affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Tuesday, 25 June 2019

Mere watan ki dastan by Maryam Ashiq



میرے وطن کی داستاں
  کہاں سے شروع کروں،اس سرزمیں کی داستاں        
ہر کوٸ یہاں لٹیرا ہے                                
میرے وطن کو دہشتگردی نے گھیرا ہے                     
ہر دہلیز خون سے رنگی ہے                           
ہر آنکھ میں آنسوٶں کا بسیرا ہے                     
ضمیر سب کا ِبک چکا ہے یہاں                          
دولت کی ہوس نے یہ کھیل کھیلا ہے                    
گلہ کریں بھی تو کس سے کریں                          
اسی دھرتی پہ تو ان کا بسیرا ہے                         
کہاں سے شروع کروں،اس سرزمیں کی داستاں        
ہر کوٸ یہاں لٹیرا ہے........
رائٹر: مریم عاشق

Ek sal guzar gaya by Khadija Noor

دیکھو ایک سال گزر گیا 
اب ویسی کوئی بات بھی نہیں 

وہ قصے، وہ کہانی، وہ لمحے 
اب تو ویسے واقعات بھی نہیں  

جو برستی تھی میری آنکھوں سے 
اب وہ برسات بھی نہیں  

سسکتے سسکتے گزرتی تھی جو
اب ویسی کوئی رات بھی نہیں 

شطرنج ابھی درمیان میں ہے
ابتداء نہیں، شہ مات بھی نہیں 

از خدیجہ نور

Aey zindgi by Ayesha Shoukat

اے زندگی  
اے زندگی تو ہے کیا مجھ کو اتنا تو بتا
جو پوچھا میں نے لوگوں سے کہ یارو یہ زندگی ہے کیا 
کسی نے کہا کہ بہت حسین ہے تو 
کسی نے کہا کہ بہت کڑوی ہے تو 
کسی نے کہا کہ تو ایک خوبصورت خواب ہے 
تو کسی نے کہا کہ ایک برا خواب ہے 
کسی نے کہا کہ تو مہکتا گلاب ہے 
تو کسی نے کہا کانٹوں سے بھرا گلاب ہے
میں جا جا کے پوچھتی رہی لوگوں سے 
مگر راۓ سبھی کی مختلف رہی 
ای زندگی میں پوچھتی ہوں تجھ سے 
آخر مجھ کو اتنا تو بتا کہ تو ہے کیا
کہ جیوں میں تجھے ویسا ہی جیسا میں تجھے پاٶں 
تو اتنی مختلف ہے کس لیے
تو اتنی مشکل ہے کس لیے 
اب تو مجھ پر ایک احسان کر 
کہ خود کو مجھ پر آسان کر 
کہ میں تجھ کو سمجھ پاٶں 
کہ میں تجھ کو حل کر پاٶں
اے زندگی مجھ کو اب تو یوں تو نہ تڑپا
کہ تجھ کو سمجھنے میں ہی میری عمر تمام ہو
اے زندگی تو ہے کیا
مجھ کو اتنا تو بتا
               
  تحریر کردہ: عاٸشہ شوکت

Umeed e nau by Ahmed Hayat

امید نو
کیوں رو رھا ھے پیارے
تیرا درد رب  سنوارے
امیدکاخزینہ ہمیشہ تجھے عطا ہو
طوفان ہویاآندھی ہمت کبھی نا ہارے
تیرا درد رب  سنوارے
خالق کاوردہرسوشاخوں پہ تیری ھو
ہمیشہ رہےسلامت ہر چڑیا یہی پکارے
تیرا درد رب  سنوارے
مہکےثمرتیرااورشیریں بھی ہو ایسا
انسان اورپرندےکھا۶یں جس کو سارے
تیرا درد رب  سنوارے
ہےآج اگرخزاں تو کل کو بہار ہوگی 
اجلی
 ہو گی رنگت اورخوشبو۶وں کے دہارے
تیرا درد رب  سنوارے
احمدعروج ہوگابلبل کاساتھ ہوگا
دیکھیں گےاللہ اللہ کیاہیں یہ نطارے
تیرا درد رب  سنوارے


احمد حیات

Sunday, 23 June 2019

Urdu ghazal by Hajira Aqeel


Urdu ghazal
آج پھر دِل و دِماغ کے دریچے وَا ھوئے
آج   پھر  پُرانے   نِشتر   جَواں  ھو ئے
محفل میں اس کے جلوے کی دیر تھی
میرے کُل ہوش و حواس ناتواں  ھوئے
میرے عِشق کا اعتبار ہی نا ہوا تُجھ سے
ھم تیرے لیے محض آزمائش کا ساماں ھوئے
تیرے  قِصّوں میں اب میرا ذِکر ہی   نہیں
اور تُم نا جانے کب میری کائنات، مِرا جہاں ہوئے
زندگی گُزارنے کی آس لے کر تیرے دَر پر آئے تھے
تِرا سراپا نِگاہوں میں سجا کر تِرے آستاں سے روَاں ہوئے
  (ہاجرہ عقیل)

Thursday, 20 June 2019

mausam by kunzul emaan

اج موسم کچھ بیمان سا
ہے تیری دید کا کچھ ارمان سا
اک بادلوں میں چھپا چاند
اک میرا یار چاند سا
ہواٶں کی ہر أہٹ پے
ہوتا ہے تیرے أنے کا گمان سا
بھیگی ان بارشوں میں کچھ اس طرح
بن گیا تیری یادوں کاسماں سا
جسکو دیکھنے کی ہے طلب
وہ میری طلب سے انجان سا
أج ہوا جا کربتا اُسکو
بن اُسکے اُسکا یار بے جان سا۔
میری چاہتوں کی شدت تو دیکھ
بن گیا ان چاھتوں کا جہان سا

Sarkish Ishq by Iqra Abid Cheema

بہتا جائے گا سرکش عشق دیکھتے جاؤ 
تمہیں یہ لوگ سکھا دے گے کھیل دیکھتے جاؤ 
بڑے اونچے سروں میں گفتگو کرتے ہو عشق کی ...
عشق تو ہے صرف گھاٹے کی تجارت بس دیکھتے جاؤ ....
By :Iqra abid cheema

Woh fursat se lagata hay zakham naey by Iqra Abdi Cheema

وہ فرصت سے لگاتاہے زخم نئے 
مگر کوئی زحم پرانا ہونے نہیں دیتا 
میری آنکھوں کو دیکھتا ہے خواب نئے 
مگر کوئی بھی خواب حقیقت ہونے نہیں دیتا 
By :iqra abid cheema

Aey bashar momin by Iqra Abid Cheema


اے بشر مومن 
تو کیا "عشق مجازی "کی حقیقت پوچھتا ہے 
کہ یہ حاک کے بندے نہیں جب
ملتے تو" عشق حقیقی" ملتا ہے ....
تجھے کیا معلوم  ....
جب روحوں کو حاموشیاں ڈس جائے 
تو وجود میں بے شمار قبریں امڈنے لگتی ہیں 
تجھے کیا معلوم ....

Band darechon se tujhy suno by Ifra Butt

بند دریچوں سے تجھے سنوں
تیری ذباں پہ میرا ہی نام ہو
ذندگی گر فرصت دے کبھی
میرے نام بھی کوٸ شام ہو
تو جستجو مسلسل ہے فقط
کچھ لمحوں کا تو آرام  ہو
مٹاۓ وقت کے دیۓ زخم سارے
یارو ایسا بھی تو کوٸ بام ہو
ڈھرکے گر تو ہاتھ رکھ دوں 
کبھی دل یوں بھی تو رام ہو
حوش میں رہتے ہوۓ سرِ بزم
تجھے بھولنے کا کوٸ جام ہو 

-

Pehly to tujhy auron ke sung dekhna by Ifra Butt

پہلے تو تجھے اوروں کے سنگ دیکھنا
پھر بات بہ بات تیرا مسکراۓ جانا
ہر شے سے بےنیاز خود میں رہنا
کبھی سوچ میں غلطاں کھوۓ رہنا
کسی بات کے اختتام پہ میری تشبیہ دے دینا
میرا نام  ہی  لے  لینا ، حد ہی کر دینا
کسی ناذک ساعت، نگاہ اٹھانا، نگاہ ملانا
وقت کا تھمنا ،نگاہ جھکانا وقت کا گزر جانا
اُس پار تو سکوت تھا، ادھر طوفان لے آنا
اس دل کی ویران گلیوں میں آگ لگا دینا
کبھی آنا کبھی جانا اک ہلچل مچا دینا
میرا رونا میرا دھونا خود ہی چپ بھی کر جانا
پہنچ سے دور ہی سہی مگر پاس میں رہنا
نظر انداذ کردینا مگر میرے سامنے  رہنا

Kabhi jo sham ko tanha by Ifra Butt

کبھی جو شام کو تنہا
چمکتی چاندنی دیکھو
میرا تم نام پڑھ لینا
مجھے تم یاد کر لینا
کبھی جو وقت پاٶ تم
ذرا تم سوچ لینا پھر
جسے تم جان کہتے تھے
اپنا تم مان کہتے تھے
جسے تم چھوڑ آۓ ہو
جسے تم رول  آ ۓ ہو
وہ آج بھی نگاہوں میں
تمہارا عکس رکھتا ہے
 شبوں کو جاگ کر تنہا
نہ جانے کیا کیا لکھتا ہے
مگر یہ بھی ذرا سوچو
کہ جو عشق کی راہوں میں
تمہارے آگے چلتا تھا
تمہیں اپنا سمجھتا تھا
وہ نفرت سیکھ جاۓ تو
تمہیں بھی مات دے دے گا
جل کر راکھ ہے خود   تو
تمہیں بھی راکھ کر دے گا

Pehli mulaqat by Ifra Butt

چلو پھر سے شروعات کرتے ہیں
ذرا  آٶ پہلی ملاقات کرتے ہیں
خو تو  ہماری وہی ہے مگر
نۓ گلے نۓ اعتراضات کرتے ہیں
اسی روش پہ چلتے ہوۓ رہبر
نۓ شکوے نۓ شاٸبات کرتے ہیں
ربط کی سنگینی میں کچھ کمی لاٸیں
وقت میں پیدا نۓ لمحات کرتے ہیں
ہم تیری گلیوں سے گذرتے ہوۓ جاناں
چلو آج اک نٸ واردات کرتے ہیں
تیری محفل پہنچے ہیں اے   اب کہ
خامشی میں ہی شکایات کرتے ہیں
دل لگی بھی رگِ جاں سے منسلک اپنی
اس دور میں بھی معاشقات کرتے ہیں
تیری سلطنت تری تمکنت سے ہٹ کے
چلو آج کوٸ نٸ بات کرتے ہیں
تیری یاد کی رو میں بہنے کے لۓ وقف
یہ شام کیا ساری رات کرتے ہیں

Jahan aakhri bar mily thy by Ifra Butt

جہاں آخری بار ملے تھےعرصہ ہوا ہم وہیں پڑے ہیں
جہاں تم بٹھا گۓ تھےآ دیکھ لے اب بھی وہیں پڑے ہیں
مدعے پر بھی نہ آۓ تھے کہ تلخ بحث ہو گٸ
وہیں میز پر چاۓ کے دو کپ بھرے پڑے ہیں
کہیں پلٹ نہ آٶ تم میرے در کے رستے سے
اسی خوف سے،عمر ہوٸ،تیری چوکھٹ پہ  پڑے ہیں
ہمیں جچتا ہی نہیں کہ ہار کر رستہ بدلیں
مدت ہوٸ ایک ہی چوٹی کے قدموں میں  پڑے ہیں
وہ جو بڑی چاہت سے گھر بلایا کرتے تھے کبھی
 انہیں کی محفل میں ٹھکراۓ گۓ، بے توقیر پڑے ہیں
ہمھی پہچان نہ سکے تم تو صاف برے دکھتے تھے
اب  اپنی ہی نظروں میں بری طرح گرے پڑے ہیں
اچھے وقتوں میں جو قول و قرار کیا کرتے تھے
وہ سب قسمیں،سب وعدیں دھرے کے دھرے پڑے ہیں
یہ گوارا ہی نہیں  کہ  میرا  بوجھ   اٹھایٸں غیر
خود  اپنی  قبر  میں ، کفن  میں  لپٹے  پڑے  ہیں

Tum angary chibaty ho by Ifra Butt

تم انگارے چباتے ہو
                   اور ہم چلتے ہیں انگاروں پر
                      تیری اک نگاہ   کی خاطر 
                   لو میں جان رکھ دوں ہاتھوں پر
                      یہ من مجھ ہی سے ہے بیگانہ 
                     تو ہے کہ چھا گیا حواسوں پر
                                                                                               
                      تیرا عکس دل میں اتر جاۓ
                   میں جو ہاتھ رکھ دوں آنکھوں پر 
                 مجھے   تیری  جفا   کا   گلہ  نہیں 
                    بس تھوڑا ہنس لو میری باتوں پر
x

Tuesday, 11 June 2019

Tm gharatgar ho by Khadija Noor


تم گارت گر ہو
اور بھول چکے ہو
اپنی آخرت
اور شکار کرتے ہو
معصوم جانو کا
تم نے زینب جیسی کلی کو
اجاڑ دیا
اور فرشتہ کو
ختم کردیا
تم مسل دیتے ہو
معصوم لڑکیوں کو
اور سمجھتے ہو
ہمیں چیونٹیاں
لیکن
میں تمہیں بتاؤں
کہ ہم لڑکیاں
چیونٹیاں ہی ہیں
اور جب کھڑی ہوجائیں گی
لاکھو زینب اور فرشہ
ہاتھ میں ہاتھ ڈالے
تب ہم چیونٹیوں کی
اک فوج بن جائے گی
اور پھر
ہم نہیں چھوڑیں گی
تمہاری گلی ہوئی
ہڈیاں بھی۔۔۔۔
ازقلم: خدیجہ نور

School ka zamana by Khadija Noor


اسکول کا زمانہ
وہ زور زور ہنسنا
دیکس پر سر رکھ کر رونا
وہ روٹھنا، منانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                        کاش پھر اسکول جاؤں....
دوستوں کی غیبتیں
ٹیچرز کی برائیاں
پرنسپل کا مزاق اڑانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ بریانی کی آرزو
وہ میکرونی کی خوشبو
امرود اور چاٹ مصالحہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ کاغذ کا جہاز
وہ بادشاہ کا وزیر
کبھی پہیلیاں سلجھانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                         میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ ٹیچر کی ڈانٹ
وہ پرنسپل کا خوف
وہ چھٹی کرنے کا بہانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                          کاش پھر اسکول جاؤں....
کبھی انک، کبھی پانی
دوستوں پر ڈالنا
پھر چغلیاں لگانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                       میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ آڑی ترچھی لکیریں
وہ چارسوبیس کا ٹیگ
شرٹ پر چپکانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ کیمسٹری کے numericals
 اور انگلش کے tenses
کا سر سے گزر جانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ ایگزام کی ٹینشن
وہ رٹے لگانا
اور پھرے بنانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      کاش پھر اسکول جاؤں....
وہ بریک ٹائم کی مستی
وہ چھٹی کا انتظار
وہ صبح کا ترانہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                      میں کیسے بھول جاؤں؟
وہ لاسٹ ڈے کا رونا
اور روتے ہوئے ہنسنا
اور ہنستے ہوئے گنگنانا
وہ گزرا ہوا زمانہ
                        کاش پھر اسکول جاؤں....
ان حسین پلوں کی یادیں
وہ ٹیچرز کا پیار
وہ دوستوں کا یارانہ
وہ گزرا ہوا زمانہ
                       میں کیسے بھول جاؤں؟ 
از قلم : خدیجہ نور

Saturday, 8 June 2019

Tum mujh ko bula lena by Kainat Khurshid Abbasi


نظم: تم مجھ کو بلا لینا
کائنات خورشید عباسی
آنکھوں کے کناروں پہ کچھ خواب سجا لےنا
میں آج بھی ویسی ہوں تم مجھ کو بلا لےنا

یوں تو ہو جاتی ہےخیالوں میں ملاقاتیں
جو حسرت باقی ہو تم مجھ کو بلا لےنا

کوئی بات جو کہنی ہو گر دل میں تلافی ہو
بس اک صدا لگا لےنا تم مجھ کو بلا لےنا

میں آج بھی ویسے ہی منتظر ہوں تمھاری
اک شام پلٹ آنا تم مجھ کو بلا لےنا
**********************


Wednesday, 5 June 2019

Meri chahaton ka hisab na kr by Ghazal Rehmn

میری  چاہتوں  کا حساب  نہ کر
میری  وفاؤں  پر  سوال  نہ  کر

دل   میں  اپنے  کھوٹ  لے  کر
میری  اذیتوں  پر  ملال  نہ  کر

مجھے تیرے ساتھ کی چاہ نہیں 
سو تو جھوٹے عہدو پیماں نہ کر

مجھے  تیری جفائیں قبول نہیں 
وفا  کے  روپ میں  اب دغا نہ کر 

دل شکستہ سہی لیکن زندہ ہے 
تو   اپنی  جیت   پہ  مان  نہ  کر

یہ دنیا فریب کی دنیا ہے اے دل
یہاں  ہر  کسی  پہ اعتبار  نہ کر

Udaas Tar Sham by Tanzeel Shakar









Sunday, 2 June 2019

Adaen to hum me bhi boht hen by ulfat rehmat

اداےء تو ہم میں بھی بہت ہے 
مگر مغرور فطرت سمجھ کر
اکثر حسن ادا ترک کر دیتے ہے

Monday, 27 May 2019

Poery by Muhammad Nadeem Qasir










Meri khawish by Naqsh e Iqra














Naat by Muhammad Nadeem qasir











Zindagi or log by Muhammad Atif












Muhabbat or narsai by Sana Hafeez









محبت دے یا نارساٸ دے، بس,
کھبی نہ تو احساسِ تنہاٸ دے,
جس طوفان میں الجھی ہے میری ذات,
اےکاش! تجھے بھی وہ سناٸ دے,
محبت سے بھی جیت نہ پاۓ جسے دل,
تو کبھی نہ اسے محبت کی خداٸ دے,
ہاتھ لگاتے ہی بھر جاٸیں گھاٶ سارے,
اے خدا! ایسی ہی کوٸ مسیحاٸ دے,
محبت ممنوع ہے قانونِ دنیا میں,
ایسے میں کون محبت کی گواہی دے,
اپنے بھی ملتے ہیں اجنبی بن کے,
اے خدا! کہیں تو سچی شناساٸ دے,
اچھا ہے محرومِ بصارت ہی رہے,
وہ جسے دل کی خوبصورتی بھی نہ دیکھاٸ دے,
وہ جس سے تعلق تھا محض چند لمحوں کا,
ہاتھ کی لکیروں میں کیسے وہ دیکھاٸ دے,
دلوں کے بھید تو فقط جانتا خدا ہے ثنا ٕ,
جو ظاہر ہے تجھے تو وہ بھی نہ دیکھاٸ دے۔۔۔۔

By Sana Hafeez

Khawab by Khadija Noor







ایک خواب مجھ کو ستاتا ہے
جو روز رات کو آتا ہے
اٹھتا ہے دل میں خوف سا
جو مجھے بہت ڈراتا ہے
میں ڈر کر سہم جاتی ہوں
وہ سایہ نظر جب آتا ہے
وہ چھوڑتا نہیں ہے مجھے کبھی
وہ ہر طرف چھا جاتا ہے
گرتے ہیں آنکھ سے آنسو
وہ مجھے بہت رلاتا ہے
خوف سے چونک جاتی ہوں
جب وہ آہٹیں سناتا ہے
جو خنجر سے ٹپکتا ہے
وہ خون مجھے دکھاتا ہے
یہ خواب حقیقت نہ ہوجائے
یہ خیال خوف دلاتا ہے

از خدیجہ نور