کیا محبت کرنے لگے ہو؟
جیسے
ڈھلتا ہے دن پچھم میں
تم
بھی ایسے ڈھلنے لگے ہو
سوکھے
ہوئے پتوں کی طرح
تم
بھی بکھرنے لگے ہو
کیا
محبت کرنے لگے ہو؟
یہ
راہ اتنی آسان نہیں
تم
کیوں الجھنے لگے ہو
منزل
کا تمہیں علم نہیں
پھر
بھی چلنے لگے ہو
کیا
محبت کرنے لگے ہو؟
کھلتے
ہوئے گلاب جیسے
تم
بھی کھلنے لگے ہو
سمندر
کی لہڑوں کی مانند
تم
مجھ سے ملنے لگے ہو
کیا
محبت کرنے لگے ہو؟
یہ
عشق تو مثلِ دلدل ہے
تم
اس میں پھسنے لگے ہو
سارے
غموں کو بھلا کر
تم
پھر سے ہنسنے لگے ہو
کیا
محبت کرنے لگے ہو؟
توڑ
کر حدیں ساری
تم
وفائیں کرنے لگے ہو
رب
کے آگے سجدہ کرکے
تم
دعائیں کرنے لگے ہو
کیا
سچ میں محبت کرنے لگے ہو؟
از خدیجہ نور