اک جیسی لگتی ہیں
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی
ہنستی ہیں کبنکتی ہیں
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی
نازک انتہا کی
اک ذرا سی ٹھیس سے بکھرتی ہیں
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی
ان کے توڑنے والوں کو
احساس تک نہیں ہوتا
بکھر کے کب سنبھلتی ہیں
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی
زندگی کی دھڑکن کو
اک ردھم سا دیتی ہیں
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی
اپنے دکھ کو اپنے اندر
رکھ کے بھول جاتی ہیں
باہر سے چمکتی ہیں
چوڑیاں بھی لڑکیاں بھی
You can Read All Types of Poetry, Urdu Poetry, Sad Poetry , Romantic Poetry , Birthday Poetry , Classical Poetry, Imagesss Poetry, LonG Poetry , Ashhar , Qathat , Nazam and Ghazal of your Favourite Poets.
Saturday, 9 May 2015
محبت موسم نہیں
میں نے جانا ہے کہہ
محبت موسم نہیں
اپنی مدت پوری کرے
اور رخصت ہو جائے
محبت ساون نہیں،ٹوٹ کر برسے
محبت آگ نہیں،سلگے بھڑکے
اور بجھ جائے
محبت آفتاب نہیں،ابھرے چمکے اور ڈھل جائے
محبت تو چاند کی مانند ہے
جو بڑحتا ہے،گھٹتا ہے
نکلتا ہے،چھپتا ہے
مگر فنا نہیں ہوتا
محبت موسم نہیں
اپنی مدت پوری کرے
اور رخصت ہو جائے
محبت ساون نہیں،ٹوٹ کر برسے
محبت آگ نہیں،سلگے بھڑکے
اور بجھ جائے
محبت آفتاب نہیں،ابھرے چمکے اور ڈھل جائے
محبت تو چاند کی مانند ہے
جو بڑحتا ہے،گھٹتا ہے
نکلتا ہے،چھپتا ہے
مگر فنا نہیں ہوتا
محبت میں کسی بھی بات کی قسمیں نہیں کھاتے
محبت میں کسی بھی بات کی قسمیں نہیں کھاتے
محبت تو فقط پیمان ہوتا ہے کہ دونوں
زندگی کے روز و شب کے درد کو
مل کر سمیٹیں گے
خوشی کا کوئی لمحہ ہو
وہ مل کر گزاریں گے
کوئی پیمان ہو
وہ کبھی بھی جھوٹا نہیں ہوتا
کہ دونوں میں سے کوئی ایک تو
وعدہ نتھاتا ہے
نفی کرتا ہے اپنی ذات کی
خود کو مٹاتا ہے
محبت میں کسی بھی بات کی قسمیں نہیں کھاتے
Friday, 8 May 2015
اگر کبھی میری یاد آئے
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دل گیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخلِ فلک سے اُڑ کر تمہارے قدموں میں آگرے تو
یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا،
اگر نہ آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اُس کی دیوارِ جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ہوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں خوشبوؤں میں تمہیں ملوں گا
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئنوں میں تمہیں ملوں گا
اگر ستاروں میں،اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
میں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں ملوں گا
کہیں پہ روشن چراغ دیکھوں تو جان لینا
کہ ہر پتنگے کے ساتھ میں بھی بکھر چکا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اُن پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
میں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا
کسی نہ دیکھے ہوئے جزیرے پہ رُک کے تم کو صدائیں دوں گا
سمندروں کے سفر پہ نکلو تو اُس جزیرے پہ بھی اُترنا
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا
ابرو کھنچے کھنچے سے آنکھيں جھکی جھکی سی
باتيں رکی رکی سی لہجہ تھکا تھکا سا
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں تھے
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ سا
خوابوں ميں خواب اُسکے يادوں ميں ياد اُسکی
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے رَتجگا سا
پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا
اگلی محبتوں نے وہ نا مرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا
کچھ يہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہيں تھے روئے
کچھ زہر ميں بُجھا تھا احباب کا دلاسا
پھر يوں ہوا کے ساون آنکھوں ميں آ بسے تھے
پھر يوں ہوا کہ جيسے دل بھی تھا آبلہ سا
اب سچ کہيں تو يارو ہم کو خبر نہيں تھی
بن جائے گا قيامت اک واقعہ ذرا سا
تيور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا ليکن لگتا تھا آشنا سا
ہم دشت تھے کہ دريا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہيں تھا پياسا
ہم نے بھی اُس کو ديکھا کل شام اتفاقا
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا
Wednesday, 6 May 2015
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﯽ....
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﯽ
ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻃﻮﺍﻑِ ﺍٓﺭﺯﻭ ﮐﺮﺗﮯ
ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺍٓﺭﺯﻭﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮑﮭﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﺎ
ﺍﺗﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺑﺘﺎﻭ ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺟﺐ ﺩﻝ ﮐﻮ ﭼﺮﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﭼﺮﺍﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺗﻢ ﮮ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺟﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﺗﻢ ﺗﺴﺒﯿﺢ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﻮ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻗﻀﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮨﻮ
ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﻣﺤﺾ ﺑﺎﺗﯿﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮑﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﺎ
ﺍﺗﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ
ﻭﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ،ﻭﮨﯽ ﺗﻢ ﮨﻮ
ﻣﮕﺮ ﮐﮭﻮﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻏﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺳﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﺗﮭﮯ ﺳﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﮨﯿﮟ
ﻣﻠﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ
ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺗﮭﮯ، ﻣﺴﺎﻓﺮ ﮨﯿﮟ
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﮨﻢ
ﮐﮩﺎﮞ ﺑﮭﭩﮑﮯ،ﮐﮩﺎﮞ ﭘﮩﻨﭽﮯ
ﻣﮕﺮ ﺑﮭﭩﮑﮯ ﺗﻮ ﯾﺎﺩ ﺍٓﯾﺎ
ﺑﮭﭩﮑﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﯽ
ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﺗﮭﺎ
Chehra Mera Tha Nigahen Us Ki....
Kamoshi Mein Bhi Wo Baten Us Ki
Mery Chehre Pe Ghazal Likhte Gaen
Sher Kahti Hue Ankhen Us Ki
Shokh Lamhon Ka Pta Dene Lagen
Tez Hoti Hue Sansen Us Ki
Aisy Mousam Bhi Guzare Hum Ny
Subhen Jab Apni Thin Shamen Us Ki
Dehayan Mein Us K Ye Aalam Tha Kabhi
Ankh Methab Ki Yaden Us Ki
Faisala Mauj-e-Hawa Ny Likha
Andhiyan Meri Baharen Us Ki
Neend Es Soch Se Tooti Akser
Kis Thra Katati Hain Raten Us Ki
Dur Reh Kr Bhi Sda Rethen Hain
Mujh Ko Thame Huey Bahen Us Ki
Tuesday, 5 May 2015
دعاوں میں بسے لوگو
دعاوں میں بسے لوگو
سنو
یہ رابطوں کی دنیا ہے
رابطوں سے رشتے ہیں
چاہتوں کے یہ سنگم
خوشیوں کے یہ آنگن
دوستی کے یہ بندھن
ہم کو یا د آئیں گے
آنے والے سالوں میں
کس کے سنگ ہنسنا ہے
کس سے مل کر رونا ہے
کب یہ اپنے بس میں ہے
مگر آسمان کی جانب
پھیلے ہاتھ کہتے ہیں
دل سے دل کا ہر تعلق
معتبر دعا سے ہے
دعاوں میں بسے لوگو
جہاں بھی رہو
سدا خوش رہو
سنو
یہ رابطوں کی دنیا ہے
رابطوں سے رشتے ہیں
چاہتوں کے یہ سنگم
خوشیوں کے یہ آنگن
دوستی کے یہ بندھن
ہم کو یا د آئیں گے
آنے والے سالوں میں
کس کے سنگ ہنسنا ہے
کس سے مل کر رونا ہے
کب یہ اپنے بس میں ہے
مگر آسمان کی جانب
پھیلے ہاتھ کہتے ہیں
دل سے دل کا ہر تعلق
معتبر دعا سے ہے
دعاوں میں بسے لوگو
جہاں بھی رہو
سدا خوش رہو
Monday, 4 May 2015
خوشحال سے تم بھی لگتے ہو
خوشحال سے تم بھی لگتے ہو
یوں افسردہ تو ہم بھی نہیں
پر جاننے والے جانتے ہیں
خوش تم بھی نہیں خوش ہم بھی نہیں
تم اپنی خودی کے پہرے میں
ہم اپنے زعم کے نرغے میں
انا ہاتھ ہمارے پکڑے ہوئے
اک مدت سے غلطاں پیچاں
ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے
پچھتاوں کے انگاروں میں
محصورِ تلاطم آج بھی ہیں
گو تم نے کنارے ڈھونڈ لیئے
کہنے کو سہارے ڈھونڈ لیئے
یوں افسردہ تو ہم بھی نہیں
پر جاننے والے جانتے ہیں
خوش تم بھی نہیں خوش ہم بھی نہیں
تم اپنی خودی کے پہرے میں
ہم اپنے زعم کے نرغے میں
انا ہاتھ ہمارے پکڑے ہوئے
اک مدت سے غلطاں پیچاں
ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے
پچھتاوں کے انگاروں میں
محصورِ تلاطم آج بھی ہیں
گو تم نے کنارے ڈھونڈ لیئے
کہنے کو سہارے ڈھونڈ لیئے
طوفاں سے سنبھلے ہم بھی نہیں
خاموش سے تم، ہم مہر بہ لَب
جگ بیت گئے ٹُت دیئے
جو چلتے چلتے تھک جایئں
وہ سائے رک بھی سکتے ہیں
چلو توڑو قسم اقرار کریں
ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں
خاموش سے تم، ہم مہر بہ لَب
جگ بیت گئے ٹُت دیئے
جو چلتے چلتے تھک جایئں
وہ سائے رک بھی سکتے ہیں
چلو توڑو قسم اقرار کریں
ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں
Nigah-e-Yaar K Pardon Me Hy Ada Kesi.....!
Nigah-e-Yaar K Pardon Me Hy Ada Kesi
Sitam Kesa Karam Kesa, Jafa Kesi ....
Wafa Kesi...!
Ye Jo Tofan Samandar Hain, Ye Sub Hasti K
Manzer hain...!
Agar Qismat Me Jalna Ho,
Dawa Kesi ..
Dua Kesi.....!
Sunay Ga Kon Ab Mujh Se,
Tery Behroop K Qissay....!
Mujhy Bhi Maar K Kar Di Karam Ki Inteha Kesi.....!
Agr Dil Haar Hi Bethy Mery Hum-Dam
Muhabbat Me....!
Fana Kesi....
Baqa Kesi..
Saza Kesi...
Jaza Kesi....!!
کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا،کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی اِس نگر تجھے دیکھنا،کبھی اُس نگر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
مجھے جا بجا تری جسُتجُو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوُبکو
کہاں کھل سکا ترے رو بُرو ،مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا
مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا ،کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے ،ترا شہر قریہء غیر ہے
یہاں سہل بھی تو نہں کوئی ،مرے بے خبر تجھے ڈھونڈنا
تری یاد آئی تو رو دیا ، جو توُ مل گیا تجھے کھو دیا
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں ، تجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا
یہ مری غزل کا کمال ہے کہ تری نظر کا جمال ہے
تجھے شعر شعر میں سوچنا، سر بام ودر تجھے ڈھونڈنا
کبھی رات بھر تجھے سوچنا، کبھی رات بھر تجھے ڈھونڈنا
مجھے جا بجا تری جسُتجُو، تجھے ڈھونڈتا ہوں میں کوُبکو
کہاں کھل سکا ترے رو بُرو ،مرا اِس قدر تجھے ڈھونڈنا
مرا خواب تھا کہ خیال تھا، وہ عروج تھا کہ زوال تھا
کبھی عرش پر تجھے دیکھنا ،کبھی فرش پر تجھے ڈھونڈنا
یہاں ہر کسی سے ہی بیر ہے ،ترا شہر قریہء غیر ہے
یہاں سہل بھی تو نہں کوئی ،مرے بے خبر تجھے ڈھونڈنا
تری یاد آئی تو رو دیا ، جو توُ مل گیا تجھے کھو دیا
میرے سلسلے بھی عجیب ہیں ، تجھے چھوڑ کر تجھے ڈھونڈنا
یہ مری غزل کا کمال ہے کہ تری نظر کا جمال ہے
تجھے شعر شعر میں سوچنا، سر بام ودر تجھے ڈھونڈنا
میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں
سر محفل نگاہیں مجھ پے جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے حوالے سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں
ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کے جن پے بوجھ میں ڈالو وہ کندھے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں
سر محفل نگاہیں مجھ پے جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے حوالے سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں
ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کے جن پے بوجھ میں ڈالو وہ کندھے یاد رکھتا ہوں
Subscribe to:
Posts (Atom)










.jpg)
