affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Urdu Poetry by Nasir Kazmi
Showing posts with label Urdu Poetry by Nasir Kazmi. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poetry by Nasir Kazmi. Show all posts

Saturday, 23 July 2016

Gali gali m meri yaad bichi hai pyairy

ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺑﭽﮭﯽ ﮨﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺭﺳﺘﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﭼﻞ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ

 

ﺍﯾﮏ ﺳﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﺎ ﻧﺎﺯﮎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ
ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﮕﻞ

 

ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺷﺎﻡ ﻣﺠﮭﮯ
ﺗﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ ﮐﺎﺟﻞ

 

ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﺒﮭﮯ ﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻓﮑﺮﻭ ﻋﻤﻞ

 

ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺩﯾﮑﮫ ﺍﺱ ﮐﺎﻟﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ
ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻤﺮﺍﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺮﮮ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭼﻞ

 

"ﻧﺎﺻﺮ ﮐﺎﻇﻤﯽ"

Wednesday, 18 May 2016

آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا


آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا

اس طرح سے گفتگو کا سلسلہ اچھا لگا



آنکھ میں آنسو لبوں پر سسکیاں اور دل میں غم

مجھ کو پھر اے دوست تیرا روٹھنا اچھا لگا


یہ بھی اچھا ہے نبھائی غیر سے اس نے وفا

بے وفائی میں بھی مجھ کو بے وفا اچھا لگا


دور تک مجھ کو ادا اسکی نشہ دیتی رہی

وقت رخصت اس کا مڑ کے دیکھنا اچھا لگا


اس نے ٹھکرایا تو سارے دوست بیگانے ہوئے

ہم کو اپنی موت کا پھر آسرا اچھا لگا


اپنے آنچل پر سجاتے وہ رہے رات بھر

میرے اشکوں کا رواں یہ سلسلہ اچھا لگا


وہ کسی کی یاد میں سوئے نہیں رات بھر

نیند سی بوجھل سی آنکھوں میں نشہ اچھا لگا


مجھ کو ہر ٹکڑے میں ناصر وہ نظر آنے لگے

ٹوٹ کر مجھ کو جب ہی تو آئینہ اچھا لگا

Tuesday, 10 May 2016

Ye bhi kya shaam-e-mulaaqaat aayi,

Ye bhi kya shaam-e-mulaaqaat aayi,

lab pe mushkil se teri baat aayi.


Subh se chup hain tere hijr-naseeb,

haaye kya hoga agar raat aayi.


Bastiyaan chhod ke barse baadal,

kis qayaamat ki ye barsaat aayi.


Koi jab mil ke hua tha rukhsat,

dil-e betaab wahi raat aayi.


Saaya-e-zulf-e-butaan mein ‘nasir

ek se ek nayi raat aayi. !!

Wednesday, 27 April 2016

" دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر


" دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر
کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے "

ناصر کاظمی

Saturday, 23 April 2016

آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا

آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا
اس طرح سے گفتگو کا سلسلہ اچھا لگا

آنکھ میں آنسو لبوں پر سسکیاں اور دل میں غم
مجھ کو پھر اے دوست تیرا روٹھنا اچھا لگا

یہ بھی اچھا ہے نبھائی غیر سے اس نے وفا
بے وفائی میں بھی مجھ کو بے وفا اچھا لگا

دور تک مجھ کو ادا اسکی نشہ دیتی رہی
وقت رخصت اس کا مڑ کے دیکھنا اچھا لگا

اس نے ٹھکرایا تو سارے دوست بیگانے ہوئے
ہم کو اپنی موت کا پھر آسرا اچھا لگا

اپنے آنچل پر سجاتے وہ رہے رات بھر
میرے اشکوں کا رواں یہ سلسلہ اچھا لگا
 
مجھ کو ہر ٹکڑے میں ناصر وہ نظر آنے لگے
ٹوٹ کر مجھ کو جب ہی تو آئینہ اچھا لگا
 
 

Saturday, 16 April 2016

ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے

ناصرؔ کیا کہتا پھرتا ہے ـــ کچھ نہ سُنو تو بہتر ہے
دِیوانہ ہے ـــ دِیوانے کے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
*
کل جو تھا وہ آج نہیں ـ ـ جو آج ہے وہ کل مِٹ جائے گا
رُوکھی سُوکھی جو مِل جائے ـــ شکر کرو تو بہتر ہے
*
کل یہ تاب و تواں نہ رہے گی ـ ـ ٹھنڈا ہو جائے گا لہُو
نامِ خدا ہو جوان ابھی ـــ کچھ کر گزرو تو بہتر ہے
*
کیا جانے کیا رُت بدلے ـ ـ حالات کا کوئی ٹھیک نہیں
اب کے سفر میں ـــ تم بھی ہمارے ساتھ چلو تو بہتر ہے
*
کپڑے بدل کر ، بال بنا کر ، کہاں چلے ہو ، کس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصرؔ ـــ گھر میں رہو تو بہتر ہے


شاعر: ناصرؔ کاظمی

Saturday, 26 March 2016

جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے



 جبیں پہ دھوپ سی آنکھوں میں کچھ حیا سی ہے
تو اجنبی ہے مگر شکل آشنا سی ہے
خیال ہی نہیں‌ آتا کسی مصیبت کا
ترے خیال میں ہربات غم ربا سی ہے
جہاں میں یوں تو کسے چین ہے مگر پیارے

یہ تیرے پھول سے چہرے پہ کیوں‌ اداسی ہے

 دلِ غمیں سے بھی جلتے ہیں‌شادمانِ حیات
اسی چراغ سے اب شہر میں‌ہوا سی ہے
ہمیں‌سے آنکھ چُراتا ہے اس کا ہر ذرہ
مگر یہ خاک ہمارے ہی خوں کی پیاسی ہے
اداس پھرتا ہوں میں جس کی دھن میں برسوں سے
یونہی سی ہے وہ خوشی بات وہ ذرا سی ہے
چہکتے بولتے شہروں کو کیا ہوا ناصر
کہ دن کو بھی مرے گھر میں وہی اداسی ہے

Wednesday, 5 February 2014

Aisa maktab bhi koi shehar mein kholey Nasir ایسا مکتب بھی کوئی شہر میں کھولے ناصر

ایسا مکتب بھی کوئی شہر میں کھولے ناصر
آدمی کو جہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان بنایا جاۓ

Aisa maktab bhi koi shehar mein kholey Nasir

Aadmi ko jahan..............Insan bnaya jaey