You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Showing posts with label Faiqa Farhat Raiz. Show all posts
Showing posts with label Faiqa Farhat Raiz. Show all posts
Friday, 31 August 2018
Saturday, 25 August 2018
Mere khawab lota do na by Faiqa Farhat Riaz
میرے
خواب لوٹا دو نا
مجھے
اتنی سزا نہ دو
میں
جو درد نہ سہہ سکوں تاعمر
وہ
درد مجھے نہ دو
میرا
مرض لاعلاج ہے
مجھے
اب کوئی دوا نہ دو
غم
جھیل چکی ہوں میں
مجھے
اب کوئی خوشی لادو
جینے
کی اُمنگ لا دو
ہر
سُو اندھیرا ہے
چھائی
کالی گھٹائیں ہیں
اور
غم کا واویلا ہے
اک
عرصہ بیتا ہے
میں
کُھل کے نہیں ہنسی
دو
گیت سُنا دو نا
مجھے
دل سے ہنسا دو نا
ہر
غم بُھلا دو نا
آنکھوں
میں نمی ہے بہت
کسی
شے کی کمی ہے بہت
میری
روشن راہیں
کہاں
مفقود ہوئی ہیں
کوئی
شمع جلا دو نا
مجھے
راہ دِیکھا دو نا
میرا
حوصلہ بڑھا دو نا
مجھے
جینے کا قرینہ
کوئی
آخر سیکھا دونا
میرے
خواب لوٹا دو نا۔۔۔!
فائقہ
فرحت ریاض
Tuesday, 14 August 2018
yadon ke samundar mein dooba hoa tara by Faiqa Farhat Riaz
یادوں کے سمندر میں ڈوبا ہوا تارا
گُزرے ہوئے لمحوں کی یادوں کا بہاوا
خوابوں میں آنا کبھی خیالوں میں آجانا
آکر ہمیں اپنائیت کا احساس دلانا
آنسوں کے آبشار میں تو ہے ہم کو نہانا
تم تو وہاں خُشیوں کے شادیانے بجانا
ہم دور ہو گئے ہیں ہمیں بھول نہ جانا
برسوں کا ساتھ ہے تم چھوڑ نہ جانا
ہمارے نرم سے دل کو یونہی توڑ نہ جانا
تمہاری یاد ہمیں اب بھی پہروں رُلاتی ہے
تمہاری قدر ہمارے دل میں اب بھی باقی ہے
دُنیا جب زخم دیتی ہے تو مرہم تم ہی ہوتے ہو،
آنکھیں جب برستی ہیں تو پونچھا تم ہی کرتے ہو
درد جب بے تحاشا ہو دوا تُم ہی ہوتے ہو
نہیں شکوہ تمہی سے نہ ہے کوئی شکایت بھی
فقط اک ہی تمنا ہے۔۔۔
ہم دور ہو گئے ہیں ہمیں بھول نہ جانا!
فائقہ
فرحت ریاض
Mein soch rahi hon ke by Faiqa Farhat Riaz
میں سوچ رہی ہوں کہ
آنکھوں میں جو آنسو ہیں
انکی ہے خبر کس کو۔۔۔؟
اس دل پہ ہے جو بیتی
اسکی ہے خبر کس کو۔۔۔؟
اس بےحس زمانے میں
کس کو ہے خبر میری۔۔۔؟
میرا کانچ سے نازُک دل
میرے جیسوں نے ہی توڑا
میں ٹوٹ گئی تھی جب
میرے جیسوں نے بکھیرا پھر
میں سوچ رہی ہوں کہ
جب وقت بدل جائے
تو کیوں لوگ بدلتے ہیں
کیا خبر کسی کو ہے۔۔۔؟
میں نے خواب جو دیکھے ہیں
مجھے انکو پرونا ہے
تعبیر کے دھاگوں میں
میں کانچ کی گُڑیا ہوں
جِسے توڑتا زمانا ہے
پھر زخم جو لگتے ہیں
تکلیف جو ہوتی ہے
ان رستے زخموں کی
اسکی ہے خبر کس کو۔۔۔؟
لوگوں کے لہجوں کو
میں نے پرکھ کے دیکھا ہے
جہاں سختی غضب کی ہے
یہ دور ہی ایسا ہے
جہاں سبکی زبانیں ہی زہر اُگلتی ہیں
دل سب کے ہی دیکھے ہیں
نفرتوں میں جو ڈوبے ہیں
میں سوچ رہی ہوں جو
کیا خبر کسی کو ہے۔۔۔؟
فائقہ فرحت ریاض
Saturday, 4 August 2018
Rootha rootha hay naseeb by Faiqa Farhat Riaz
روٹھا
روٹھا ہے نصیب
روٹھی
روٹھی ہر خوشی
کیوں
چھائی ہے اُداسی
کیوں
چھائی بے بسی
اس
قفس میں ہوں میں تنہا پڑی
نہ
کوئی ہنسی نہ کوئی خوشی
روٹھا
روٹھا ہے نصیب
روٹھی
روٹھی ہر خوشی
چاند
تاروں کو پہروں میں تکتی رہی
رات
دن میں یونہی سسکتی رہی
چاند
ہنستا رہا اور میں روتی رہی
رات
گاتی رہی اور میں سوتی رہی
روٹھا
روٹھا ہے نصیب
روٹھی
روٹھی ہر خوشی
آشنا
کو تھامے میں چلتی رہی
وہ
بڑھ گیا میں بھٹکتی رہی
قفلے
تھے جو ساتھ میرے چل پڑے
جانبِ
منزل وہ رواں ہوگئے
میں
گُم سُم کھڑی بچھڑتی رہی
میری
منزل کہاں تھی مجھے خبر ہی نہیں
روٹھا
روٹھا ہے نصیب
روٹھی
روٹھی ہر خوشی
میں
اُس قید میں تھی تنہا پڑی
جہاں
اپنا بھی' کوئی اپنا نہیں
میں
کسی سے شکایت کیوں کرتی
کہ
یہ تھا میرا نصیب۔۔۔!
میرے
ہاتھوں پر لکھی تقدیر
میرے
چہرے پر لکھی تحریر
یہ
تھا میرا نصیب۔۔۔!
روٹھا
روٹھا ہے نصیب
روٹھی
روٹھی ہر خوشی۔۔۔!!!
فائقہ
فرحت ریاض
meri shanakht by Faiqa Farhat Riaz
"میری شناخت"
اپنی
ذات پہ تنہائی کا لباس رکھتی ہوں
میں
خاص پھول ہوں
رنگ
بھی خاص رکھتی ہوں
اپنے
لبوں پہ چُپ کی چھاپ رکھتی ہوں
میں
انمول ہوں،
ادائیں
بھی انمول رکھتی ہوں۔۔۔
اپنا
ہر درد زمانے سے چُھپا رکھتی ہوں
میں
حساس ہوں،
دل
بھی حساس رکھتی ہوں۔۔۔
اپنی
آنکھوں کو آنسوں کے سمندر سے
بھرا
رکھتی ہوں۔۔۔۔،
میں
گہری ہوں،
جذبات
بھی گہرے رکھتی ہوں۔۔۔
اپنے
آپکو خُشبو میں بسا رکھتی ہوں
میں
مُخلص ہوں،
انداز
بھی مُخلصانہ رکھتی ہوں۔۔۔
اپنا
خلقہ فقط چند تک محدود رکھتی ہوں
میں
مُختلف ہوں،
مزاج
بھی مُختلف رکھتی ہوں۔۔۔
اپنی
ذات کو ہر عام سے جُدا رکھتی ہوں
میں
بے داغ ہوں،
دامن
بھی بے داغ رکھتی ہوں۔۔۔
اپنے
خوابوں کی پرواز بُلند رکھتی ہوں
میں
نایاب ہوں،
اِس
بات کا یقین رکھتی ہوں۔۔۔!
فائقہ
فرحت ریاض
Wednesday, 25 July 2018
Sapny by Faiqa Farhat Raiz
روتی روتی آنکھوں میں کیوں اتنے سارے سپنے تھے
آس کا دامن کیوں چھُوٹا تھا
دل بھی اتنا کیوں ٹوٹا تھا
توڑ بھی دو اب آس کی مالا
آس بھری اِن آنکھوں میں
دیکھو کتنے سارے سپنے ہیں
کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی
آنسو بہتے رہتے ہیں
رات اندھیری چھا گئی تھی
سارے جُگنو چُرا گئی تھی
کس سے آس لگاتے ہم۔۔۔؟
کس کے در پر جاتے ہم۔۔۔؟
کِسے بھید بتاتے ہم۔۔۔؟
کیسے درد چُھپاتے ہم۔۔۔؟
غم کی تنہا وادی میں کیوں
صرف میرے آنسو بہتے تھے
کیوں بہہ کے بے مول ہوتے تھے
روتی روتی آنکھوں میں کیوں اتنے سارے سپنے تھے۔
-----------------------------------------------------------
شاعرہ: بنت فرحت ریاض عنایت اللہ
آس کا دامن کیوں چھُوٹا تھا
دل بھی اتنا کیوں ٹوٹا تھا
توڑ بھی دو اب آس کی مالا
آس بھری اِن آنکھوں میں
دیکھو کتنے سارے سپنے ہیں
کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہی
آنسو بہتے رہتے ہیں
رات اندھیری چھا گئی تھی
سارے جُگنو چُرا گئی تھی
کس سے آس لگاتے ہم۔۔۔؟
کس کے در پر جاتے ہم۔۔۔؟
کِسے بھید بتاتے ہم۔۔۔؟
کیسے درد چُھپاتے ہم۔۔۔؟
غم کی تنہا وادی میں کیوں
صرف میرے آنسو بہتے تھے
کیوں بہہ کے بے مول ہوتے تھے
روتی روتی آنکھوں میں کیوں اتنے سارے سپنے تھے۔
-----------------------------------------------------------
شاعرہ: بنت فرحت ریاض عنایت اللہ
Farz by Faiqa Farhat Raiz
آؤ آڑ کے پار چلیں
تھوڑی ہمت تھوڑا حوصلہ کریں
ٹھوکروں سے گریں' پھر گِر کر اُٹھیں
مخالفوں کو ہارا کر چلیں
ہر غم کو بُھلا کر چلیں
بے کسوں کا سہارا بنیں
سب کا روشن ستارہ بنیں
ہر دُکھ کی دوا ہم بنیں
اک پُختہ عزم ہم کریں
اپنا فرض ہم نبھانے چلیں
ظلم کو ہم دبانے چلیں
قائد کا ملک بچانے چلیں
انجام سے نہ ڈریں
آؤ آڑ کے پار چلیں۔
----------------------------------------------------------
شاعرہ: بنت فرحت ریاض عنایت اللہ
تھوڑی ہمت تھوڑا حوصلہ کریں
ٹھوکروں سے گریں' پھر گِر کر اُٹھیں
مخالفوں کو ہارا کر چلیں
ہر غم کو بُھلا کر چلیں
بے کسوں کا سہارا بنیں
سب کا روشن ستارہ بنیں
ہر دُکھ کی دوا ہم بنیں
اک پُختہ عزم ہم کریں
اپنا فرض ہم نبھانے چلیں
ظلم کو ہم دبانے چلیں
قائد کا ملک بچانے چلیں
انجام سے نہ ڈریں
آؤ آڑ کے پار چلیں۔
----------------------------------------------------------
شاعرہ: بنت فرحت ریاض عنایت اللہ
Dil by Faiqa Farhat Raiz
سہما سہما ڈرا سا رہتا ہے
جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے
بُجھا بُجھا سا چراغ رہتا ہے
جانے کیوں دل اُداس سا رہتا ہے
سایہ ہر سُو خزاں کا رہتا ہے
جانے کیوں بہاروں سے دور رہتا ہے
اُجڑا اُجڑا ویران سا رہتا ہے
جانے کیوں ہر شخص پشیماں سا ریتا ہے
ذرّہ ذّرہ جُدا سا رہتا ہے
جانے کیوں ہر اک خفا سا رہتا ہے۔
-------------------------------------------------------
شاعرہ: بنت فرحت ریاض عنایت اللہ
جانے کیوں جی بھرا سا رہتا ہے
بُجھا بُجھا سا چراغ رہتا ہے
جانے کیوں دل اُداس سا رہتا ہے
سایہ ہر سُو خزاں کا رہتا ہے
جانے کیوں بہاروں سے دور رہتا ہے
اُجڑا اُجڑا ویران سا رہتا ہے
جانے کیوں ہر شخص پشیماں سا ریتا ہے
ذرّہ ذّرہ جُدا سا رہتا ہے
جانے کیوں ہر اک خفا سا رہتا ہے۔
-------------------------------------------------------
شاعرہ: بنت فرحت ریاض عنایت اللہ
Bhool by Faiqa Farhat Raiz
"پھول"
اک پھول تھا پیارا پیارا سا
نازک سا ناتواں سا
مہکتا تھا مہکاتا تھا
دل کو میرے ہر چند ہی وہ بھاتا تھا
نہ جانے شجر کی کس ٹہنی سے آیا تھا
میں نے تو اُسے فرشِ گُل سے پایا تھا
اک لمہہ دوپل اُس نے ساتھ نبھایا تھا
پھر نہ جانے کس کے ہاتھوں کٹ کے خاک پہ آیا تھا
سُرخ سی رنگت تھی جس کی اُس گلاب پہ خاک کا سایہ تھا
پھر جب وہ میرے ہاتھوں سے ٹکرایا تھا
مجھے اُس کا تازہ سا وہ چہرہ یاد آیا تھا
چاہتی تھی اک بار دوبارہ مل جائے
کوئی پھول کی مانند سہارا مل جائے
مجھے تنہائی سے بڑا ہی خوف آتا تھا
وہ پھول میری تنہائیوں کو مٹاتا تھا
اک پھول تھا پیارا پیارا سا
اک پھول تھا پیارا پیارا سا۔۔!
---------------------------------
شاعرہ:فائقہ فرحت ریاض عنایت اللہ
اک پھول تھا پیارا پیارا سا
نازک سا ناتواں سا
مہکتا تھا مہکاتا تھا
دل کو میرے ہر چند ہی وہ بھاتا تھا
نہ جانے شجر کی کس ٹہنی سے آیا تھا
میں نے تو اُسے فرشِ گُل سے پایا تھا
اک لمہہ دوپل اُس نے ساتھ نبھایا تھا
پھر نہ جانے کس کے ہاتھوں کٹ کے خاک پہ آیا تھا
سُرخ سی رنگت تھی جس کی اُس گلاب پہ خاک کا سایہ تھا
پھر جب وہ میرے ہاتھوں سے ٹکرایا تھا
مجھے اُس کا تازہ سا وہ چہرہ یاد آیا تھا
چاہتی تھی اک بار دوبارہ مل جائے
کوئی پھول کی مانند سہارا مل جائے
مجھے تنہائی سے بڑا ہی خوف آتا تھا
وہ پھول میری تنہائیوں کو مٹاتا تھا
اک پھول تھا پیارا پیارا سا
اک پھول تھا پیارا پیارا سا۔۔!
---------------------------------
شاعرہ:فائقہ فرحت ریاض عنایت اللہ
Subscribe to:
Comments (Atom)







