affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Tuesday, 19 October 2021

Shuhda e Peshawar ko salam by Muhammad Ayaz

Yad aun ga by Haseeb Naz

وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ اداسی کب یہ کم ہو گی؟

میں بولا جب کبھی غم میں میں تم کو یاد آؤں گا!!

 

وہ مجھ سے پوچھتی ہے رات کو تارے کیا کرتے ہیں؟

میں بولا چاند تنہا ہے ستارے ساتھ دیتے ہیں!!

 

وہ بولی رات کو سائے کیوں تنہا چھوڑ جاتے ہیں؟

میں بولا غم نہیں کرنا ہمیشہ ساتھ دوں گا میں!!

 

وی بولی بارشوں میں مور کیوں یہ رقص کرتا ہے؟

کہا میں نے کہ ساون میں ملن کی رُت جو آتی ہے!!

 

وہ بولی رات کو اکثر مجھے وحشت ستاتی ہے!

میں بولا جب مجھے تم یاد کرتی ہو تو ڈر کیسا!!

 

وہ بولی تیرگی سے میں ہمیشہ خوف کھاتی ہوں!

کہا میں نے ڈرو نہ تم میں جگنوں لے کے آتا ہوں!!

 

وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ سدائیں ختم کب ہوں گی؟

میں بولا جب تمنا دل کے اندر دفن ہو گی تب!!

 

وہ بولی عشق میں مجھ کو جدائی راس نہ آئی!

میں بولا وصل جب ہو گا تو سب کچھ بھول جاؤ گی!!

 

وہ بولی ناز! دل میں کچھ عجب سے خار چبھتے ہیں!

میں بولا غور کر پگلی یہاں ہی پھول کھلتے ہیں!!

 

وہ بولی عشق میں اور شاعری میں فرق کتنا ہے!

میں بولا شاعری اور عشق بلکل ایک جیسے ہیں!!

 

وہ بولی شاعری تو کچھ دِوانے لوگ کرتے ہیں!

میں بولا ان دِوانوں میں مرا بھی نام آتا ہے!!

 

وہ بولی ناز! تم کیوں شاعری میں ڈوب جاتے ہو!

میں بولا شعر کہنے سے مجھے راحت سی ملتی ہے!!


حسیب ناز

Karty rahen gy by Rubab Asghar

خواب تو ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے

ہر قدم پر تمہیں قاہل کرتے رہیں گے

جو بچھڑے ہیں تم سے یا جو تم پورے نہ کرسکی

خواب وہ ملال تو پھر تم کو اک دیتے رہیں گے

ہر سمت، ہر راہ پر جو جا رہی ہو تم

وہ تو راستے ہیں تم کو گھماتے ہی رہیں گے

میں نے ہاتھ کی لکیروں کو پڑھنا چاہا ہے مگر

وہ تو لکیریں ہیں الجھاتی ہی رہیں گی

حاصل وصول تمہیں اس سے کچھ بھی نہیں

ہم ڈوب رہے ہیں دلدل میں ڈوبتے ہی رہیں گے

چھوڑ دے اس راہ کی راہی بننا رباب

مسافر تو در در بھٹکتے ہیں،  بھٹکتے ہی رہیں گے۔

 

رباب اصغر

*************

Thursday, 14 October 2021

Poetry by Rubab Asghar

چلتے چلتے میں تو بھول ہی گئ جانا کہاں تھا

تجھ سے ملنے کی جستجو ہی تھی کہ خود کو پہچانا کہاں تھا

رباب اصغر

****************

: کسی کے عشق کو سرِبازار رسوا نہ کر رباب

خدا بھی تیرے عیبوں سے پردہ اٹھا دے گا۔

رباب اصغر

****************

چلو آج ایک دوست کی بات مان کر دیکھتے ہیں

تم کو ذرا دھیان سے ہٹا کر دیکھتے ہیں

بقول اُس کی میری کامیابی اسہی میں

چلو اس دوا کو بھی آزما مر دیکھتے ہیں۔

 

رباب اصغر

**************

بہت خاموشی سے اک دعا کرنا

میرا زکر میرے خدا سے کرنا

مانگ لینا رب سے وہ انکار نہیں کرے گا

بس تم آداب میں میرا نام مت لینا

رباب اصغر

**************

Wednesday, 13 October 2021

Barish by Naz.R.Imran

 

 

غزل

بارش

ازقلم:ناز۔آر۔امران

 

یہ بارش کی بارستی بوندیں ۔

یہ ٹھنڈی ہواؤں کے جھوکے ۔

بھیگے بھیگے پتے۔

یہ کھلے کھلے راستے۔

یہ موسم برسات بھی نا جب بھی آتا ہے ۔

یار سے ملنے کی فرمائش ساتھ لاتا ہے ۔

یار میرا دور ہے ۔

تھوڑا سا مجبور ہے ۔

سمجھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے ۔

رک زرا ٹھر جا ۔

ُاُسکو آجانے دے۔

کے پیار کی اس بارش میں ہمیں ساتھ بھیگ جانے دے.۔

کے بارش کے دیوانوں کا موسم ہے۔

دل والوں محبت والوں کا موسم ہے ۔

یہ موسم برسات بھی نا جب بھی آتا ہے ۔

یار سے ملنے کی فرمائش اپنے ساتھ لاتا ہے ۔۔

 

***************

Thursday, 7 October 2021

Log log hain apny nahi by Hafiza Amna

لوگ لوگ ہیں اپنے نہیں‎‎

کسی بے قدر انسان کو اب نا اپنا اپنا کہوں گی

کسی پیچھے خود کو نا ہلکان کروگی اب

اپنا نام اپنی پہچان خود ہی بناوں گی

کسی کی دلکش اور فریب باتوں میں نا آؤں گی

کون کیسا اور کتنا اپنا ہے سب جانتی ہوں

پر کسی کو اپنی باتوں سے تکلیف نہ دوگی

لوگ کیا سوچتے ہیں کیا کہتے ہیں میرے بارے

اسکی پرواہ نہ کروں گی

میں کیسی ہوں کیا کرتی ہوں میرا رب جانتا ہے

میں اسی میں مطمئن ہوں

خدا کے رو برو سرخرو ہوسکوں

بس اسی کو شش میں زندگی گزار رہی ہوں۔

لوگوں کی باتوں کو دل پر نہ لوگی

دل میں خدا بستا ہے ان باتوں کا حساب خدا بہتر لیں گا۔

حافظہ آمنہ

*****************************

Sunday, 3 October 2021

Ek safar by Rida Abdullah

ایک سفر

ہم نے تو راستوں میں سدیاں گزاری ہیں

تم کہتے ہو بہت خوب ہم نے دوری گزاری ہے

 

راستے لمبے منزل مشکل

ہم نے تو زندگی سفر میں گزاری ہے

 

تم کہتے ہو پردیس ہے تو خوب ہے

ہم کہتے ہیں پردیس ہے تو یادیں تمہاری ہیں

 

 

ہم نے کہا سفر تمام ہوا منزل آشکار ہوئ

پتا چلا کے اس سفر کی منزل تو بھرم ہمارا ہے

 

ہم کہتے ہیں چھوڑ آۓ پردیس آگے اپنے وطن

تم کہتے ہو منزل تمہاری وطن ہمارا ہے

*******************

Saturday, 2 October 2021

Amad e Mustufa (PBUH) by Iqra Muhammad Mushtaq

آمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلّم

 

ہوائیں گیت گا رہی ہیں

فضائیں مہکا رہی ہیں

آمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلّم کی خوشی میں

ہرشے جگمگا رہی ہیں

  

باغوں میں گل کھل کھلا رہے ہیں

ہر طرف پرندے چہچا رہے ہیں

آمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلّم کی خوشی میں

ہر شے منا رہی ہیں

 

گھروں , گلیوں اور محلوں میں

ہر طرف سبز  ہریالی پرچم  لہرا رہے ہیں

بڑے  بچے اور جوان

آمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلّم کی خوشیاں منا رہے ہیں

اقراء  محمد مشتاق

***************

Friday, 1 October 2021

Poetry by Ahsan Khan

تکلیف تو دے لیکن وہی پھر اُس کا مداوا بھی کرے تو

اِسے شرارت تو کہتے ہیں عداوت نہیں کہتے۔

 

آزماؤ خود ہی اُسے پھر وہ جان بھی دے دے

اِسے خلوص تو کہتے ہیں حماقت نہیں کہتے۔

 

قسمیں بھی کھاؤ وعدے بھی کرو پھر مُکر بھی جاؤ

اِسے سیاست تو کہتے ہیں قیادت نہیں کہتے۔

 

ظالم اگر مظلوم کے ہاتھوں سے مارا جائے احسن

اِسے قتل تو کہتے ہیں شہادت نہیں کہتے۔

 

*******************

 

گونگے اگر گواہی دینے لگیں ۔۔۔۔

تو پھر ہر طرف موت دکھائی دینے لگے۔

 

یہ شہرت ہے منصفی کے لیے۔۔

دشمن بھی اگر آکر دہائی دینے لگے۔

 

ظلم ہوا ہے کہیں پر عاشقوں پے۔۔

جو یہ پھول سبھی مرجھائی دینے لگے۔

 

وہ قصوروار ہو گا یقیناً احسن۔۔

جو بار بار اپنی صفائی دینے لگے۔

 

****************

 

یہی بہتر ہے کے کنارا کر لوں۔۔

میں عشق اب دوبارہ کر لوں۔۔

 

میرے ساتھ ہو اور خوش نہ ہو۔

میں کیسے یہ گوارا کر لوں۔۔۔

 

شرافت تو تمہیں راس نہ آئی۔۔

میں کیوں نہ خود کو آوارہ کر لوں۔۔

 

 احسن اِس بار شاید تُم غلط ہو جاؤ۔۔

آج اگر پھر میں اِستخارہ کر لوں۔۔۔

 

****************

Safar sirat e mustaqeem ka by Iqra Muhammad Mushtaq

سفر صراطِ مستقیم کا

میں جو چل پڑی سفر دنیا پر

مجھے راستوں نے تھکا دیا

 

مجھے منزل کی چاہ ہوئی

تو اور آگے چلا دیا

 

ان راستوں کی کوئی منزل نہیں

ان راستوں نے مجھے بھٹکا دیا

 

ختم ہوا جو سفر دنیا

میری منزل ایک کھائی تھی

 

میں ڈر کے جو پیچھے مڑی

تو بہت دور چل آئی تھی

 

پھر جو دی میں نے رب کو صدا

اور کی اللہ سے التجاء

 

میں بھٹک گئی ہو دنیا میں اس طرح

جس سے نکلنے کا نہیں کوئی راستہ

 

اب تو ہی کرم کر مجھ پر اے خدا

نہیں چھوڑ مجھے اس طرح

 

میں کرتی ہو اطراف غلطیاں

میں گر  گئی ہو مجھے تھام  لیں

میرا کوئی نہیں تیرے سوا

 

میں بھٹک گئی ہو سفر دنیا پر

اب تو ہی مجھے راستہ دیکھا

 

 

میرے رب نے سن لی میری التجاء

مجھے آگے بڑھ کر تھام لیا

 

اب میرا واسطہ نہیں سفر دنیا سے

میرا راستہ  صراطِ مستقیم ہے۔۔۔

 

اقراء محمد مشتاق

**************

To kya tamasha ho by Khansa Anwar

 

عنوان:

تو کیا تماشا ہو

ہم جو محبت کر بیٹھیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو انکار اقرار کا تبدل کر دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو آزاد پرندوں کو قید کر دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو منزلوں کو بدل دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو ہواؤں کے رخ موڑ دیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو محبت کے قاعدوں کو سچا مان لیں تو کیا تماشا ہو!!

ہم جو وفا کے اصول نبھائیں تو کیا تماشا ہو!!

خنساء انور

************