" غزل"
ہم
خاموش خاموش رہتے ہیں
کہیں ہم سے کوئی خفا نہ ہو جاۓ
کہیں
بھول کر انجانے میں
ہم
سے کوئی خطإ نہ ہو جاۓ
مزاج
بدلتے ہیں وہ موسم کی طرح
کہیں
پل کی بھول پر وہ بےوفا نہ ہو جاۓ
بس
یہی سوچ کر ہر ستم سہتے ہیں" ساگر"
وہ
جان ہےہماری، کہیں ہم سے جدا نہ ہو جاۓ
محمد
کمیل ساگر
**************
No comments:
Post a Comment