affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Monday, 2 May 2016

پچھلی تعبیر کے چھالے ہیں ابھی پاؤں میں


پچھلی تعبیر کے چھالے ہیں ابھی پاؤں میں 

 پھر نیا خواب سرہانے سے نکل آیا ہے..


یہ چھپ کر کون شہرِ دل سے گزرا


یہ چھپ کر کون شہرِ دل سے گزرا
ہمارے دل کی دھڑکن تھم گئی ہے

 

وہ میرے حال سے واقف نہیں ہیں
مری اُن تک خبر کم کم گئی ہے

 

خوشی لینے چلی آئی تھی لیکن
وہ لڑکی آج بھی پُر نم گئی ہے

 

وہ شور و غُل میں کیسے بات سنتے
مری آواز بھی مدّھم گئی ہے

 

کبھی آ کر انہیں شفاف کر دے
ترے وعدوں پہ مٹی جم گئی ہے

 

زین شکیل

ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻮ ﮬﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ


ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻮ ﮬﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ

 ﺗﻢ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﺲ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ دو..


تمام شب یُونہی دیکھیں گی سُوئے در آنکھیں


تمام شب یُونہی دیکھیں گی سُوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں

 

طلوعِ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں

 یہ دشتِ شب میں ستاروں کی ہمسفر آنکھیں

 

ستم یہ کم تو نہیں دلگرفتگی کے لیے !
میں شہر بھر میں اکیلا، اِدھر اُدھر آنکھیں

 

شمار اُسکی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرِتا ہے چھین کر آنکھیں

 

وہ پاس تھا تو زمانے کو دیکھتی ہی نہ تھیں
بچھڑ گیا تو ہُوئیں پھر سے در بدر آنکھیں

 

ابھی کہاں تجھے پہچاننے کی ضد کیجئے!
ابھی تو خود سے بھی ٹھہری ہیں بےخبر آنکھیں

 

میں اپنے اشک بچاؤں گا کس طرح محسن ؟
زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر انکھیں

اب کے تو اسطرح سے یاد آیا

اب کے تو اسطرح سے یاد آیا
جس طرح دشت میں گھنے سائے


جیسے دھندلے سے آئینے کے نقوش
جیسے صدیوں کی بات یاد آئے

محسن نقوی


.

دل اُداسی سے بھر دیا ہے


ہمارے کمرے میں پتیوں کی مہک نے
سگریٹ کے رقص کرتے دھوئیں سے مل کر ،
عجیب ماحول کر دیا ہے
اور اس پہ اب یہ گھڑی کی ٹک ٹک نے،
دل اُداسی سے بھر دیا ہے
کسی زمانے میں ہم نے،
ناصر، فراز، محسن، جمال، ثروت کے شعر

 اپنی چہکتی دیوار پر لکھے تھے
اب اس میں سیلن کیوں آگئی ہے........ ؟
ہمارا بستر کہ جس میں کوئی شکن نہیں ہے ، اسی پہ کب سے،
(وہ دائیں جانب، میں بائیں جانب.... )
نہ جانے کب سے دراز ہیں ہم ...

 میں اس سے شاید خفا نہیں ہوں ،
اُسے بھی کوئی گلہ نہیں ہے
مگر ہماری خمیدہ پشتیں جو پچھلی کتنی ہی ساعتوں سے
بس ایک دوجے کو تک رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھک گئی ہیں

 !

فریحہ نقوی

تم سے کہنا تھا

تم سے کہنا تھا
اک نظر کی فرصت میں
سطحِ دل پہ کھل اٹھے
لفظ بھی، معانی بھی
خامشی کی جھلمل میں
آگ بھی تھی پانی بھی
دل نے دھڑکنوں سے بھی
جو کہی نہیں اب تک
اَن کہی کہانی بھی
انَ کہی کہانی میں
آنکھ بھر تمنا تھی
ہاتھ بھر کی دوری پر
لمس بھر کی قربت تھی
لمحہ بھر کا سپنا تھا ۔۔۔
۔
ایوب خاور

تتلیوں کو دبوچنے سے رنگ روٹھ جایا کرتے ہیں.


تتلیوں کو دبوچنے سے رنگ روٹھ جایا کرتے ہیں.

 سجن خفا ہو تو آنکھوں کے سمندر سوکھ جاتے ہیں .

Sunday, 1 May 2016

محسوس ہو رہی ہے مہک سی ہوا کے ساتھ



محسوس ہو رہی ہے مہک سی ہوا کے ساتھ

لگتا ہے میرے شہر میں آیا ہوا ہے وہ.


کوئی کفر کفارہ کرو نی اڑیوں،


کوئی کفر کفارہ کرو نی اڑیوں،
میری جان کفر دی کملی ہوئی،
میرا رانجھن لگا جوگ سرہانے،
میری اکھی رو رو انی ہوئی،

میرا کعبہ مندر مندر ہویا،
میں تے حج وی یار دی راہ ڈبوئی
میرا ورد طواف وی ہور ہی ہویا،
میری روح وی کوکدی عشقاں کوئی،

میرے ورد الٹ، میرے وکھ وظیفے،
میں عشق سباق دی اجڑی ہوئی،
میرے ہور دھمال میرا لوک تماشا،
میری جان جے نچ نچ جھلی ہوئی،

میرا رانجھن رٹھیا میرے اونوں سجدے،
مینوں رب دی خیر خبر نا کوئی،
میرا ہور قران میری نوی نماز،
میرا یار سوا ہن پیر نہ کوئی،

منوں فیر نہ آکھیوں کافر مشرک،
میرے دل دماغ تے قبضہ کوئی،
مینوں رب وی جیڑا آن مناوے،
میں یار بنا نہ راضی ہوئی،

غالب کمال

آپ ہنس کر ملا نہیں کرتے

آپ ہنس کر ملا نہیں کرتے
پھول ایسے کھلا نہیں کرتے

 

 خود سے رہتے ہیں دیر تک ناراض
آپ سے بھی گلہ نہیں کرتے

 

درد ہوتے ہیں کس قدر باذوق
ہر کسی کو ملا نہیں کرتے

 

ایک ، دو پھر بھی رہ ہی جاتے ہیں
زخم سارے سلا نہیں کرتے

 

زین شکیل

کلّیوں کا تبسّم ہو، کہ تم ہو، کہ صَبا ہو

کلّیوں کا تبسّم ہو، کہ تم ہو، کہ صَبا ہو

اِس رات کے سنّاٹے میں، کوئی تو صدا ہو

 

یُوں جسم مہکتا ہے ہَوائے گُلِ تر سے !

جیسے کوئی پہلوُ سے ابھی اُٹھ کے گیا ہو

 

دُنیا ہَمہ تن گوش ہے، آہستہ سے بولو

کچھ اور قریب آؤ ، کوئی سُن نہ رہا ہو

 

یہ رنگ، یہ اندازِ نوازش تو وہی ہے

شاید کہ کہیں پہلے بھی توُ مجھ سے مِلا ہو

 

یوں رات کو ہوتا ہے گُماں دِل کی صدا پر

جیسے کوئی دِیوار سے سر پھوڑ رہا ہو

 

دُنیا کو خبر کیا ہے مِرے ذوقِ نظر کی

تم میرے لیے رنگ ہو، خوشبو ہو، ضیا ہو

 

یُوں تیری نِگاہوں میں اثر ڈُھونڈ رہا ہُوں

جیسے کہ تجھے دِل کے دَھڑکنے کا پتا ہو

 

اِس درجہ محبّت میں تغافل نہیں اچھّا

ہم بھی جو کبھی تم سے گُریزاں ہوں تو کیا ہو

 

ہم خاک کے ذرّوں میں ہیں اختر بھی، گُہر بھی

تم بامِ فلک سے، کبھی اُترو تو پتا ہو

 

اختر ہوشیارپوری

Saturday, 30 April 2016

آنکھ میں بے کراں ملال کی شام

آنکھ میں بے کراں ملال کی شام

دیکھنا ، عـــشق کے زوال کی شام

 

 میری قسمت ہے تیرے ہجر کا دن

میری حسرت تیرے وصال کی شام

 

دہکی دہکی تیرے جمال کی صُبح

مہکی مہکی میرے خیال کی شام

 

روپ صدیوں کی دوپہر پہ محیط

اوڑھنی ہے کہ ماہ و سال کی شام

 

پھر وہی در وہی صدا "محسنؔ"

پھر وہی میں ــ وہی سوال کی شام

 

محسن نقوی

"کہاں جاؤ گے"



اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند
عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے


عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری
سب ستارے سرِ خاشاک برس جائیں گے

 

آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں
اپنی تنہائی سمیٹے گا ، بچھائے گا کوئی


بے وفائی کی گھڑی ، ترکِ مدارات کا وقت
اس گھڑی اپنے سوا یاد نہ آئے گا کوئی


ترکِ دنیا کا سماں ، ختمِ ملاقات کا وقت
اِس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

 

اِس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں ، رہنے دو
کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو


اور ملے گا بھی تو اس طور کہ پچھتاؤ گے
اس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے

 

"فیض احمد فیض"

محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو


محبت آزماتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
جدائی اب ستاتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

 

محبت کے سنہرے باغ میں بے چین سی کوئل
کوئی جب گیت گاتی ہے مجھے تم یاد آتے ہو

 

اذیت ہوکہ راحت ہو کوئی کیسی بھی منزل ہو
تمہاری یاد آتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

کوئی تسکیں شدہ چہرہ نہیں بھاتا، نگاہ لیکن
تمہیں رو کر بلاتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

نہیں جب تم یہاں ہوتے، اداسی ظلم کرتی ہے
مجھے اتنا رلاتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

مجھے لوری سناتی ہیں مری تنہائیاں شب بھر
اداسی گنگناتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

کسی معصوم حسرت پر کوئی روتی ہوئی بچی،
کبھی جب مسکراتی ہے، مجھے تم یاد آتے ہو

 

زین شکیل

اک ترا دکھ ہی نہیں تھا کہ پریشاں ہوتے

اک ترا دکھ ہی نہیں تھا کہ پریشاں ہوتے
-
یہ جو پہناوا ہے زخموں پہ، مداوا تو نہیں
یہ جو آنکھیں ہیں، ترے نور سراپا کی قسم
اس قدر پھوٹ کے روئی ہیں کہ اب یاد نہیں
کون سا درد کہاں آن ملا تھا ہم کو
کس جگہ ضبط پریشان ہوا پھرتا رہا
نہ ہمیں راس رہا ہجر نہ ملنے کی گھڑی
اب تمہیں کیسے کہیں زخم پہ مرہم رکھو
اب تمہیں کیسے کہیں ہم سے کہیں آ کے ملو
اب تمہیں کیسے کہیں آنکھ سے بہتے ہوئے شخص
اب ہمیں اور کئی دکھ بھی تو ہو سکتے ہیں


زین شکیل

سُن سانسوں کے سلطان پیا

مری تھم تھم جاوے سانس پیا

مری آنکھ کو ساون راس پیا

 

تجھے سن سن دل میں ہوک اٹھے

ترا لہجہ بہت اداس پیا


ترے پیر کی خاک بنا ڈالوں

مرے تن پر جتنا ماس پیا


تُو ظاہر بھی، تُو باطن بھی

ترا ہر جانب احساس پیا


تری نگری کتنی دور سجن

مری جندڑی بہت اداس پیا


میں چاکر تیری ازلوں سے

تُو افضل، خاص الخاص پیا


مجھے سارے درد قبول سجن

مجھے تیری ہستی راس پیا


زین شکیل


سچے، سچل سائیِں

سُن ڈھولے، سُن کرمانوالے

سوہنے سچل سائیں

اپنا آپ دکھائِیں وے سائِیں

کبھی ہم سے دور نہ جائِیں

انجانے میں لگ جاتے ہیں دل کو روگ اَوَلڑے

سکھ کا مینہ برسا، اب کر بھاری بختوں کے پلڑے

ہم نادان مصیبت مارے

اپنے آپ سے تنگ

کِت جاویں؟ کس کو بتلاویں؟

سکھ کی ہم سے جنگ۔۔۔

ایسے گھور اندھیرے میں اب سُکھ کا دیپ جلائِیں!

سینے ہمیں لگائِیں!

وے سائیں کبھی ہم سے دور نہ جائِیں!

سچے، سچل سائیِں!


زین شکیل


پھر مجھے ٹوٹ کے چاہا اُس نے



 

پھر مجھے ٹوٹ کے چاہا اُس نے

 
پھر بچھڑنے کے زمانے آئے

 
__________
محسن نقوی


یہ کیسی تیری پریت پیا


یہ کیسی تیری پریت پیا
-
یہ کیسی تیری پریت پیا
تو دھڑکن کا سنگیت پیا
-
ترے رسم رواج عجیب بہت
مرا در در پھرے نصیب بہت
ترا ہجر جو مجھ میں آن بسا
میں تیرے ہوئی قریب بہت
-
مجھے ایسے لگ گئے روگ بُرے
میں جان گئی سب جوگ بُرے
آ سانول نگری پار چلیں
اس نگری کے سب لوگ بُرے
-
تجھے دیکھ لیا جب خواب اندر
میں آن پھنسی گرداب اندر
بن پگلی، جھلَی، دیوانی
میں ڈھونڈوں تجھے سراب اندر
-
ترے جب سے ہو گئے نین جدا
مرے دل سے ہو گیا چین جدا
کیا ایک بدن میں دو روحیں
ہم جسموں کے مابین جدا
-
یہ ہے ازلوں سے رِیت پیا
کب مل پائے من میت پیا
اب لوٹ آؤ سُونے مَن میں
کہیں وقت نہ جائے بیت پیا
-
یہ کیسی تیری پریت پیا
تو دھڑکن کا سنگیت پیا

  زین شکیل

 

Friday, 29 April 2016

کیوں نہ ہم اُس کو اُسی کا آئینہ ہو کر ملیں


کیوں نہ ہم اُس کو اُسی کا آئینہ ہو کر ملیں
بے وفا ہے وہ تو اُس کو بے وفا ہو کر ملیں

تلخیوں میں ڈھل نہ جائیں وصل کی اُکتاہٹیں
تھک گئے ہو تو چلو پِھر سے جُدا ہو کر ملیں

پہلی پہلی قُربتوں کی پھر اُٹھائیں لذتیں
آشنا آ! پھر ذرا نا آ شنا ہو کر ملیں

ایک تُو ہے سر سے پا تک سراپا اِنکسار
لوگ وہ بھی ہیں جو بندوں سے خُدا ہو کر ملیں

معذرت بن کر بھی اُس کو مل ہی سکتے ہیں عدیمؔ
یہ ضروری تو نہیں اُس کو سزا ہو کر ملیں

عدیمؔ ہاشمی



چڑھدے سورج ڈھلدے ویکھے


چڑھدے سورج ڈھلدے ویکھے
بجھدے دیوے بلدے ویکھے
ہیرے دا کوئی مُل نہ تارے
کھوٹے سکے چل دے ویکھے
جناں دا نہ جگ تے کوئی
اوہ وی پُتر پلدے ویکھے
اوہدی رحمت دے نال بندے
پانی اُتے چلدے ویکھے
لوکی کہندے دال نہ گل دی
میں تے پتھر گلدے ویکھے
جنہاں قدر نہ کیتی یار دی بلہیا
ہتھ خالی او ملدے ویکھے

 

کلام حضرت بابا بلھے شاہ

مجھ میں وہ تابِ ضبطِ شکایت کہاں ہے اب


مجھ میں وہ تابِ ضبطِ شکایت کہاں ہے اب
چھیڑو نہ تم کہ میرے بھی منہ میں زباں ہے اب

وہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبطِ راز تھا
چہرے سے اپنے شورشِ پنہاں عیاں ہے اب

جس دل کو قیدِ ہستئ دنیا سے ننگ تھا
وہ دل اسیرِ حلقۂ زلفِ بتاں ہے اب

آنے لگا جب اُس کی تمنا میں کچھ مزا
کہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے اب

لغزش نہ ہو بلا ہے حسینوں کا التفات
اے دل سنبھل وہ دشمنِ دیں مہرباں ہے اب

اک جرعۂ شراب نے سب کچھ بھلا دیا
ہم ہیں اور آستانۂ پیرِ مغاں ہے اب

ہے وقتِ نزع اور وہ آیا نہیں ہنوز
ہاں جذبِ دل مدد کہ دمِ امتحاں ہے اب

ہے دل غمِ جہاں سے سبکدوش ان دنوں
سر پڑتا سوجھتا کوئی بارِ گراں ہے اب

حالی تم اور ملازمتِ پیرِ مے فروش
وہ علمِ دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب

(خواجہ الطاف حسین حالی)

تیرا جمال نگاہوں میں لے کے اُٹھا ہوں،


تیرا جمال نگاہوں میں لے کے اُٹھا ہوں،
نکھر گئی ہے فضا تیرے پیرہن کی سی۔

 نسیم تیرے شبستاں سے ہو کے آئی ہے،
میری سحر میں مہک ہے تیرے بدن کی سی۔


" فیض احمد فیض "


کسی کشِش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا

کسی کشِش کے کسی سلسلے کا ہونا تھا
ہمیں بھی آخرش اِک دائرے کا ہونا تھا

ابھی سے اچھا ہوا رات سو گئی ورنہ
کبھی تو ختم سفر رت جگے کا ہونا تھا

برہنہ تن بڑی گزری تھی زندگی اپنی
لباس ہم کو ہی اِک دوسرے کا ہونا تھا

ہم اپنا دیدہ ئ بینا پہن کے نِکلے تھے
سڑک کے بیچ کسی حادثے کا ہونا تھا

ہمارے پائوں سے لپٹی ہوئی قیامت تھی
قدم قدم پہ کسی زلزلے کا ہونا تھا

ہم اپنے سامنے ہر لمحہ مرتے رہتے تھے
ہمارے دِل میں کسی مقبرے کا ہونا تھا

تم آ سکے نہ شبِ قدر کے اجالے میں
وگرنہ وصل بڑے مرتبے کا ہونا تھا

تمام رات بلاتا رہا ہے اِک تارہ
افق کے پار کسی معجزے کا ہونا تھا

کسی کے سامنے اٹھی نظر تو بہہ نکلا
ہماری آنکھ میں کیا آبلے کا ہونا تھا

یہ کیا کہ ساتھ ازل سے ہے ہمسفر منزل
کسی جگہ تو کسی مرحلے کا ہونا تھا

ہم اپنی ذات سے باہر نکل ہی آئے ہیں
کبھی ہمیں بھی کسی راستے کا ہونا تھا

یاسمین حبیب

Dewan e ghalib by Mirza Ghalib pdf.




Download free romantic heart touching Urdu poetry book 

Dewan e ghalib by Mirza Ghalib

complete in pdf .
click the link below to download.
 Download Link

ﻭﻩ ﻋﺎﺩﺕ ﻫﮯ ﺗﻮ ﻋﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﻩ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ

ﻭﻩ ﻋﺎﺩﺕ ﻫﮯ ﺗﻮ ﻋﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﻩ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ
ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ، ﺧﺴﺎﺭﻩ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ

 ﺭﻫﯿﮟ ﮔﮯ ﺳﺎﺗﻫ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻫﻢ ، ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﺎ ﻏﻢ
ﮐﮧ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺗﻨﻔﺲ ﭘﺮ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ

 ﺍﮔﺮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﮧ ﺑﮭﺮ ﺁﺋﯿﮟ ، ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﭩﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﮰ ﮔﺎ
ﻫﻮﺍ ﻫﮯ ﺣﺎﻝ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ، ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ

ﮐﮭﻠﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺧﻮﺍﺏ ، ﮐﯿﺴﮯ ﭨﻮﭦ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ
ﮔﻤﺎﮞ ﯾﮧ ، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ

 ﺟﻮ ﺍﺗﻨﯽ ﺟﮕﻤﮕﺎﮨﭧ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻫﻮ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺍﭘﻨﮯ
ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﭨﻮﭨﺎ ﺳﺘﺎﺭﻩ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ

 ﻫﻤﯿﮟ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ ، ﺍﺏ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺎ ،ﮐﯿﺎ ﻫﻢ ﻧﮯ؟
ﺯﻣﯿﻨﯽ ﻋﺸﻖ ﻫﮯ ﺻﺎﺣﺐ ! ﺩﻭﺑﺎﺭﻩ ﻫﻮ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﻫﮯ !

تیرا کیا بنے گا اے دل

کسی خواب سے فروزاں کسی یاد میں سمٹ کر

کسی حُسن سے درخشاں کسی نام سے لپٹ کر

 

وہ جو منزلیں وفا کی مرے راستوں میں آئیں

وہ جو لذتیں طلب کی مرے شوق نے اُٹھائیں


اُنہیں اب میں جمع کر کے کبھی دھیان میں جو لاؤں

تو ہجومِ رنگ و بو میں کوئی راستہ نہ پاؤں


کہیں خوشبوؤں کی جھلمل کہیں خواہشوں کے ریلے

کہیں تتلیوں کے جمگھٹ کہیں جگنوؤں کے میلے


پہ یہ دلفریب منظر کہیں ٹھہرتا نہیں ہے

کوئی عکس بھی مسلسل سرِ آئینہ نہیں ہے


یہی چند ثانیے ہیں مری ہرخوشی کا حاصل

انہیں کس طرح سمیٹوں کہ سمے کا تیز دھارا

سرِ موجِ زندگانی ہے فنا کا استعارا


نہ کھُلے گرہ بھنور کی نہ ملے نشانِ ساحل

ترا کیا بنے گا اے دل! ترا کیا بنے گا اے دل

 

 

Wo jis k ik pal k be rukhi bhi dil ko bar thi


Wo jis k ik pal k be rukhi bhi dil ko bar thi

Usy khud apny hath se likha hai.....mujhy bhool ja 

Parveen Shakir


یوں راہِ وفا کی صلیب پر دو قدم اُٹھانے کا شُکریہ

یوں راہِ وفا کی صلیب پر دو قدم اُٹھانے کا شُکریہ
بڑا پُر خطر تھا یہ راستہ ، تیرے لوٹ جانے کا شُکریہ

 

جو اُداس ہیں تیرے ھِجر میں ، جنھیں بوجھ لگتی ہیے زندگی
اُنہیں دیکھ کر سرِ بزم یوں ، تیرا منہ چُھپانے کا شُکریہ

 

تیری یاد کِس کِس بھیس میں میرے شعر و نغمہ میں ڈھل گئی
یہ کمال ہے تیری یاد کا ، مُجھے یاد آنے کا شُکریہ

 

مُجھے عِلم ہے نہیں مِٹ سَکی تھی جو گُفتگو کی وہ تشنگی
مِلا دِید سے بھی سَکوں مُجھے ، سرِ بام آنے کا شُکریہ

 

ہے زمانے بھر کا اصول جو ، وہ اصول تُم نے نبھا دیا
یہ رسم ٹھہرے گی معتبر ، مجھے بھول جانے کا شُکریہ

 

مُجھے خستہ حال سا دیکھ کر تیرے ہونٹ پھول سے کِھل اُٹھے
مجھے غم نہیں ، مجھے دیکھ کر تیرے مُسکرانے کا شُکریہ.

ہوا کے ہاتھ ایک پیغام


ہوا کے ہاتھ ایک پیغام

!اُسے کہنا
ابھی تک دل دھڑکتا ہے
ابھی تک سانس چلتی ہے
ابھی تک یہ مری آنکھیں
سہانے خواب بنتی ہیں
مرے ہونٹوں کی جنبش میں
تمہارا نام رہتا ہے
ابھی بارش کی بوندوں میں
تمہارا پیار باقی ہے
اُسے یہ بھی بتا دینا
ابھی اظہار باقی ہے
ابھی یادوں کے کانٹوں سے
مرا دامن الجھتا ہے
تمہارا پیار سینے میں
کہیں اب بھی دھڑکتا ہے
ہوا اب بھی موافق ہے
ہمارے ساتھ چلتی ہے

!اُسے کہنا
جدائی کا ابھی موسم نہیں آیا
محبت کی کہانی میں
کہیں پر غم نہیں آیا
مگر سب کچھ بدلنے میں
بھلا کیا دیر لگتی ہے
کسی کی یاد ڈھلنے میں
بھلا کیا دیر لگتی ہے
نئی صبح نکلنے میں
بھلا کیا دیر لگتی ہے

!اُسے کہنا
!وہ جلدی فیصلہ کر لے
نئے رستوں پہ چلنے میں
بھلا کیا دیر لگتی ہے?


Thursday, 28 April 2016

راحتِ دل متاعِ جاں ہے تو


راحتِ دل متاعِ جاں ہے تو
اے غمِ دوست جاوداں ہے تو
آنسوؤں پر بھی تیرا سایہ ہے
دھوپ کے سر پر سائباں ہے تو
دل تری دسترس میں کیوں نہ رہے
اس زمیں پر تو آسماں ہے تو

شامِ شہر اداس کے والی
اے مرے مہرباں کہاں ہے تو

سایۂ ابرِ رائیگاں ہوں میں
موجِ بحرِ بیکراں ہے تو

میں تہہِ دست و گرد پیرہن
لال و الماس کی دکاں ہے تو

لمحہ بھر مل کے روٹھنے والے
زندگی بھر کی داستاں ہے تو

کفر و ایماں کے فاصلوں کی قسم
اے متاعِ یقین گماں ہے تو

تیرا اقرار ہے نفی میری
میرے اثبات کا جہاں ہے تو

جو مقدر سنوار دیتے ہیں
ان ستاروں کی کہکشاں ہے تو

بے نشاں بے نشاں خیام میرے
کارواں کارواں رواں ہے تو

جلتے رہنا چراغ آخرِ شب
اپنے محسن کا رازداں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محسن نقوی

جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا


جسے پہلو میں رہ کر درد حاصل ہو نہیں سکتا
اُسے دل کون کہہ سکتا ہے، وہ دل ہو نہیں سکتا


وہ بندہ ، جس کو عرفاں اپنا حاصل ہو نہیں سکتا
کبھی خاصانِ حق کی صف میں شامل ہو نہیں سکتا

زمیں و آسماں کا فرق ہے دونوں کی فطرت میں
کوئی ذرّہ چمک کر ماہِ کامل ہو نہیں سکتا

محبت میں تو بس دیوانگی ہی کام آتی ہے
یہاں جو عقل دوڑائے، وہ عاقل ہو نہیں سکتا

پہنچتے ہیں، پہنچنے والے اُس کوچے میں مر مر کر
کوئی جنّت میں قبل از مرگ داخل ہو نہیں سکتا

نہیں جب اذنِ سجدہ ہی تو یہ تسلیم کیونکر ہو
مرا سر تیرے سنگ ِدر کے قابل ہو نہیں سکتا

مرا دل اور تم کو بھول جائے ، غیر ممکن ہے
تمہاری یاد سے دم بھر یہ غافل ہو نہیں سکتا

مرا ایمان ہے اُن پر ، مجھے اُن سے محبت ہے
مرا جذبہ ، مرا ایمان ، باطل ہو نہیں سکتا

نزاکت کے سبب خنجر اُٹھانا بار ہو جس کو
وہ قاتل بن نہیں سکتا، وہ قاتل ہو نہیں سکتا

مرے داغِ تمنّا کا ذرا سا عکس ہے ، شاید
کسی کے عارضِ دلکش پہ یہ تِل ہو نہیں سکتا

نہ ہو وارفتہ جو اُس جانِ خوبی پر دل و جاں سے
وہ عاشق بن نہیں سکتا ، وہ عاشق ہو نہیں سکتا

ہمیں منظور مر جانا ، اگر اُن کا اِشارہ ہو
یہ کام آسان ہو سکتا ہے، مشکل ہو نہیں سکتا

جو رونق آج ہے ، وہ آج ہے ، کل ہو نہیں سکتی
ہمارے بعد پھر یہ رنگِ محفل ہو نہیں سکتا

 

 پیر سید نصیر الدین نصیر

اوڑھے ہوئے ہیں کب سے ردائے سراب ہم

اوڑھے ہوئے ہیں کب سے ردائے سراب ہم
ذروں میں دیکھتے ہیں ستاروں کے خواب ہم


اک موج تہ نشیں ہیں تہِ بحر جستجو
چلتے ہیں آسمان پہ پا در رکاب ہم


وابستۂ شب غم ہجراں ہوئے تو کیا
کچھ تو لگا ہی لیں گے سحر کا حساب ہم


پھرتے ہیں کوئے دیدہ وراں میں لیے ہوئے
پابستگی دربدری کا عذاب ہم


اس عہد دلفریب میں شاید کہ بھول جائیں
ایام رفتگاں کی شکستہ کتاب ہم

 

 کیا رات تھی کہ دن بھی اندھیروں میں کھو گیا
شاید کہ رہ گئے ہیں پس آفتاب ہم

 

 خالد سواد ہجر سے نکلے تو ہو گئے
آوارۂ دیار شب ماہتاب ہم

ﻭﺣﺸﺘﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ـــ ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﻣَﯿﮟ

ﻭﺣﺸﺘﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﮨﯿﮟ ـــ ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺅﮞ ﻣَﯿﮟ
ﮔﮭﻮﻡ ﭘﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﮨُﻮﮞ ـــ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﮩﺮ ، ﺗﯿﺮﺍ ﮔﺎﺅﮞ ﻣَﯿﮟ

 

 ﮐﺲ ﮐﻮ ﺭﺍﺱ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ـ ـ ـ ﺍِﺗﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮐﺎ ﺟﺎﮔﻨﺎ ؟
ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ ـــ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎﺅٔﮞ ﻣَﯿﮟ

 

ﺍﺏ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ـ ـ ـ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﻭﺣﺸﺘﯿﮟ
ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ـــ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮈﺭ ﺟﺎﺅﮞ ﻣَﯿﮟ

 

ﮐﭽﮫ ﺑﺘﺎ ـ ـ ـ ﺍﮮ ﻣﺎﺗﻤﯽ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺩُﮬﻨﺪﻟﯽ ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ
ﺑُﮭﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ـــ ﺁﺧﺮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﯾﺎﺩ ﺁﺅﮞ ﻣَﯿﮟ؟

 

ﺍﺏ ﮐﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺩِﻝ ـ ـ ـ ﮐﮧ ﺻﺤﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻠﺘﺎ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ
ﺍﺏ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ـــ ﮔﮭﺒﺮﺍﺅﮞ ﻣَﯿﮟ

 

یاد کر کے تیرے لوٹ آنے کے وعدوں کی گھڑی
خود کو اِک معصوم بچے کی طرح بہلاؤں مَیں

میرے خوابوں نے تراشا تھا تِرا اُجلا بدن
آ تجھے اب فکر کی پوشاک بھی پہناؤں میں

کس لیے "محسن" کسی بے مہر کو اپنا کہوں
دِل کے شیشے کو کسی پتّھر سے کیوں ٹکراؤں میں...؟