 October 2018

Falsafa e mohabbat by Shahzadi Hifsa

لکہ مصر ہو کر بھی زلیخا نے غلام کو چاہا
یہ بدستور محبت کے فلسفے میں لکھا ہوا ہے 
محبت کی حد تو دیکھ لو شہزادی 
یہ مہندی کا رنگ اسی وجہ سے رچا ہوا ہے 
بقلم: شہزادی حفصہ 

Friday, 5 October 2018

Baqi hai by Shahzadi Hifsa


غزل
تیرے دل پہ میرے نام کا ادھار باقی ہے
جو نہ ملا تجھ سے ابھی وہ پیار باقی ہے
تیرے ساتھ جو گزرے وہ منظرِ بے پردہ
سوچتی ہوں اس پردے کا دیدار باقی ہے
ہو چاند پورا اور سر ہو تیرے کندھے پر
ابھی اس دل کے قرار کا بھی قرار باقی ہے
سنا ہے شہزادی سدھار ڈالا کتنوں کو
پر میری دیوانگی کا تو سدھار باقی ہے
از قلم
شہزادی حفصہ

Monday, 1 October 2018

Chahat by Shahzadi Hifsa


ہماری چاہت تھی گلاب کے پھول کی
اس نے اپنا دل نکال کر باہر رکھ دیا
بقلم: شہزادی حفصہ

hame kya maloom tha jana by Shahzadi Hifsa


ہمیں کیا معلوم تھا شہزادی کہ محبت میں بہاروں کے علاوہ بھی
خزاؤں کا بن بلاۓ آنا عذاب بھی تو ہو سکتا ہے
بقلم : شہزادی حفصہ

Saturday, 29 September 2018

Tamanna by Shahzadi Hifsa


تمنا تو تمہاری بھی یہی ہے شہزادی
محبت میں مشہور ہونے کی
جیسے تھے شیریں اور فرہاد
ہم نے تو یہی سنا ہے
بقلم: شہزادی حفصہ

Friday, 28 September 2018

Le aty hen her bar by Shahzadi Hifsa


لے آتے ہیں ہر بار تیری جانب
یہ تو محض قصور ہے ان راستوں کا
اس کو محفل نہ سمجھا جاۓ شہزادی
یہ تو محض حالِ دل ہے ان عاشقوں کا
بقلم: شہزادی حفصہ

Dhoka by Shahzadi Hifsa


حالتِ ناساز , تڑپِ دیدار اور بےقرارئ دل
یہ عشق کی سوغات ہیں اسے برا نہ کہو
یہ دنیا محض دھوکے کی بناوٹ ہے
سنبھل جاؤ شہزادی ہر کسی کو اپنا نہ کہو
بقلم: شہزادی حفصہ

Tuesday, 25 September 2018

Meri shairi by Shahzadi Hifsa


عاشق کو معشوق کی سنگدلی بھی سہنی پڑتی ہے
ہو جاۓ گر محبت تو پھانسی بھی چڑھنی پڑتی ہے
عرضِ حال,  عقیدۂ تمنا اور عشقِ بےرحم
ملتے ہیں جب یہ تین "ع" تو میری زندگی بنتی ہے
ہیں اس کے دیدار کے کرامات بھی عجب
کسی کو شفاء تو کسی کو موت ملتی ہے
اس کے نام پر سانس تو کیا
آج کل دھڑکن بھی آہستہ چلتی ہے
اس کے نام کی لکیر کا ہاتھ سے مٹنا کیسا؟
پڑی ہو گر پتھر پر تو وہ بھلا کب مٹتی ہے؟
اس کے ذکر کو چھوڑ دوں بھلا میں کیسے شہزادی
اس کے نام سے ہی تو میری شاعری سلغتی ہے
از قلم: شہزادی حفصہ

Monday, 24 September 2018

Mohabbat by Shahzadi Hifsa


غزل
نہ کھیل و تماشا ہوتی ہے,  نہ قدروقیمت ہوتی ہے
ہو جاۓ گر محبت تو بس پھر قیامت ہوتی ہے
نہ جستتجوۓوصل کرنا نہ حال دل بیان کرنا
یہ تو بس محبت میں ایک شرافت ہوتی ہے
مرنے کی آرزو میں جینے کی کھلواڑ میں
اسے دیکھ لینے کی ذرا سی حسرت ہوتی ہے
غصے میں دو کڑوے بول مسکراہٹ میں دو میٹھے بول
محبت میں چھیڑنے کی یہ تو شرارت ہوتی ہے
کمال سے ملال تک,  جمال سے مجال تک
کسی کو سوچتے رہنے کی محض عادت ہوتی ہے
محبت کی پنکھڑیوں میں فرق نہیں شہزادی
خوبصورت گلاب جیسی ایک شناخت ہوتی ہے
از قلم : شہزادی حفصہ

Sunday, 23 September 2018

Izhar e mohabbat mushkil hai by Shahzadi Hifsa


پہلے تم کرو
پھر میں کروں
آخر
اظہارِ محبت مشکل ہے
سو الفاظ جڑتے ہیں
سو الفاظ بنتے ہیں
اس دل کو سمجھاۓ کون
اس روح کو چین دلاۓ کون
کچھ تم کہو
کچھ میں کہوں
آخر
اظہارِ محبت مشکل ہے
کچھ میٹھی سہانی بات ہو
کچھ مستانی سی رات ہو
چاند بھی پورا پورا ہو
تارے بھی تکنے آۓ ہو
کچھ الفاظِ اظہارے تمہارے ہو
کچھ الفاظِ اظہار میرے ہو
پھر بھی مکمل نہ ہو پاۓ
آخر
اظہارِ محبت مشکل ہے
بقلم
شہزادی حفصہ

Kiyun woh stana nahi chorta by Shahzadi Hifsa


رنگ گلاب بھی اور خوشبوۓ گلاب بھی انہیں چھونا نہیں چھوڑتا
تر ہو کر ہر خوبیوں سے وہ سب کو پاگل بنانا نہیں چھوڑتا
بال سنوار کر,  خوشبو لگا کر,  ہر ایک انداز تھوڑا بدل کر
محبوب میرا اپنے جمال کے ساتھ کبھی اترانا نہیں چھوڑتا
سر محفل نہ ذکر کیجۓ جو ذکر ہے ان کا رہنے دیجۓ
بس جان لیجۓ کہ نام تک ان کا آگ لگانا نہیں چھوڑتا
دن تو دن ہیں نکل ہی جاتے ہیں کام کاج میں
لیکن رات میں یاد کا مرحلہ بے چینی سے گزرنا نہیں چھوڑتا
دوسروں کا جو فن ہے داد حاضر ہے ان کی
فقط اس لۓ کہ جل جاؤ شہزادی کیوں وہ ستانا نہیں چھوڑتا
شہزادی حفصہ

Saturday, 22 September 2018

Mere sanam ka naam by Shahzadi Hifsa


میرے صنم کا نام موجود ہر طرف کون و مکاں میں ہے
ہجر کی ہر صبح وشام کا حساب اس بیاباں میں ہے
یوں ستمگر نہ بن ہماری محبت کا اے ظالم
ہم بھی جانتے ہیں کہ تیرا جواب ہاں میں ہے
دل کے چپے چپے کے حال احوال سے واقف ہیں وہ
پھر بھی کہتے ہیں کہ کچھ خالی وہاں میں ہے
وہ کہتے ہیں ہمیں لفظوں سے نہیں کوئ مطلب
جا کر کوئ بتاؤ انھیں کہ ان کی محبت دل و جاں میں ہے
اس عشق کو نہ سمجھو بددماغ , کم عقل فلاں فلاں
موجود یہ بلا ہر کسی کے داستانِ بیاں میں ہے
نہیں ہیں ہم قبول دیکھ لو ٹھیک ہے نہ ہی سہی
اوپر تمہارے اور میرے نام کا جوڑ آسماں میں ہے
نہیں قدر اگر ہمارے جذبات اور احساسات کی تمہیں
منتظر تمہارا شہزادی ہر کوئ جہاں میں ہے
شہزادی حفصہ


Tuesday, 18 September 2018

Kisi aur ka naa hony den gy by Shahzadi Hifsa


اب اور نہ انہیں دوریاں بڑھانے دیں گے
مل گئے خواب میں بھی تو ہرگز نہ جانے دیں گے
ترک تعلق کی وحشت برداشت نہیں ہوتی
اس لئے محبت تو کیا یاد بھی نہ مٹانے دیں گے
سو بار کی انکار نے بے تحاشا زخم دئے دل کو
اب کی بار ان کو اقرار سے نہ مکرنے دیں گے
ان کے دکھ' زخم ' کانٹے اور اضطراب
سب خود پر مسلط کر کے انہیں خوشیاں منانے دیں گے
ہمارا راج ایسی سلطنت پر قائم ہے شہزادی
جہاں ہم انہیں کسی اور کا نہ ہونے دیں گے
شہزادی حفصہ

Dars by Shahzadi Hifsa


یہی درس ملا ہے گزرے ہؤے واقعات میں
محبت دی نہیں جاتی ہر گز خیرات میں
وہ وعدہ وہ وفا وہ الفاظ وہ احساس
ابھی بھی کچھ بتانا رہ گیا اس آدھی ملاقات میں
جذبات کا پرندہ اڑ گیا,  سکون ہوا
لیکن دل پھر سے نکلا ہے تلاش جذبات میں
ایک بار تصور میں مل لیا جاۓ
کاش کہ ایسا ممکن ہو جاۓ میرے مرکز حیات میں
چہرے سے نقاب ہٹے ہاتھ سے کتاب گرے
اکثر ہوتی ہے محبت ایسے ہی حالات میں
گزار دی ہیں ہزاروں راتیں کسی کے لئے
اب خداۓواحد کو کریں گے یاد گہری رات میں
نہ مان اس پانی کو اپنا شہزادی
کہیں تیرے رنگ نہ اتر جائیں اس برسات میں
شہزادی حفصہ


Monday, 17 September 2018

Mera ishq deewano jesa by Shahzadi Hifsa


یرا عشق رہا دیوانوں سا
میرا قصہ رہا افسانوں سا
میرا ساتھ دے تو ہر جگہ
نہ پرکھ مجھے انجانوں سا
تو مان لے ہر حکم میرا
نہ کھیل کھیل شیطانوں سا
شام بھی ہو سہانی سی
کچھ منظر لگے مستانوں سا
توجہ تھوڑی میری طرف بھی
بن کے بیٹھ نہ جانا بیگانوں سا
کچھ پچھلی باتیں دہرائیں کہ
شہزادی ماحول بنے یارانوں سا
از قلم
شہزادی حفصہ