affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Wednesday, 1 June 2016

جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا


جو دل میں ہے، آنکھوں کے حوالے نہیں کرنا
خود کو کبھی خوابوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس عمر میں خوش فہمیاں اچھی نہیں ہوتیں
اِس عمر کو وعدوں کے حوالے نہیں کرنا

تم اصل سے بچھڑا ہوا اک خواب ہو شاید
اس خواب کو یادوں کے حوالے نہیں کرنا

اب اپنے ٹھکانے ہی پہ رہتا نہیں کوئی
پیغام پرندوں کے حوالے نہیں کرنا

دنیا بھی تو پاتال سے باہر کا سفر ہے
منزل کبھی رستوں کے حوالے نہیں کرنا 

اب کے جو مسافت ہمیں درپیش ہے اس میں
کچھ بھی تو سرابوں کے حوالے نہیں کرنا

جس آگ سے روشن ہوا احساس کا آنگن
اس آگ کو اشکوں کے حوالے نہیں کرنا

دیکھا نہیں اس فقر نے کیا کر دیا تم کو
اس فقر کو شاہوں کے حوالے نہیں کرنا

اِس معرکۂ عشق میں جو حال ہو میرا
لیکن مجھے لوگوں کے حوالے نہیں کرنا

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

 
جو دل گلاب ہیں زخموں سے بھر نہ جائیں کہیں

ابھی تو وعدہ و پیماں اور یہ حال اپنا

 
وصال ہوتو خوشی سے ہی مر نہ جائیں کہیں

 

یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی آنکھوں کے

 
ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں کہیں

 

جھلک رہا ہے جن آنکھوں سے اب وجود مرا

 
یہ آنکھیں ہائے یہ آنکھیں مکر نہ جائیں کہیں

 

پکارتی ہی نہ رہ جائے یہ زمیں پیاسی

 
برسنے والے یہ بادل گزر نہ جائیں کہیں

 

نڈھال اہلِ طرب ہیں کہ اہلِ گلشن کے

 
بجھے بجھے سے یہ چہرے سنور نہ جائیں کہیں

 

فضائے شہر عقیدوں کی دھند میں ہے اسیر

 
نکل کے گھر سے اب اہلِ نظر نہ جائیں کہیں

تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے



 تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے

تو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا

 
بےنیازی سے مگر کانپتی آواز کے ساتھ 
تو نے گھبرا کے میرا نام نہ پوچھا ہوتا

 
تیرے بس میں تھی اگر مشعل جذبات کی لو
تیرے رخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا

 
یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب وہوا کی باتیں
اپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو تو پرکھا ہوتا

 
یونہی بے وجہ ٹھٹھکنے کی ضرورت کیا تھی
دم رخصت اگر یاد نہ آیا ہوتا

 
تیرا غماز بنا خود تیرا اندازِ خرام 
دل نہ سنبھلا تھا تو قدموں کو سنبھالا ہوتا

 
اپنے بدلے میری تصویر نظر آجاتی 
تُو نے اُس وقت اگر آئینہ دیکھا ہوتا

 
حوصلہ تجھ کو نہ تھا مجھ سے جُدا ہونے کا
ورنہ کاجل تیری آنکھوں میں نہ پھیلا ہوتا

کیسا چپ چپ تھا مرے عزم سفر کو دیکھ کر​

کیسا چپ چپ تھا مرے عزم سفر کو دیکھ کر​

ڈر گیا میں اخری بار اپنے گھر کو دیکھ کر​

میرے سر اس چار دیواری کے کتنے قرض تھے​

سر جھکا جاتا تھا ان دیوار و در کو دیکھ کر​

شہر سے رخصت کے منظر کا بھی اپنا کرب تھا​

دل لہو روتا تھا اک اک رہ گزر کو دیکھ کر​

کیا عمارت تھی کہ جس کو وقت غارت کر گیا​

انکھ بھر آئی ہے خواہش کے کھنڈر کو دیکھ کر​

جو ملا پہلے وہی بھوکی نظر میں جچ گیا​

میں نے کب چاہا تھا اس کو، شہر بھر کو دیکھ کر​

خود غرض دل کی خواہش جان لے لے گی ریاض​

خود پہ رحم آتا ہے اپنے ہمسفر کو دیکھ کر​

میں لغزشوں سے اٹے راستے پہ_____چل نکلا

 

میں لغزشوں سے اٹے راستے پہ_____چل نکلا


تجھے گنوا کے مجھے پھر کہاں سنبھلنا تھا


( محسن نقوی)

تم بہت خاص ہو

 

تم میری روح کی آواز ہو

 
تم بہت خاص ہو

______
جستجو میں تھی تیری تمنا کب سے

 
اک خوشبو میں لپٹا راز ہو

 
تم بہت خاص ہو

_______
تیری ہر بات پہ دل دھڑک جاتا ہے

 
تم میری ذات کا آغاز ہو

 
تم بہت خاص ہو

_______
تمہارے دم سے ہے ستاروں میں گردشوں کو دوام

 
کہکشاؤں کا اک انداز ہو

 
تم بہت خاص ہو

________
تمہارے لفظ میری سوچ میں سمائے ہیں

 
روح کا دلفریب ساز ہو

 
تم بہت خاص ہو

________
ماورا ماورا ہو پھر بھی دل میں بستے ہو

 
اک حقیقت بھرا مجاز ہو

پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیا​

 

پوچھا صدف تو آنکھ جھکا کر دکھا دیا

پوچھا گوہر تو اشک بہا کر دکھا دیا

پوچھا کہ اتنے پھول بہاروں میں کس طرح

اس نے عدیم خود کو ہنسا کر دکھا دیا

پوچھا کہ شب کو چاند نکلتا ہے کس طرح

رخ سے نقاب اس نے ہٹا کر دکھا دیا

پوچھا کہ آفتاب کو چھاؤں کبھی ملی

بالوں کو اس نے رخ پہ گرا کر دکھا دیا

پوچھا کہاں سے آئی دھنک آسمان پر

آنچل ہوا میں اس اڑا کر دکھا دیا

پوچھا کے حوض شب میں کیا غسل نور بھی

تب اس نے چاندنی میں نہا کر دکھا دیا

پوچھا کہ مجھ کو وعدہ شکن کہہ دیا ہے کیوں

اس نے عدیم خط میرا لا کر دکھا دیا

 

 عدیم ہاشمی

اسطرح نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ھیں

اسطرح نہیں کرتے، رابطہ تو رکھتے ھیں

تھوڑا ملنے جلنے کا سلسلہ تو رکھتے ھیں

 

منزلیں بلند ہوں تو مشکلیں بھی آتی ھیں

مشکلوں سے لڑنے کا حوصلہ تو رکھتے ھیں

 

جو تمہارے اپنے ہوں، تم سے پیار کرتے ہوں

ان کا حال کیسا ھے، کچھ پتہ تو رکھتے ھیں

 

دوستی کے رشتے کو توڑتے نہیں ایسے

روٹھے دوستوں سے بھی واسطہ تو رکھتے ھیں

 

چھوڑ جانے والے اکثر لوٹ کے بھی آتے ھیں

ان کے لوٹ آنے کا راستہ تو رکھتے ھیں..

بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں

بھلا کیا پڑھ لیا ہے اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
کہ اس کی بخششوں کے اتنے چرچے ہیں فقیروں میں

کوئی سورج سے سیکھے، عدل کیا ہے، حق رسی کیا ہے
کہ یکساں دھوپ بٹتی ہے، صغیروں میں کبیروں میں

ابھی غیروں کے دکھ پہ بھیگنا بھولی نہیں آنکھیں
ابھی کچھ روشنی باقی ہے لوگوں گے ضمیروں میں

نہ وہ ہوتا، نہ میں اِک شخص کو دل سے لگا رکھتا
میں دشمن کو بھی گنتا ہوں محبت کے سفیروں میں

سبیلیں جس نے اپنے خون کی ہر سو لگائی ہوں
میں صرف ایسے غنی کا نام لکھتا ہوں امیروں میں

بدن آزاد ہے، اندر میرے زنجیر بجتی ہے
کہ میں مختار ہو کر بھی گنا جاؤں اسیروں میں

احمد ندیم قاسمی