affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Tuesday, 11 June 2019

Tm gharatgar ho by Khadija Noor


تم گارت گر ہو
اور بھول چکے ہو
اپنی آخرت
اور شکار کرتے ہو
معصوم جانو کا
تم نے زینب جیسی کلی کو
اجاڑ دیا
اور فرشتہ کو
ختم کردیا
تم مسل دیتے ہو
معصوم لڑکیوں کو
اور سمجھتے ہو
ہمیں چیونٹیاں
لیکن
میں تمہیں بتاؤں
کہ ہم لڑکیاں
چیونٹیاں ہی ہیں
اور جب کھڑی ہوجائیں گی
لاکھو زینب اور فرشہ
ہاتھ میں ہاتھ ڈالے
تب ہم چیونٹیوں کی
اک فوج بن جائے گی
اور پھر
ہم نہیں چھوڑیں گی
تمہاری گلی ہوئی
ہڈیاں بھی۔۔۔۔
ازقلم: خدیجہ نور

School ka zamana by Khadija Noor


اسکول کا زمانہ
وہ زور زور ہنسنا
دیکس پر سر رکھ کر رونا
وہ روٹھنا، منانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                        کاش پھر اسکول جاؤں....
دوستوں کی غیبتیں
ٹیچرز کی برائیاں
پرنسپل کا مزاق اڑانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ بریانی کی آرزو
وہ میکرونی کی خوشبو
امرود اور چاٹ مصالحہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ کاغذ کا جہاز
وہ بادشاہ کا وزیر
کبھی پہیلیاں سلجھانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                         میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ ٹیچر کی ڈانٹ
وہ پرنسپل کا خوف
وہ چھٹی کرنے کا بہانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          کاش پھر اسکول جاؤں....
کبھی انک، کبھی پانی
دوستوں پر ڈالنا
پھر چغلیاں لگانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                       میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ آڑی ترچھی لکیریں
وہ چارسوبیس کا ٹیگ
شرٹ پر چپکانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ کیمسٹری کے numericals
 اور انگلش کے tenses
کا سر سے گزر جانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ ایگزام کی ٹینشن
وہ رٹے لگانا
اور پھرے بنانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ بریک ٹائم کی مستی
وہ چھٹی کا انتظار
وہ صبح کا ترانہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ لاسٹ ڈے کا رونا
اور روتے ہوئے ہنسنا
اور ہنستے ہوئے گنگنانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                        کاش پھر اسکول جاؤں....
ان حسین پلوں کی یادیں
وہ ٹیچرز کا پیار
وہ دوستوں کا یارانہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                       میں کیسے بھول جاؤں؟ 
از قلم : خدیجہ نور

Saturday, 8 June 2019

Tum mujh ko bula lena by Kainat Khurshid Abbasi


نظم: تم مجھ کو بلا لینا
کائنات خورشید عباسی
آنکھوں کے کناروں پہ کچھ خواب سجا لےنا
میں آج بھی ویسی ہوں تم مجھ کو بلا لےنا

یوں تو ہو جاتی ہےخیالوں میں ملاقاتیں
جو حسرت باقی ہو تم مجھ کو بلا لےنا

کوئی بات جو کہنی ہو گر دل میں تلافی ہو
بس اک صدا لگا لےنا تم مجھ کو بلا لےنا

میں آج بھی ویسے ہی منتظر ہوں تمھاری
اک شام پلٹ آنا تم مجھ کو بلا لےنا
**********************


Wednesday, 5 June 2019

Meri chahaton ka hisab na kr by Ghazal Rehmn

میری  چاہتوں  کا حساب  نہ کر
میری  وفاؤں  پر  سوال  نہ  کر

دل   میں  اپنے  کھوٹ  لے  کر
میری  اذیتوں  پر  ملال  نہ  کر

مجھے تیرے ساتھ کی چاہ نہیں 
سو تو جھوٹے عہدو پیماں نہ کر

مجھے  تیری جفائیں قبول نہیں 
وفا  کے  روپ میں  اب دغا نہ کر 

دل شکستہ سہی لیکن زندہ ہے 
تو   اپنی  جیت   پہ  مان  نہ  کر

یہ دنیا فریب کی دنیا ہے اے دل
یہاں  ہر  کسی  پہ اعتبار  نہ کر

Udaas Tar Sham by Tanzeel Shakar









Sunday, 2 June 2019

Adaen to hum me bhi boht hen by ulfat rehmat

اداےء تو ہم میں بھی بہت ہے 
مگر مغرور فطرت سمجھ کر
اکثر حسن ادا ترک کر دیتے ہے

Monday, 27 May 2019

Poery by Muhammad Nadeem Qasir










Meri khawish by Naqsh e Iqra














Naat by Muhammad Nadeem qasir











Zindagi or log by Muhammad Atif












Muhabbat or narsai by Sana Hafeez









محبت دے یا نارساٸ دے، بس,
کھبی نہ تو احساسِ تنہاٸ دے,
جس طوفان میں الجھی ہے میری ذات,
اےکاش! تجھے بھی وہ سناٸ دے,
محبت سے بھی جیت نہ پاۓ جسے دل,
تو کبھی نہ اسے محبت کی خداٸ دے,
ہاتھ لگاتے ہی بھر جاٸیں گھاٶ سارے,
اے خدا! ایسی ہی کوٸ مسیحاٸ دے,
محبت ممنوع ہے قانونِ دنیا میں,
ایسے میں کون محبت کی گواہی دے,
اپنے بھی ملتے ہیں اجنبی بن کے,
اے خدا! کہیں تو سچی شناساٸ دے,
اچھا ہے محرومِ بصارت ہی رہے,
وہ جسے دل کی خوبصورتی بھی نہ دیکھاٸ دے,
وہ جس سے تعلق تھا محض چند لمحوں کا,
ہاتھ کی لکیروں میں کیسے وہ دیکھاٸ دے,
دلوں کے بھید تو فقط جانتا خدا ہے ثنا ٕ,
جو ظاہر ہے تجھے تو وہ بھی نہ دیکھاٸ دے۔۔۔۔

By Sana Hafeez

Khawab by Khadija Noor







ایک خواب مجھ کو ستاتا ہے
جو روز رات کو آتا ہے
اٹھتا ہے دل میں خوف سا
جو مجھے بہت ڈراتا ہے
میں ڈر کر سہم جاتی ہوں
وہ سایہ نظر جب آتا ہے
وہ چھوڑتا نہیں ہے مجھے کبھی
وہ ہر طرف چھا جاتا ہے
گرتے ہیں آنکھ سے آنسو
وہ مجھے بہت رلاتا ہے
خوف سے چونک جاتی ہوں
جب وہ آہٹیں سناتا ہے
جو خنجر سے ٹپکتا ہے
وہ خون مجھے دکھاتا ہے
یہ خواب حقیقت نہ ہوجائے
یہ خیال خوف دلاتا ہے

از خدیجہ نور

Mein kon hon by Khadija Noor







تم مجھ سے سوال کرتے ہو
میں کون ہوں؟
تم کو لگتا ہے
تم جانتے ہو مجھے
لیکن میں تم کو بتاؤں
تم مجھے نہیں جانتے
میں کوئی شہزادی نہیں ہوں
نہ میں کوئی حور ہوں
میں ایک عام لڑکی ہوں
میں ایک شہد کی مکھی ہوں
جو بناتی ہے اپنا گھر
دور پہاڑوں پر
جہاں کوئی میری عزت تک
 نہ پہنچ سکے
میں بناتی ہوں اپنا گھر
درختوں پر
جہاں ہوتا ہے سکون
میں بناتی ہوں اپنا گھر
اونچی چھتوں پر
تاکہ تم کو پتا چلے
میری سوچ چھوٹی نہیں ہے
اور میں کھاتی ہوں
ﷲ کا دیا ہوا زرق
اور کرتی ہوں پھر شکر
اور بناتی ہوں شہد
جس میں شفا ہے لوگوں کے لئے
میں اپنا کام کرتی ہوں
بغیر کسی لالچ کے
جس کے لئے ﷲ نے
تخلیق کیا مجھے
میں سب کو دیتی ہوں
میٹھا شہد
لیکن تم یہ مت سمجھو
کہ میں کمزور ہوں
یا تم مجھے مسل سکتے ہو
اپنی حوس میں
کیونکہ تم بھول بیٹھے ہو
کہ جب کوئی مجھے
ناحق ستاتا ہے
تو ﷲ نے دی ہے مجھے
میری حفاظت کی چیز
اور جب تم مجھے
تنگ کروگے تو
مین لے سکتی ہوں
 تمہاری جان بھی  ۔۔۔

از قلم :خدیجہ نور

Ishq by Majid Somra






 معصوم بھی نہیں ہوں ظالم بھی نہیں ہوں
جانتا ہوں کہ میں تیرے قابل بھی نہیں ہوں
                حسن والے جب چاہیں اپنا لیں مھجہ کو
                   میں اس بات پر قائل بھی نہیں ہوں
یہ جو تیری مدہوش آنکھوں میں نمی سی ہے
جانتا ہوں کس کے لیے ہےجاہل بھی نہیں ہوں
                  عشق کی پیاس لیے میرے پاس مت آنا
                    مین عشق سمندر کا ساحل بھی نہیں ہوں
میری سادگی کو دیکھ کر ٹھکرا دیا مھجہ کو
غریب ضرور ہوں پر سائل بھی نہیں ہو ں
 Majid somra

Bhool by Aqsa Mubeen










اذیتوں کی مثال دے کر
رنجشوں کا ملال دے کر
درد کی رُت کمال دے کر
مصیبتوں کی شراب دے کر
یوں درد سارے اُدھار دے کر
وہ بھول بیٹھا سَراب دے کر۔۔۔
حماقتوں کی صداقتوں میں
زندگی کی مہاوتوں میں
شباب کے رنگ اُدھار لے کر
وہ بھول بیٹھا سَراب دے کر۔۔۔
درد کا کوٸ محور نہیں
کوٸ آشنا کوٸ ہمدم نہیں
زندگی کی کتاب دے کر
وہ بھول بیٹھا سَراب دے کر۔۔۔


از  
      اقصٰی مبین

Thursday, 23 May 2019

Insan by Muhammad Nadeem Qasir












Arzo by Sadia Naz










نہ شہزادو کی نہ بادشاہوں کی طلب ہے مجھ کو💞
🌹ناز🌹
💞جو پاکیزہ ہو وہ میرا ہو بس یہ آرزو ہے مجھ کو💞

Sawan by Sadia Naz










برس رہا ہے آج ساون زورو شور سے💞

💞لگتا ہے آسمان محبوب سے مل کر آیا ہے💞

Suljhi baten by Sadia Naz










اتنا الجھ کر سُلجھی ہوٸ باتیں نہی کیا کروں💞
🌹ناز🌹

💞ہم اکثر الجھ سے جاتے ہیں ان سُلجھی ہوٸ باتوں میں💞

Muhabbat by Sadia Naz










مانا کے تمہیں ہم سے محبت نہی تھی ناز
مگر کچھ ہماری محبت کا ہی پاس رکھ لیتے
سعدیہ ناز

Aj k sham by Sadia Naz










 آج کی  "شام"  بھی گزر ہی گٸ تم بن  💞
🌹ناز🌹
💞پھر کل کے سورج کو طلوع ہونے سے کون روکتا ہے

Tum or mein by Sadia Naz










زمانہ بیت گیا تم سے ملے ہوۓناز
🌹اک زمانے سے تم مجھ میں گم ہو🌹

Uljhan by Sadia Naz









نہ زلف میں الجھے نہ لُطف میں الجھے💞
🌹ناز🌹
💞ہم تو فقط تیری سادگی میں الجھے 💞

Tery qabil ni hon mein by M.Majid Somra









معصوم بھی نہیں ہوں ظالم بھی نہیں ہوں
جانتا ہوں کہ میں تیرے قابل بھی نہیں ہوں
                حسن والے جب چاہیں اپنا لیں مھجہ کو
                   میں اس بات پر قائل بھی نہیں ہوں
یہ جو تیری مدہوش آنکھوں میں نمی سی ہے
جانتا ہوں کس کے لیے ہےجاہل بھی نہیں ہوں
                  عشق کی پیاس لیے میرے پاس مت آنا
                    مین عشق سمندر کا ساحل بھی نہیں ہوں
میری سادگی کو دیکھ کر ٹھکرا دیا مھجہ کو
غریب ضرور ہوں پر سائل بھی نہیں ہو ں

Monday, 20 May 2019

Aj k doar by Amjad Rana












Teri Rah by Amjad Rana











Teri yaad by Sana Hafeez









تیری یاد کا پیڑ,
سر سبز رہتا ہے,
موسمِ بہار میں۔۔۔۔۔
لیکن نجانے کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
دوسرے پیڑ کی طرح,
یہ جھڑتا ہی نہیں,
موسمِ خزاں میں۔۔۔۔۔۔۔۔

By Sana Hafeez

Umeed by Aqsa Mubeen









لفظوں کی زبانی جو کہے جاتے نہیں ۔۔۔۔
چہروں کی شناساٸی بتادیتی ھے۔۔۔
آنکھوں پہ جو پلکوں کی ہے چھایا سی۔۔۔
چہروں کے طلسمات چھپا دیتی ہے۔۔۔
معصوم سے ہونٹوں میں جو پنہاں تھی۔۔۔
وقت کے ظلمات سے عیاں ہوگی۔۔۔
ظلمت کے دریداروں سے کہ دو کہ۔۔۔
شبِ ظلمت بھی چھٹے گی ۔۔۔
ہمیں اُمید ہے یہ!
روشنِ سحر کا جگمگاۓ گا ستارہ بھی۔۔۔
ہمیں اُمید ہے یہ!
ہو گی صبح بھی یہاں۔۔۔
ہمیں اُمید ہے یہ۔۔۔

از    اقصٰی مبین

Ishq by Iqra Abid Cheema








عشق حقیقی لبنا 
نئ کدرے ہور وے
 بندیا 
میں اپنی 
اندرو موڑ وے
 بندیا چل کملی 
والے دے ویڑےچل ہے
 وے بندیا 
عشق حقیقی لبنا 
نئ کدرے ہور وے بندیا ....

Udas chehray by Iqra Abid










یوں نہ ملا کر اداس
چہروں سے کہیں
حسن تیرے چہرے کا
بکھر نہ جائے کہیں 

 By iqra abid cheema:

khawish by Iqra Abid Cheema










تم اپنی دوری کے قصے بھی ضرور لکھنا
جو میری آنکھ میں جلی ہے وہ حواہش بھی ضرور لکھنا ...

Yadon by Iqra Abid Cheema









یادوں  کو بھولنے کا فن
یا تو مجنون کو آتا ہے
یا کامل کو
میں  نہ مجنون نہ کامل
تو ہی بتا میرے محسن
کیونکر تیری یادوں کو بھول جاؤ ...

 محبت جب بھی شمار کرنا
تو میری وفا بھی شمار کرنا
جو میرے حق میں آئی ہے
وہ اذیت بھی شمار کرنا ...
By iqra abid cheema


Haqeeqaton k kitab by Imama Fakhir










 جب حقیقتوں کی کتاب لکھنا
میری اداسیوں کا نصاب لکھنا

میں نے دیکھے ہر روز نئے چہرے
ایک چہرہ اور ہزار نقاب لکھنا

ملاقاتوں کا سلسلہ عجب چل نکلا
فرشتے ملتے رہے بے حجاب لکھنا

سزا کا علم، تھی عنایتوں کی خبر بھی
سو گناہ کرتے گئے بے حساب لکھنا

تم ہی تم ہو، تمہی تم ہو سخن میں
سو غزل کی داد میں لا جواب لکھنا

ہم سے جو بسر ہوئی ہے فاخرہ
زندگی نہیں اسے تم سراب لکھنا

از
          امامہ فاخرہ

Sunday, 19 May 2019

Esa kya likhon by Aani Malik









ایسا کیا لکھوں کہ
وہ پڑھتے ہی
میری طرف چلتا آئے.


Tu mery sath nahi hai by Aani Malik









تو میرے ساتھ نہیں
تو کیا ہوا
تیری دنیا میں
میری آج بھی آمد ہوتی ہے
جیسے ہی سورج ڈھلتا ہے
میرے چاند کی آمد ہوتی ہے
گہری رات کے مہکتے پھولوں میں
تیرے بدن کی خوشبو ہوتی ہے
پھر تنہائیوں کے راج میں
میری تیری بات ہوتی ہے
پھر جیسے ہی چاند جانے لگتا ہے
میرے دل کی خالی شام ہوتی ہے
تیری دنیا میں آج بھی میری
رات ہوتی ہے.

wo basa meri rooh m hai by Aani Malik










نہ وہ ہے میری زباں پہ
نہ وہ ہے میری ادا میں
اُسے کیسے بتاؤں کہ
وہ بسا ہے میری روح میں.

Umeed by AAni malik










امید کے دِیے ہاتھ میں دے کر جانے والے
ہم انہی دِیوں سے ہاتھ جلا بیٹھے.

Aanso by Aani Malik









وہ جو آنسو بہائے تھے ہم
ہجر میں
وہ مثلِ برف کے ہیں.

Chand by Aani Malik










اک آسماں کا چاند
اک میرا چاند
اک حسنِ مثال
اک حسنِ بے مثال.

Muhabbat kya hai by Aani Malik









محبت کیا ہے؟
میرئ آدھی زندگی اسی جواب کے کھوج میں گزری
پھر اب سمجھ آیا
محبت وہ جس کی کوئ حد نہ ہو
جو لا محدود ہو
پھر اسی محبت کو اپنوں اور غیروں دونوں میں تلاش کیا
لیکن یہ کیا
مجھے کہی محبت ہی نظر نہ آئ جو لا محدود ہو
ہر شخص کی محبت کہی نہ کہی آ کر ختم ہوگئ
ہر کوئ مجھے کسی نہ کسی مقام پر چھوڑ گیا
پھر اچانک وہاں سے اک دن آواز آئ
جہاں وہ رہتا ہے
کہ کیا تلاش رہا ہے؟
محبت
ہاہاہاہاہاہا
تو وہ چیز ُاس جگہ ڈھونڈ رہا
جو میں یہاں رکھی ہی نہی
یہ دنیا فانی ہے
اور جو جگہ ہے ہی فانی
میں کیسے وہاں لافانی چیز رکھ سکتا ہوں
اے انسان!تو ہمیشہ سے ہی نادان ہے
ہمیشہ اک صیح چیز غلط جگہ تلاش کرتا
تو آج سے میں اپنی تلاش روک دی
اب اس لافانی جزبے کو فانی انسانوں میں تلاش نہیں کروگی
اور لافانی صرف میرے رب کی ذات
اور صرف وہی اس لافانی جزبے کا حقدار۔
بقلم عینی‎