affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Bikhra hua wajood ghazal by Arain Muhammad Faisal Fahad

Tuesday, 30 December 2025

Bikhra hua wajood ghazal by Arain Muhammad Faisal Fahad

آزاد غزل؛

"بکھرا ہوا وجود"

فیصل فاحد

 

وہ رخصت ہوا،

مگر جاتے ہوئے آنکھوں میں جھانک کر نہیں دیکھا۔

نہ کوئی الوداع، نہ کوئی حرف،

بس خاموشی ساتھ لے گیا۔

 

کب گیا، کیوں گیا؟

یہ سوال دل میں چھوڑ گیا،

مگر جواب کبھی نہ دیا۔

اس کی خاموشی،

ہوا کی طرح آئی، چلی گئی،

بس یاد کی ایک خوشبو سی رہ گئی۔

 

ایسا لگتا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا،

جیسے دروازہ بجے گا،

اور سب کچھ پھر وہیں سے جڑ جائے گا،

مگر جاتے جاتے وہ چراغ بھی بجھا گیا،

جس کی روشنی میں ہم امید رکھتے تھے

 

اس نے درمیان میں بس ایک لکیر کھینچ دی،

نہ دیوار اٹھائی،

نہ بلند آواز کی،

بس وہ خاموشی، جو آج تک راستہ روکے کھڑی ہے

 

شاید وہ پھر کہیں ملے،

کسی موڑ پر،

کسی لمحے میں،

لیکن تب تک تلاش باقی ہے،

کیونکہ وہ اپنے قدموں کے نشان مٹا کر نہیں گیا

 

گھر میں اب بھی وہی خوشبو ہے،

وہی احساس،

وہی آہٹ،

جیسے وہ ابھی آیا تھا،

یا کچھ پل پہلے گیا ہو

 

اس کی یاد کبھی گلاب کی پتیوں جیسی تھی،

نرم، خوشبو دار، تازہ۔  ز

مگر پھر وقت نے اسے بھی بکھیر دیا،

اور وہ پتیوں سے جدائی کا درد دے گیا

 

وہ مجھے اس حال میں چھوڑ گیا

کہ میں خود سے بھی اجنبی ہو گیا ہوں۔

نہ کوئی خواب،

نہ کوئی ہنر،

بس ایک بکھرا ہوا وجود

 

میری زندگی اب بھی خاموش ہے،

مانگ سے خالی، خواہش سے دور۔ وہ چاہتا تو دل کے ذرے جلا دیتا،

لیکن وہ تو خاموشی سے گیا،

کسی تکلیف کی شدت دیے بغیر۔

 

اور فاحد...

تم نے سچ کہا تھا،

دکھ اس بات کا نہیں کہ وہ گیا،

بلکہ اس کا ہے

کہ جاتے ہوئے

کوئی گلہ بھی کر کے نہیں گیا۔

***********************

No comments:

Post a Comment