You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Thursday, 26 May 2016
بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
نہ اپنے زخم ہی مہکے ، نہ دل کے چاک سلے
کہاں تلک کوئی ڈھونڈے مسافروں کا سراغ
بچھڑنے والوں کا کیا ہے ، ملے ملے نہ ملے
عجیب قحط کا موسم تھا اب کے بستی میں
کیے ہیں بانجھ زمینوں سے بارشوں نے گِلے
یہ حادثہ سرِ ساحل رُلا گیا سب کو
بھنور میں ڈوبنے والوں کے ہاتھ بھی نہ ملے
سناں کی نوک، کبھی شاخِ دار پہ محسن
سخنوروں کو ملے ہیں مشقتوں کے صلے
Tera Hiojar Bara Badzaat.
ترا ہجر بڑا بدذات
مرے پیڑ گئے سب جل
مرے سوکھ گئے سب پھل
مرے سپنے ہو گئے شل
کوئی بھیج دکھوں کا حل
مرے اجڑ گئے سب شہر
مری رگ رگ اندر زہر
مرے دل کے اندر تھل
مری آنکھوں میں برسات
ترا ہجر بڑا بدذات
میں پھرا بہت گھر گھر
کوئی کھلا ملا نہ در
ابھی اڑتا اور مگر
مرے زخمی ہو گئے پر
مرے کالے ہوئے نصیب
مرے حصے آئی صلیب
مرے دل سے جائے نہ ڈر
مرے سر سے کٹے نہ رات
ترا ہجر بڑا بدذات
جب بدل گئے حالات
لگی قدم قدم پر گھات
ہر سمت بکھر گئے پات
ہم مَلتے رہ گئے ہاتھ
تری چاہ میں چھوڑا جھنگ
تری خاطر ہوئے ملنگ
تری خاطر بدلی ذات
کیا سورج کو بھی رات
ترا ہجر بڑا بدذات سجن
ترا ہجر بڑا بدذات
Wednesday, 25 May 2016
Aankhon Mein Raha Dil Mein Utar Kar Nahi Dekha
Aankhon Mein Raha Dil Mein Utar Kar Nahi Dekha
Kashti Ke Musafir Ne Samander Nahi Dekha
Be Waqt Ager Ghar Jaon Ga Sab Chonk Parein Gey
Ik Muddat Hui Din Me Kabhi Ghar Nahi Dekha
Jis Din Se Chala Hon Meri Manzil Pe Nazar Hai
Aankhon Ne Kabhi Mail Ka Pathar Nahi Dekha
Yaaron Ki Mohabbat Ka Kar Liya Yaqeen Mein Ne
Phoolon Mein Chupaya Hua Khanjar Nahi Dekha
Ye Phool Mujhe Koi Wirasat Mein Mile Hain
Tum Ne Mera Kanton Bhara Bistar Nahi Dekha
Pathar Mujhe Kehta Hai Mera Chahne Wala
Mein Mom Hun, Us Ne Mujhe Chu Kar Nahi Dekha
Wo Shakhs Mere Masail Ko Samajh Nahi Sakta
Jis Ne Meri Aankhon Mein Samander Nahi Dekha
Basheer Badar
انتظار مت کرنا
انتظار مت کرنا
مرے دل میں
تمھارے قرب کی چاہت
مسلسل
بڑھتی جاتی ہے
کہیں ایسا نہ ہو
کہ میں
کسی کمزور لمحے میں
اچانک ہی
تمھارے پاس آجاؤں
مگر اس بات کو تم
زیست کا عنوان مت کرنا
سفر میں
زندگی کے بڑھتے رہنا تم
کہیں رک کر ،ٹھہر کر بھی
سفر کو مت گنوانا تم
مری راہوں
میں آنکھیں مت بچھانا تم
Tarapte hain na roote hain, na hum faryad karte hain
Tarapte hain na roote hain, na hum faryad karte hain,
Sanam ki yaad me har dam khuda ko yaad karte hain,
Unhin ke ishq me hum naala-o-faryaad karte hain,
Elaahi dekhiye kis din hame wo yaad karte hain...
Shab-e-faraaq me kia kia saanp lehraate hain seene pe,
Tumhari kakul-e-peechan ko jab hum yaad karte hain...
Haider Ali Aatish
Rawaan hai darya-e-ashk chashm-e-by'aab sy..
Rawaan hai darya-e-ashk chashm-e-by'aab sy..
Mery Hissy main aa gaye Q saraab sy ...
Waja na pochyae k wehshat'zada kis liye..
Hijar to kher Qurb barha raha hai Iztraab sy..
Hairaan ho raha hai
Aks aainy mn apna he
Hm khud sy ho rahy hain Zara lajwaab sy..
Galiaan koochy chooty, chorr de awaargii..
Sudher gya dil , hm hony lagy kamyaab sy..
Ranj-o-alam, veeran yadain, tanhaiyaan
zmany ny diye tohfy behisaab nayaab sy..
Shamma jali to bhrny lagi tareeki bhee
Aag lagy Dil ko, jaan chooty is azaab sy..
Koi widaa ho to muskura k milty hain..
K hm waqif hain bichrrny k aadab sy ...
Sadaf Khan
Mousam E Gul
Mousam E Gul
Ka Silsila Naa Raha
Phoolon Sy
Mera Wasta Naa Raha
Hairat Ab Tou Nahi
Haal Par Apna
Hadsoon Ka Bhi
Hissab Hee Naa Raha
Mein Tou Intezar Mein Hun
Shyad
Kuch Tou Ho Janay ka
Guman Saa Raha
Ab Tum Manzil Bhi Ban Jao
Tou Kya
Ab Manzil Tak Janay Ka
Hosla Naa Raha
Ab Palat Janay Ka
Kehaty Ho Tum
Kashtiyon Ka mere
Jab Qafla Naa Raha
نہ کوئی فال نکالی نہ اِستخارہ کیا ..
نہ کوئی فال نکالی نہ اِستخارہ کیا ..
بس اک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا ..
نکل پڑیں گے گھروں سے تمام سیارے ..
اگر زمین نے ہلکا سا اک اشارہ کیا ..
جو دل کے طاق میں تُو نے چراغ رکھا تھا ..
نہ پوچھ میں نے اُسے کس طرح ستارہ کیا ..
پرائی آگ کو گھر میں اُٹھا کے لے آیا ..
یہ کام دل نے بغیر اُجرت و خسارہ کیا ..
عجب ہے تُو کہ تجھے ہجر بھی گراں گزرا ..
اور ایک ہم کہ ترا وصل بھی گوارا کیا ..
ہمیشہ ہاتھ رہا ہے جمال آنکھوں پر ..
کبھی خیال کبھی خواب پر گُزارہ کیا ..
.. شاعر: جمال احسانی ..
جسے خود سے ہی نہیں فرصتیں،جسے دھیان اپنے جمال کا
جسے خود سے ہی نہیں فرصتیں،جسے دھیان اپنے جمال کا
اسے کیا خبر مرے شوق کی،اسے کیا پتا مرے حال کا
مرے کوچہ گرد نے لوٹ کر مرے دل پہ اشک گرا دیا
اسے ایک پل نے مٹا دیا جو حساب تھا مہ و سال کا
تجھے شوق دید غروب ہے،مری آنکھ دیکھ بھری ہوئی
کہیں تیرے ہجر کی تیرگی کہیں رنگ میرے ملال کا
شب انتظار وہ مہ لقا،جونہی میرے سامنے آگیا
مجھے کوئی ہوش نہیں رہا،نہ جواب کا نہ سوال کا
کبھی حال ہجر کہا نہیں،وہ ملا تو لفظ ملا نہیں
کہیں گفتگو ہی میں کھو گیا،جو معاملہ تھا وصال کا
جسے وقت جان غزل کہے،جو چلے تو شام کھڑی رہے
وہی میرے لفظ کا رنگ ہے،وہی روپ میرے خیال کا
شہزاد نیر
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے
غموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے
یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکن
میں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے
وہ دھوپ دھوپ میں ہی ہو گیا بسر، چپ چاپ
شجر شجر پہ مرے _______ برگ و بار اب آئے
وہ جن پہ دھوکہ سا جھیلا تھا، ہم نے منزل کا
وہ قافلے تو __________ سرِ راہ گزار، اب آئے
نہ ڈالیوں پہ کوئی پھول ہے، نہ ہونٹوں پر
مزہ تو جب ہے کہ ______ بادِ بہار، اب آئے
فرحت عباس شاہ
نظر کی دھوپ میں سائے گھلے ہیں شب کی طرح
نظر کی دھوپ میں سائے گھلے ہیں شب کی طرح
میں کب اداس نہیں تھا مگر نہ اب کی طرح
پھر آج شہرِ تمنا کی رہگزاروں سے
گز ر رہے ہیں کئی لوگ روز و شب کی طرح
تجھے تو میں نے بڑی آرزو سے چاہا تھا
یہ کیا کہ چھوڑ چلا تو بھی اور سب کی طرح ؟
فسردگی ہے مگر وجہِ غم نہیں معلوم
کہ دل پہ بھی بوجھ سا ہے رنجِ بے سبب کی طرح
کِھلے تو اب کے بھی گلشن میں پھول ہیں لیکن
نہ میرے زخم کی صورت نہ تیرے لب کی طرح
احمد فراز
Tuesday, 24 May 2016
اپنا حصہ شمار کرتا تھا
اپنا حصہ شمار کرتا تھا
مجھ سے اتنا وہ پیار کرتا تھا
وہ بناتا تھا میری تصویریں
ان سے باتیں ہزار کرتا تھا
میرا دکھ بھی خلوص نیت سے
اپنا دکھ ہی شمار کرتا تھا
سچ سمجھتا تھا جھوٹ بھی میرا
یوں میرا اعتبار کرتا تھا
پہلے رکھتا تھا پھول رستے میں
پھر میرا انتظار کرتا تھا
آج پہلو میں وہ نہیں فراز
جو مجھ پہ جان نثار کرتا تھا
Monday, 23 May 2016
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
مرے پیروں میں زنجیر پِیا
اب نین بہاویں نیر پِیا
اے شاہ مرے اک بار تو آ
تو وارث، میں جاگیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
بے نام ہوئی، گم نام ہوئی
کیوں چاہت کا انجام ہوئی
مرا مان رہے، مجھے نام ملے
اک بار کرو تحریر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
کب زلف کے گنجل سلجھیں گے
کب نیناں تم سے الجھیں گے
کب تم ساون میں آؤ گے
کب بدلے گی تقدیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
سب تیر جگر کے پار گئے
مجھے سیدے کھیڑے مار گئے
آ رانجھے آ کر تھام مجھے
تری گھائل ہو گئی ہیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئی
میں کندن ہو کر خاک ہوئی
اب درشن دو، آزاد کرو
اب معاف کرو تقصیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پیا
کب زین اداسی بولے گی
کب بھید تمہارا کھولے گی
کب دیپ بجھیں ان آنکھوں کے
تم مت کرنا تاخیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
-
زین شکیل
کتاب: سن سانسوں کے سلطان پیا
Saturday, 21 May 2016
تمہیں کتنا چاہتے ہیں
تمہیں کتنا چاہتے ہیں
کبھی تم نے یہ بھی سوچا
کہ تمہارے دل گرفتہ
تمہیں کتنا چاہتے ہیں ؟
تمہیں زندگی سے بڑھ کر
جو عزیز ہم نے جانا
سو ، کوئی سبب تو ہو گا
کبھی تم نے یہ بھی سوچا؟
سرِ شام منتظر تھے
کہیں نیلمیں اُجالے
کہیں تتلیاں لبوں کی
کہیں پھول جیسے عارض
کہیں قمقموں سی آنکھیں
یہ جو چارہ گر ہمارے
کوئی ساعتِ رفاقت
سرِ شام مانگتے تھے
انہیں کیا خبر کہ ہم نے
تمہیں سونپ دی ہیں راتیں
تمہیں دان کی ہیں آنکھیں
کبھی تم نے یہ بھی سوچا
کہ تمہارے دل گرفتہ
کسی شمعِ سوختہ سے
یہ جو کر رہیں ہیں باتیں
تمہیں کتنا چاہتے ہیں ؟
تمہیں روز و شب کے دُکھ میں
کبھی بھولنا بھی چاہیں
تو کبھی نہ بھول پائیں
کہ یہ عہدِ زندگی ہے
جسے توڑنا بھی چاہیں
تو کبھی نہ توڑ پائیں
(اعتبار ساجد)
Friday, 20 May 2016
سنبھلنے کے لیے گرنا پڑا ہے
سنبھلنے کے لیے گرنا پڑا ہے
ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے
رقم تھیں اپنے چہرے پر خراشیں
میں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے
مری آنکھوں میں تم کیوں جھانکتے ہو
تہوں میں آنسوؤں کی کیا پڑا ہے
حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن
ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے
بدن شوقین کم پیرہنی کے
درو دیوار پر پردہ پڑا ہے
اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میرا
گریبان پر خود اپنے جا پڑا ہے
محبت آنسوؤں کے گھاٹ لے چل
بہت دن سے یہ دل میلا پڑا ہے
زمیں ناراض ہے کچھ ہم سے شاید
پڑا ہے پاؤں جب الٹا پڑا ہے
ڈبو سکتی نہیں دریا کی لہریں
ابھی پانی میں اک تنکا پڑا ہے
مظفر رونقوں میلوں کا رسیا
ہجومِ درد میں تنہا پڑا ہے
مظفر وارثی
Wednesday, 18 May 2016
بڑے مختصر سے حروف میں
بڑے مختصر سے حروف میں
مجھے گہری بات بتا گیا
کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا
جو سحر سے پہلے جگا گیا
کسی مہربان کی دعا سے
یہ سفر تمام ہوا میرا
جنھیں رہبری کا غرور تھا
انھیں راستوں نے مٹا دیا
ہمیں آسماں سے گلہ نہیں
تیری رحمتوں پہ یقین ہے
جہاں زندگی شکست دی
کسی معجزے نے بچا لیا
ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ
تیری آرزو نے عطا کیا
بڑے گہرے زخم ملے ہمیں
جنھہں رفتہ رفتہ مٹا دیا
تمہارا لہجہ ہو خوشبوؤں سا، ہمارا لہجہ دعاؤں سا ہو
تمہارا لہجہ ہو خوشبوؤں سا، ہمارا لہجہ دعاؤں سا ہو
جو دوپہر میں بھی ہم ملیں تو، مزاج ٹھنڈی ہواؤں سا ہو
جو مل کے بیٹھیں تو اسطرح ہم کہ جیسے انسان مل رہے ہوں
نہ لفظ نشتر بنیں زباں پر، نہ لہجہ کڑوی دواؤں سا ہو
بچاؤں دنیا کو دھوپ سے میں، تمام خلقت کے کام آؤں
میرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو
اُگیں خوشی کے گلاب کیسے، دہکتے شعلوں کی کھیتیوں میں
کسے پکارے یہ زندگانی، ہر آدمی جب چتاؤں سا ہو
بچا کے رکھنا انا کی دولت، یہی تو پونجی ہے اہلِ دل کی
کبھی بھی اس سے نہ جھک کے ملنا، غرور جس میں خداؤں سا ہو
لوگ کیوں بس کے اجڑتے ہیں کبھی سوچا ہے
لوگ کیوں بس کے اجڑتے ہیں کبھی سوچا ہے
کس لئے جاں سے گرزتے ہیں کبھی سوچا ہے
کیسے پلکوں کی لرزتی ہوئی منڈیروں پر
سینکڑوں دیپ چمکتے ہیں کبھی سوچا ہے
گویا بہاروں مین چمن ہوتے ہیں آباد مگر
پھول پامالی سے ڈرتے ہیں کبھی سوچا ہے
رنگ چہرے کا بدل جاتا ہے پل بھر کیلئے
لوگ جب بات بدلتے ہیں کبھی سوچا ہے
جو نظر آتے ہیں آئینہ سی پوشاکوں میں
وہ بھی مٹی میں اترتے ہیں کبھی سوچا ہے
نارسائی سے نہیں مرتا کوئی، مان لیا
دل میں آرے سے جو چلتے ہیں کبھی سوچا ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)






