affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Khadija Noor
Showing posts with label Khadija Noor. Show all posts
Showing posts with label Khadija Noor. Show all posts

Wednesday, 11 September 2019

Kya mohabbat karny lagy ho by Khadija Noor


کیا محبت کرنے لگے ہو؟
جیسے ڈھلتا ہے دن پچھم میں
تم بھی ایسے ڈھلنے لگے ہو
سوکھے ہوئے پتوں کی طرح
تم بھی بکھرنے لگے ہو
کیا محبت کرنے لگے ہو؟
یہ راہ اتنی آسان نہیں
تم کیوں الجھنے لگے ہو
منزل کا تمہیں علم نہیں
پھر بھی چلنے لگے ہو
کیا محبت کرنے لگے ہو؟
کھلتے ہوئے گلاب جیسے
تم بھی کھلنے لگے ہو
سمندر کی لہڑوں کی مانند
تم مجھ سے ملنے لگے ہو
کیا محبت کرنے لگے ہو؟
یہ عشق تو مثلِ دلدل ہے
تم اس میں پھسنے لگے ہو
سارے غموں کو بھلا کر
تم پھر سے ہنسنے لگے ہو
کیا محبت کرنے لگے ہو؟
توڑ کر حدیں ساری
تم وفائیں کرنے لگے ہو
رب کے آگے سجدہ کرکے
تم دعائیں کرنے لگے ہو
کیا سچ میں محبت کرنے لگے ہو؟
از خدیجہ نور

Tuesday, 25 June 2019

Ek sal guzar gaya by Khadija Noor

دیکھو ایک سال گزر گیا 
اب ویسی کوئی بات بھی نہیں 

وہ قصے، وہ کہانی، وہ لمحے 
اب تو ویسے واقعات بھی نہیں  

جو برستی تھی میری آنکھوں سے 
اب وہ برسات بھی نہیں  

سسکتے سسکتے گزرتی تھی جو
اب ویسی کوئی رات بھی نہیں 

شطرنج ابھی درمیان میں ہے
ابتداء نہیں، شہ مات بھی نہیں 

از خدیجہ نور

Tuesday, 11 June 2019

Tm gharatgar ho by Khadija Noor


تم گارت گر ہو
اور بھول چکے ہو
اپنی آخرت
اور شکار کرتے ہو
معصوم جانو کا
تم نے زینب جیسی کلی کو
اجاڑ دیا
اور فرشتہ کو
ختم کردیا
تم مسل دیتے ہو
معصوم لڑکیوں کو
اور سمجھتے ہو
ہمیں چیونٹیاں
لیکن
میں تمہیں بتاؤں
کہ ہم لڑکیاں
چیونٹیاں ہی ہیں
اور جب کھڑی ہوجائیں گی
لاکھو زینب اور فرشہ
ہاتھ میں ہاتھ ڈالے
تب ہم چیونٹیوں کی
اک فوج بن جائے گی
اور پھر
ہم نہیں چھوڑیں گی
تمہاری گلی ہوئی
ہڈیاں بھی۔۔۔۔
ازقلم: خدیجہ نور

School ka zamana by Khadija Noor


اسکول کا زمانہ
وہ زور زور ہنسنا
دیکس پر سر رکھ کر رونا
وہ روٹھنا، منانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                        کاش پھر اسکول جاؤں....
دوستوں کی غیبتیں
ٹیچرز کی برائیاں
پرنسپل کا مزاق اڑانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ بریانی کی آرزو
وہ میکرونی کی خوشبو
امرود اور چاٹ مصالحہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ کاغذ کا جہاز
وہ بادشاہ کا وزیر
کبھی پہیلیاں سلجھانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                         میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ ٹیچر کی ڈانٹ
وہ پرنسپل کا خوف
وہ چھٹی کرنے کا بہانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          کاش پھر اسکول جاؤں....
کبھی انک، کبھی پانی
دوستوں پر ڈالنا
پھر چغلیاں لگانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                       میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ آڑی ترچھی لکیریں
وہ چارسوبیس کا ٹیگ
شرٹ پر چپکانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ کیمسٹری کے numericals
 اور انگلش کے tenses
کا سر سے گزر جانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ ایگزام کی ٹینشن
وہ رٹے لگانا
اور پھرے بنانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ بریک ٹائم کی مستی
وہ چھٹی کا انتظار
وہ صبح کا ترانہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ لاسٹ ڈے کا رونا
اور روتے ہوئے ہنسنا
اور ہنستے ہوئے گنگنانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                        کاش پھر اسکول جاؤں....
ان حسین پلوں کی یادیں
وہ ٹیچرز کا پیار
وہ دوستوں کا یارانہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                       میں کیسے بھول جاؤں؟ 
از قلم : خدیجہ نور

Monday, 27 May 2019

Khawab by Khadija Noor







ایک خواب مجھ کو ستاتا ہے
جو روز رات کو آتا ہے
اٹھتا ہے دل میں خوف سا
جو مجھے بہت ڈراتا ہے
میں ڈر کر سہم جاتی ہوں
وہ سایہ نظر جب آتا ہے
وہ چھوڑتا نہیں ہے مجھے کبھی
وہ ہر طرف چھا جاتا ہے
گرتے ہیں آنکھ سے آنسو
وہ مجھے بہت رلاتا ہے
خوف سے چونک جاتی ہوں
جب وہ آہٹیں سناتا ہے
جو خنجر سے ٹپکتا ہے
وہ خون مجھے دکھاتا ہے
یہ خواب حقیقت نہ ہوجائے
یہ خیال خوف دلاتا ہے

از خدیجہ نور

Mein kon hon by Khadija Noor







تم مجھ سے سوال کرتے ہو
میں کون ہوں؟
تم کو لگتا ہے
تم جانتے ہو مجھے
لیکن میں تم کو بتاؤں
تم مجھے نہیں جانتے
میں کوئی شہزادی نہیں ہوں
نہ میں کوئی حور ہوں
میں ایک عام لڑکی ہوں
میں ایک شہد کی مکھی ہوں
جو بناتی ہے اپنا گھر
دور پہاڑوں پر
جہاں کوئی میری عزت تک
 نہ پہنچ سکے
میں بناتی ہوں اپنا گھر
درختوں پر
جہاں ہوتا ہے سکون
میں بناتی ہوں اپنا گھر
اونچی چھتوں پر
تاکہ تم کو پتا چلے
میری سوچ چھوٹی نہیں ہے
اور میں کھاتی ہوں
ﷲ کا دیا ہوا زرق
اور کرتی ہوں پھر شکر
اور بناتی ہوں شہد
جس میں شفا ہے لوگوں کے لئے
میں اپنا کام کرتی ہوں
بغیر کسی لالچ کے
جس کے لئے ﷲ نے
تخلیق کیا مجھے
میں سب کو دیتی ہوں
میٹھا شہد
لیکن تم یہ مت سمجھو
کہ میں کمزور ہوں
یا تم مجھے مسل سکتے ہو
اپنی حوس میں
کیونکہ تم بھول بیٹھے ہو
کہ جب کوئی مجھے
ناحق ستاتا ہے
تو ﷲ نے دی ہے مجھے
میری حفاظت کی چیز
اور جب تم مجھے
تنگ کروگے تو
مین لے سکتی ہوں
 تمہاری جان بھی  ۔۔۔

از قلم :خدیجہ نور

Monday, 13 May 2019

Boht kuch chupa is dil me magar by Khadija Noor

بہت کچھ چھپا اس دل میں، مگر
اسے دل میں ہی رہنے دو 

مجھے حجوم نہیں پسند
مجھے تنہا ہی رہنے دو 

سب اڑتے ہیں آسمانوں میں
مجھے زمین پر ہی رہنے دو 

مجھے غرور راس نہیں  آتا
مجھے کم تر ہی رہنے دو

از خدیجہ نور

Qaid by Khadija Noor

وہ شاہین نہیں تھی 
جو پرواز کرتی آسمانوں میں 
وہ تھی چمکتا سونا
اسکی قسمت تھی تجوری میں قید رہنا 

از خدیجہ نور

Intizar by Khadija Noor

ایک مدت سے ہے مجھے انتظار تیرا
تو آکر تھام لے ہاتھ میرا

تو جانتا ہے میری آنکھوں میں انتظار کتنا ہے
تو جانتا ہے مجھے تجھ سے پیار کتنا ہے

تم محرم ہو میرے کوئ غیر تو نہیں ہو
تم عشق ہو میرا کوئ سحر تو نہیں ہو

تم آؤ تو تمہیں کبھی جانے نہیں دونگی
کسی اور سے دل نہیں لگانے دونگی

میری دعاؤں میں تم شامل ہو اسطرح
گلاب میں خوشبو شامل ہو جسطرح

نہیں مانگی کسی سے بس مانگتی ہوں اپنے رب سے
تمہیں چاہتی ہوں، محبت کرتی ہوں نجانے کب سے

تم سے کیا ہر وعدہ میں نبھاؤنگی صنم
کبھی نا تم کو چھوڑ کر جاؤں گی صنم

تم بس میرا اتنا عتبار کر لینا
میری طرح میرا بھی انتظار کر لینا.
 از خدیجہ نور

Ishq by Khadija Noor

سنیں جناب جب عشق ہوتا ہے
کیا کہۓ کیا خوب ہوتا ہے

دکھائ پھر کچھ دیتا نہیں
آنکھوں میں بس محبوب ہوتا ہے

رات ہوتی ہے اسکے نام پر ختم
اُس سے شروع دن ہوتا ہے

بھول جاتے ہیں ہر ین و آخرت
خداۓ مجازی پھر محبوب ہوتا ہے

موت کے بعد سمجھ آتی ہے بات
دنیا کا ہر عشق تو محض دھوکہ ہوتا ہے

نہیں ہوتا کوئ مجازی عشق نہیں ہوتا
ناہی کوئ محبوب، مجازی خدا ہوتا ہے

عشق توہے انتہا، یہ صرف ایک ہی ہوتا ہے
اور عشق صرف عشق حقیقی ہوتا ہے. 
 از خدیجہ نور

Sunday, 31 March 2019

Khushboo by Khadija Noor









اک عرصے تک رہیں بھلے، وہ کتاب میں
پھول گلاب کے، سوکھ کر بھی خوشبو دیتے ہیں

از خدیجہ نور

Yadeen by Khadija Noor









ان گلیوں سے ان راستوں سے آج بھی گزر ہے میرا
میں زندگی کی وہ بدترین یادیں نہیں بھولی

تجھے کیسے بھولوں؟ تو رہتا ہے دماغ میں میرے
میں تیری وہ ساری باتیں نہیں بھولی

تو استاد تھا تو نے سکھایا مجھے سبق رندگی کا
میں تیری پڑھائی ہوئی کتابیں نہیں بھولی

نور کی خواہش  ہے مجھے، ہے نور کی امید مجھے
بن چاند کی میں وہ راتیں نہیں بھولی

از خدیجہ نور

Monday, 4 March 2019

Socha to tha muskaraty rahen gy by Khadija Noor

سوچا تو تھا مسکراتے رہیں گے ہم 
اسنے جو گلے لگایا تو آنسوؤ پر قابو نا رہا

Thursday, 28 February 2019

Yaqeen by Khadija Noor









نا پہچان رہی، نا نام رہا
نا بات رہی، نا کلام رہا 
یقین کہ آئینے کو تم نے
کچھ توڑا اسطرح
نا عزت رہی، نا مقام رہا

از قلم خدیجہ نور

Tuesday, 5 February 2019

Chaal by Khadija Noor,







اسنے چال چلی ایسی
مجھے پھر سے گرادیا
اب وہ ہنس رہا ہے مجھ پر
اسنے پھر مجھے ہرادیا
وہ بہکاتا ہے سب کو
اسنے مجھے بھی بہکادیا
گمراہ کرکے مجھے
راہ سے ہٹادیا
حاوی ہوا وہ اس طرح
کہ وقتِ فجر سلادیا
نیکی سے ہٹا کر مجھے
گناہ میں لگادیا
نہ ملنے دیا اسنے نور مجھے
اندھیرے میں پھسادیا
اپنی جھوٹ کی ہوا سے اسنے
سچ کا دیا ہی بجھادیا
پرھنے نا دی اسنے نماز
مجھے غفلت میں لگادیا
اب وہ ہنس رہا ہے مجھ پر
اسنے پھر مجھے ہرا دیا

از خدیجہ نور

Khani abhi baqi hai by Khadija Noor







زمانہ جہالت سے
صراط مستقیم تک
یہ کہانی
ابھی باقی ہے
تم چلے تو گئے
لیکن تم لوٹ کر آؤگے
تیرا مجھ پر ظلم کرنا
ابھی باقی ہے
چوڑیاں ٹوٹ گئیں
کانچ بکھر گیا
تیرا مجھے زخم دینا
ابھی باقی ہے
تم کہتے ہو مجھسے سوال کروگے
مجھے بھی انتظار ہے
تمہارا میرا حساب
ابھی باقی ہے
گناہ گزر گیا
لذت ختم ہوگئی
سزا و جزا
ابھی باقی ہے
تم کہتے ہو
میں چھوٹی ہوں
اس سچ کا سامنے آنا
ابھی باقی ہے
راہیں جو تھیں جداجدا
اب سیدھی راہ مل گئی
منزلوں کا ملنا
ابھی باقی ہے
تازہ پھول
مرجھا کر
پھر کھل اٹھے
موسم کا دوباره بدلنا
ابھی باقی ہے
جنگ بدر ہو
یا جنگ احزاب
اس ممتحنہ کی آزمائش
ابھی باقی ہے
جو خواب تھا
وہ ختم ہوگیا
لیکن تعبیر
ابھی باقی ہے
تیری انتہا
گزر چکی
میرا ضبط
ابھی باقی ہے
تم خود کو
حاکم سمجھتے ہو
تمہیں آئینہ دکھانا
ابھی باقی ہے
زنجیریں ٹوٹ گئیں
دروازے کھل گئے
میرا اس پنجرے سے نکلنا
ابی باقی ہے
زمانہ جہالت سے
صراط مستقیم تک
یہ کہانی
ابھی باقی ہے

از خدیجہ نور

Friday, 1 February 2019

Waqt by Khadija Noor,







وقت وقت کی بات ہے
وقت ہی بتائے گا
تم صبر کرلو
یہ وقت بھی گزر جائیگا
جو ہوگیا، وہ ہوگیا
وقت وہ بدل نہ پائیگا
اس وقت تم خوش رہو
یہ وقت پھر نہیں آئیگا
وقت کی لگے گی عدالت
فیصلہ وقت سنائے گا
جس وقت کھلے گی حقیقت
وہ وقت بھی ضرور آئےگا


از خدیجہ نور






Thursday, 17 January 2019

Hajoom ki zaroorat nahe by Khadija Noor

ہجوم کی ضرورت نہیں دل کو آباد کرنے کے لیے
اک گل ہی کافی ہے زندگی گلزار کرنے کے لیے


از خدیجہ نور

Wednesday, 2 January 2019

Gham nahe mujhe by Khadija Noor


غم نہیں مجھے میں نے کچھ نہیں کھویا
پالیامیں نےسب کچھ صرف ایک شخص چھوڑکر

Khawab by Khadia Noor


سب خواب اسکے چھوڑ دیئے
سارے وعدے توڑ دیئے
ان چوڑیوں نے زنجير بن کرو
ہاتھوں پہ میرے زخم چھوڑ دیئے

از خدیجہ نور