affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Thursday, 21 January 2016

چلو چھوڑو!


چلو چھوڑو!
محبت جھوٹ ہے۔
عہدِ وفا اِک شغَل ہے بے کار لوگوں کا
’’طَلَب ‘‘ سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
’’ خلش ‘‘ دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
’’ خُمارِ وصل ‘‘ تپتی دھوپ کے سینے پہ اُڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!
’’ غبارِ ہجر ‘‘ صحرا میں سَرابوں سے اَٹے موسم کا خمیازہ
چلو چھوڑو۔۔۔۔!
کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ
چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تُم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے
رنگ بدلوگی!
چلو چھوڑو۔۔۔!
وہ سارے خواب کچّی بھُر بھُری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
تمہارے اُنگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں میرا لیکن
تمہاری اُنگلیاں تو عادتاً یہ جُرم کرتی تھیں
چلو چھوڑو۔۔۔!
سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں
صدیوں سے
چلو چھوڑو۔۔۔!
میرا ہونا نہ ہونا اِک برابر ہے
تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم اُترنے دو!
’’ میرے خوابوں کو مرنے دو ‘‘
نئی تصویر دیکھو
پھر نیا مکتوب لکھّو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
میری یادوں سے کچّے رابطے توڑو
چلو چھوڑو۔۔۔!
محبت جھوٹ ہے۔۔!
عہدِ وفا اِک شَغل ہے بے کار لوگوں کا۔۔۔۔!!

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفوُ کی ہے

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفوُ کی ہے
نہ کرَم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نِگاہ ہم پہ عدُو کی ہے

صَفِ زاہداں! ہے تو بے یقیں، صَفِ مے کشاں! ہے تو بے طلب
نہ وہ صُبْح، وِرد و وضُو کی ہے، نہ وہ شام، جام و سبُو کی ہے

نہ یہ غم نیا، نہ سِتم نیا، کہ تِری جفا کا گِلہ کریں
یہ نظرتھی پہلے بھی مُضطرب، یہ کسک تو دِل میں کبھو کی ہے

کفِ باغباں پہ بہارِ گُل کا ہے قرض پہلے سے بیشتر
کہ ہر ایک پُھول کے پَیرَہَن میں نمُود میرے لہُو کی ہے

نہیں ‌خوفِ روزِ سِیہ ہمَیں، کہ ہے فیض! ظرفِ نِگاہ میں
ابھی گوشہ گِیر وہ اِک کِرن، جو لگن اُس آئینہ رُو کی ہے

فیض احمد فیض
 

Tuesday, 19 January 2016

آنکھیں


وہ آنکھیں
جھیل سی آنکھیں
بہت گہری ہیں
ان میں تیرتے آنسو
کئی مفہوم رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
ایک مدت سے
بدلتے موسموں
بنتے،بگڑتے منظروں کی زد میں ہیں
لیکن
انہیں کچھ خواب
اپنے مخملیں احساس سے مسحور رکھتے ہیں
وہ آنکھیں
منتظر ہیں،کب کوئی آئے
حسیں خوابوں کو اپنے سحر سے
تعبیر میں بدلے
بہت سی ان کہی باتوں کے در کھولے
بہت سے بے نشاں جذبوں کو
آحساس شراکت دے

وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی قصے سنانے کے لیے بے چین پھرتی ہیں
وہ گہری جھیل سی آنکھیں
کئی مفہوم رکھتی ہیں
 

Saturday, 19 December 2015

ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ.....

ﺗﻢ ﺑﮯ ﺛﻤﺮ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺍﻣﯿﺪ
ﺗﻢ ﺭﮨﮕﺬﺍﺭ ﺷﻮﻕ ﻣﯿﮟ ﺟﺬﺑﮧ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺁﺭﺯﻭ ﮨﻮ ﺍﮨﻞ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺧﻠﺶ
ﺗﻢ ﺭﺗﺠﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﻟﻤﺤﮧ ﺳﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﮨﻮ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ
ﺗﻢ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮨﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﯿﻂ ﺣﻮﺍﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﺍﮎ ﮐﺮﻥ ﮨﻮ ﻧﻮﺭ ﺍﺯﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﺗﻢ ﺗﺎﺯﮔﯽ ﮨﻮ ﺷﺒﻨﻤﯽ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺱ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﮔﮩﺮﮮ ﭘﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﮯ ﻣﻮﺗﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻟﻤﺲ
ﺗﻢ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﺎﻥ ﺣﯿﺎﺕ ﮨﻮ
ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺸﻢ ﻧﻢ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮐﮩﮑﺸﺎﮞ
ﺗﻢ ﺣﺴﻦ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﮨﻮ, ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮨﻮ

Sunday, 1 November 2015

ہجر کی شب

غزلِ
مُحسن نقوی

کیا خزانے مِری جاں ہجر کی شب یاد آئے
تیرا چہرہ، تِری آنکھیں، تِرے لب یاد آئے

ایک تُو تھا جسے غُربت میں پُکارا دِل نے
ورنہ، بِچھڑے ہُوئے احباب تو سب یاد آئے

ہم نے ماضی کی سخاوت پہ جو پَل بھر سوچا
دُکھ بھی کیا کیا ہمیں یاروں کے سبَب یاد آئے

پُھول کِھلنے کا جو موسم مِرے دل میں اُترا
تیرے بخشے ہُوئے کچھ زخم عجَب، یاد آئے

اب تو آنکھوں میں فقط دُھول ہےکچھ یادوں کی
ہم اُسے یاد بھی آئے ہیں تو، کب یاد آئے

بُھول جانے میں، وہ ظالِم ہے بھَلا کا ماہر !
یاد آنے پہ بھی آئے، تو غضب یاد آئے

یہ خُنک رُت، یہ نئے سال کا پہلا لمحہ !
دِل کی خواہش ہے کہ، مُحسن، کوئی اب یاد آئے

دعا

سنو جاناں!
مجھے سب یاد ہے اب بھی
مجھے تم نے کہا تھا ناں!!!
"میری خاطر دعا کرنا,
مجھے دل میں, طبیعت میں,
درشتی اور سختی سی,
ذرا محسوس ہوتی ہے,
دعا کرنا میرے رب سے,
کہ وہ مجھ کو طبیعت میں,
اور اس دل میں,
ذرا نرمی عطا کر دے,
میرا دل موم سا کر دے,
مجھے دل, درد مند دے دے....!"
گواہ ساری خدائی ہے,
کہ اس لمحے سے لے کر آج تک
میرے جب ہاتھ اٹھے ہیں
کبھی جب بھی دعا مانگی,
میں سب کچھ بھول کر,
بس ایک جملہ دہراتی ہوں,
کہ" میرا اللہ!
تمہارے دل سے ساری سختیاں لے لے,
تمہیں دل موم سا دے دے,
تمہارا دل نرم کر دے..."
(آمین)
مگر دیکھو,
نہ جانے کن گناہوں کی سزا مجھ کو ملی ہے یوں..
کہ پچھلی ہر دعا کے ساتھ
میری یہ دعا بھی بارگاہ رب نے رد کردی,
وہی سختی ,
تمہارے دل میں کس شدت سے در آئی,
وہی سختی,
میری ہستی پہ تم نے خود آزمائی..
میری ہر آہ, سسکی اور صدا,
خود تم نے ٹھکرائی,....!
دعا کا یہ ثمر پا کر,مجھے اب خوف آتا ہے..
کہ میں اب زندگی بھر, اور کوئی بھی دعا,
شاید نہ کر پاؤں

اے اجنبی

سنو! 
اے اجنبی سے مہرباں 
 لیکن بہت اپنے
بہت دل کے سخی ہو تم
تمہاری آنکھ کے ہر رنگ میں
مرہم نما کچھ خواب بستے دیکھتی ہوں میں
تمہیں چھو کر نہیں دیکھا
مگر۔۔۔۔۔ میں اپنی سانسوں میں
عجب سی خوشبوئوں کے لمس پاتی ہوں
کبھی تم اپنے لہجے میں
کسی گزری مسافت کی تھکن جب گھولتے ہو تو۔!
میں اپنی خواہشوں کا ہر قدم بوجھل سا پاتی ہوں
تمہاری آنکھ میں کیسا انوکھا رنگ ہے پیارے؟
میرے خوابوں کے رنگوں سا
یا شائد پھر کوئی تعبیر لگتا ہے
تمہاری بات میں پھولوں سی کومل دلفریبی ہے
انہیں چن کر خیالوں میں کئی گجرے بناتی ہوں
انہیں جب دل میں دہرائوں۔۔۔
مہک تازہ ہی پاتی ہوں
مگر۔۔۔۔پیارے!
حقیقت.. زہر ہے پھر بھی حقیقت ہے
میرے دل کے کسی کونے میں۔۔۔
اِک لڑکی۔۔۔۔۔۔
بہت سہمی سی رہتی ہے
جسے بدلی رتوں کو دیکھنے سے خوف آتا ہے
کہ جسکے ذرد آنچل کے ۔ڈھلکتے ایک پلو میں
بندھی ہیں کرچیاں۔۔۔۔
یادوں کی۔۔۔خوابوں کی۔۔۔عذابوں کی
وہ یہ کہنے سے ڈرتی ہے
سنو !
اے اجنبی اپنے۔۔میرا آنچل نہیں اتنا
نئے خوابوں کی بکھری کرچیاں اس میں سمو پائیں
میری آنکھیں بہت بنجر۔۔
یہ اتنا رو نہ پائیں گی
کہ تازہ زخم دھو پائیں
مجھے تو راس ہے بس ایک ہی موسم
زیاں موسم۔۔۔خزاں موسم
۔یا شائد رائیگاں موسم

آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ



آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ

عمر گزری تجھے دیکھے ہوئے بہلائے ہوئے
یاد ہے؟
ہم تجھے دل مانتے تھے
اپنے سینے میں مچلتا ہوا ضدی بچہ
تیرے ہر ناز کو انگلی سے پکڑ کر اکثر
نت نئے خواب کے بازار میں لے آتے تھے
تیرے ہر نخرے کی فرمائش پر
ایک جیون کہ تمناؤں کی بینائی سے
ھم دیکھتے تھکتے ہی نہ تھے
سوچتے تھے ایک چھوٹا سا نيا گھر
نيا ماحول محبت کی فضا
ھم دونوں
اور کسی بات پر تکیوں سے لڑائی اپنی
پھر لڑائی میں کبھی ہنستے ہوئے رو پڑنا
اور کبھی روتے روتے ہنس پڑنا
اور تھک ہار کے گر پڑنے کا مصوم خوش بخش خیال
یاد ہے؟
ہم تجھے سکھ جانتے تھے
رات ہنس پڑتی تھی بےساخته درشن سے تیرے
دن تیری دوری سے رو پڑتا تھا
یاد ہے؟
ہم تجھے جاں کہتے تھے
تیری خاموشی سے ہم مرجاتے
تیری آواز سے جی اٹھتے تھے
تجھ کو چھو لینے سے اک زندگی
آ جاتی تھی شریانوں میں
تھام لینے سے کوئی شہر سا بس جاتا تھا ويرانوں میں
یاد ہے؟
ہم تجھے ملنے کے لیے وقت سے پہلے پہنچ جاتے تھے
اور ملاقات کے بعد ہم بہت دیر سے گھر آتے
تو کہتے کہ ہمیں کچھ نہ کہو ہم بہت دور سے گھر آئے ہیں
اس قدر دور سے آئے ہیں کہ شاید ہی کوئی آ پائے
یاد ہے؟
ہم تجھے بھگوان سمجھتے تھے مگر کفر سے ڈر جاتے تھے
تیرے چھن جانے کا ڈر ٹھیک سے رکھتا تھا مسلمان ہمیں
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
تیرے بھولے ھوئے رستوں پہ
لیے پھرتا ہے ایمان ہمیں
اور کہتا ہے کہ پہچان ہمیں
یاد ہے۔۔۔!
ہم تجھے ایمان کہا کرتے تھے۔۔۔!!
آ کسی شام کسی یاد کی دہلیز پہ آ
فرحت عباس شاہ

اہل وفا



دن رات کے آنے جانے میں
  دنیا کے عجائب خانے میں
کبھی شیشے دھندلے ہوتے ہیں،
کبھی منظر صاف نہیں ہوتے
کبھی سورج بات نہیں کرتا
کبھی تارے آنکھ بدلتے ہیں
کبھی منزل پیچھے رہتی ہے
کبھی رستے آگے چلتے ہیں
کبھی آسیں توڑ نہیں چڑھتیں
کبھی خدشے پورے ہوتے ہیں
کبھی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں
کبھی خواب ادھورے ہوتے ہیں
یہ تو سب صحیح ہے لیکن
اس آشوب کے منظر نامے میں
دن رات کے آنے جانے میں
دنیا کے عجائب خانے میں
کچھ سایہ کرتی آنکھوں کے ، پیماں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاتھوں سے اگرچہ دور سہی، امکاں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاں، ریت کے اس دریا سے ادھر
اک پیڑوں والی بستی کے
عنواں تو دکھائی دیتے ہیں!
منزل سے کوسوں دور سہی
پردرد سہی، رنجور سہی
زخموں سے مسافر چور سہی
پر کس سے کہیں اے جان وفا
کچھ ایسے گھاؤ بھی ہوتے ہیں جنہیں زخمی آپ نہیں دھوتے
بن روئے ہوئے آنسو کی طرح سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں
اور ساری عمر نہیں روتے
نیندیں بھی مہیا ہوتی، سپنے بھی دور نہیں ہوتے
کیوں پھر بھی جاگتے رہتے ہیں! کیوں ساری رات نہیں سوتے!
اب کس سے کہیں اے جان وفا
یہ اہل وفا
کس آگ میں جلتے رہتے ہیں، کیوں بجھ کر راکھ نہیں ہوتے

ﮐﺴﯽ ﺷﻤﻊ ﭘﮧ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ____ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺼﺪﺍً ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﺗﺎ

ﮐﺴﯽ ﺷﻤﻊ ﭘﮧ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ____ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﺼﺪﺍً ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﺗﺎ ...
ﺍﺳﮯﺗﻮ ﻭﺻﻞ ﮐﮯﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﺴﺮﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ،، ﺗُﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺘﺎ ...
ﺗﯿﺮﮮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﻓﺼﺎﺣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻨﺎ ...
ﮐﮧ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻮﻗﻌﻮﮞ ﭘﺮ ﻭﺿﺎﺣﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻧﺎﻣﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﻨّﺎ ﺑﮭﯽ ...
ﺍﺭﮮ ﺯﺍﮨﺪ،،، ﺩﮐﮭﺎﻭﮮ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﺮﺩﮦ ﺿﻤﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﺲ ﻟﺌﮯ ﺍﺗﻨﺎ؟؟؟؟
ﯾﮧ ﺑﮯ ﻭﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺮﺗﮯ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺳﻨﻮ ﻋﮩﺪِ ﺷﺒﺎﺏ ﺁﯾﺎ ﮬﮯ،،،،،،،، ﺍﺏ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ....
ﻧﺌﯽ ﮐﻠﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻬﻨﻮﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ....
ﺍُﺳﮯﮐﮩﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﻥ ﮈﮬﻠﻨﮯﮐﻮ ﮨﮯ ﺍﺏ ﮔﮭﺮﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﮯ ....
ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ،،،، ﻟﻤﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﯽ ﻟﯿﮑﻦ،،، ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﮬﮯ ...
ﻣﺠﮭﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﯾﮩﺎﮞ ﺩﻝ ﺑِﮏ ﺭﮨﮯﮨﯿﮟ ﺩﺭﮨﻢ ﻭﺩﯾﻨﺎﺭ ﮐﮯﻋِﻮَﺽ ...
ﻧﻔﻊ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﯾﮧ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮧ ﺭﻭﺩﯾﻨﺎ ...
ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻋﺎﺩﺕ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ ....
ﺗﻢ ﺍﻧﺠﺎﻡِ ﻣﺤﺒﺖ ﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻋﺎﺭﻑ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﮔﮯ ....
ﺗﻮ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ،، ’ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﯽ ﻫﮯ

تمہیں میں کِس طرح بھولوں

تمہیں میں کِس طرح بھولوں
بتاؤ کوئی نُسخہ ہے
مجھے تم یہ تو بتلاؤ کہ کیا تم کوئی منظر ہو
کہ جس کو دیکھ کر،میں اگلے پل میں بھول جاؤں گا
یا تم کوئی کہانی ہو
جسے پڑھ کر میں کچھ ہی دیر میں سب بھول جاؤں گا
یا تم کوئی کھلونا ہو
کہ جس کے ٹوٹ جانے پر میں اُس کو پھینک ڈالوں گا
یا تم کوئی تماشا ہو
جسے کچھ دیر رُک کر، دیکھ کر، میں اپنی راہ لوں گا
بتاؤ؟؟ اب کے چُپ کیوں ہو
کوئی نُسخہ تو ہو گا نا؟؟ کوئی تعویز بھی ہو گا
کوئی ترکیب تو ہو گی؟؟ کوئی تجویز ہی دے دو
ارے اب کچھ تو بتلاؤ اگر تم نے کہا ہے کہ "مجھے اب بھول جاؤ تم
مری جاں! بھول جاؤں گا ، مگر کیسے؟؟ یہ بتلاؤ
مرے محبوب....
بس کر دو ...
 ہنسی آتی ہے اب مجھ کو
تمہاری ایسی سوچوں پر،یہ اِن بچگانہ باتوں پر
سنو.....
ایسا نہیں ہوتا، تعلق ٹوٹ جانے پر کوئی بھولا نہیں کرتا
تمہیں جانا ہے ، تو جاؤ
میں رستے میں پڑا ہوں کیا
تمہیں اِک لفظ بولا ہو؟؟
کوئی شکوہ کیا میں نے؟؟
کوئی آنسو بہایا ہو؟؟
 کوئی دکھڑا سُنایا ہو؟؟
تمہیں رُکنے کا بولا ہو؟؟ کوئی تفصیل مانگی ہو؟؟
اگر ایسا نہیں کچھ بھی، تو پھر تم کیوں بضد ہو کہ تمہیں میں بھول ہی جاؤں؟؟
تمہیں جانا ہے نا؟؟؟... جاؤ
تمہاری یاد ہو،کچھ بھی ہو، تم آزاد ہو....جاؤ
تمہیں اِس سے نہیں مطلب....
 غلط فہمی تھی یا اُلفت
یہ میرا دردِ سر ہے، دردِ دِل ہے ، جو بھی ہے ، جاؤ
تمہارا کام تھا، تم نے محبت کی، بہت اچھے
یہ میرا کام ہے، میں یاد رکھوں یا بھُلا ڈالوں...
عجب باتیں ہیں دُنیا کی، عجب رسمیں ہیں اُلفت کی
محبت کر تو لیتے ہیں، نبھانا بھول جاتے ہیں
کسی دِن چھوڑ جائیں گے، بتانا بھول جاتے ہیں
مجھے اب کچھ نہیں سُننا، مجھے کچھ بھی نہ بتلاؤ
مجھے تم مشورے مت دو.....
کہ میں نے کیسے جینا ہے
اگر تم بھولنے کا گُر مجھے بتلا نہیں سکتے ،
تو پھر کچھ بھی نہ بتلاؤ
چلے جاؤ...
چلے جاؤ.....!
کبھی نہ لوٹ کر آنے کو تم.... جاؤ....... چلے جاؤ

مَیں ماٹی کے مول بِکی

مَیں ماٹی کے مول بِکی
بول کے بس دو بول بِکی
سَیّاں کو تب پیار آیا
زہر تھی جب وہ گھول چکی
بک گئی ایک رُوپلی میں
میری اک اَن مول سَکھی
جال میں اُس کے پاؤں پھنسے
چڑیا جب پَر کھول چکی
چال میں کب ہے فرق پڑا
من میں لیکن ڈول چکی
میں نے کہہ دی بِپتا سب
تُو بھی تو اب بول سَکھی !
آ برسات کی رُت آئی
ڈال گلے میں ڈھول سَکھی !
آنکھ کی سِیپ کے موتی کو
ماٹی میں نہ رول سکھی !
کہنے کی ہمّت نہ ہوئی
بات تھی لیکن تول چکی
یہ تو کہانی ٹھیک نہیں
اِس میں ہے کچھ جھول سَکھی !
ساجن سے نہ نظر ملے
کھل گئے سارے پول سَکھی !

Monday, 26 October 2015

یاد

چناب ... تجھ کو یاد ہے.. ؟؟
کہ تیرے ساحلوں کی نرم ریت پر،
ہوئی تھیں مہرباں وہ انگلیاں ۔ ۔ ۔
انھی کی ایک پور نے جو رقص عشق میں کیا،
اک اسم پھر امر ہوا ۔ ۔ ۔
چناب ... تیری ریت پر ..
وہ اسم اب کہیں نہیں ۔۔۔
بتا ! وہ ہاتھ کیا ہوۓ.. ؟؟
وہ نقش سب ہوا ہوۓ
وہ خواب سب دھواں ہوۓ
نہیں نہیں، یہ جھوٹ ہے.. 
یہ خواب ہے عجیب سا
ابھی بھی کچھ نہیں گیا
میں چاہتا ہوں آنکھ جب کھلے تو
نرم ریت پر میرا ہی ایک نام ہو ...

ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ جاؤں

ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ جاؤں
 ﺗﻮ
ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺧﺸﮏ ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ۔
ﺟﺐ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻓﺮﺍﻏﺖ پاؤ ﺗﻮ
 ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ ﮐﮯ ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ اﺱ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﻮ

 ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﺎ۔
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻧﺎ
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻃﺮﻑ ﭘﮩﺎﮌ ﮨﻮﮞ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﻮ جگنوؤں ﮐﮯ ﻗﺎﻓﻠﮯ
ﺍﻭﺭ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﻣﺤﻮِ ﺭﻗﺺ ﮨﻮﮞ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﻣﻨﮧ ﺯﻭﺭ ﭘﮩﺎﮌﯼ ﭼﺸﻤﮯ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ

 ﺳﻤﺎﻋﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺑﺨﺸﺘﯽ ﮨﻮ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮈﯾﺮﮮ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮭﻨﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ آنا
ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﭘﯿﮍ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻣﺴﺎﻓﺮ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺁﻥ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﺍﻧﺠﺎﻧﮯ ﮨﺎﺗﮫ دعاؤں ﮐﮯ
ﻟﺌَﮯ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ

 مجھے ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺁﻧﺎ 
ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﺮﺩﺍﺭ مر جائیں لیکن محبت ہمیشہ زندہ رﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺲ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ لینا
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻭﺍﺣﺪ ﺟﮕﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ

 ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ بعد ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ
 ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻮﮞ گا۔۔

تیرے بعد



وھی گردشیں وھی پیچ و خم________ تیرے بعد بھی
وھی حوصلے میرے دم بدم___ تیرے بعد بھی
تیرے ساتھ ھی تیری ھر جفا مجھے معتبر
تیرے سارے غم مجھے محترم______ تیرے بعد بھی
میرے ساتھ ھے میری ھر خوشی تیری منتظر
تیری منتظر میری چشم نم_______ تیرے بعد بھی
تو کسی کے قلب آرزو میں ڈھل گیا
میں نۂ ھو سکا کبھی خود میں زم___ تیرے بعد بعد بھی
میرے بعد کتنے ھی روپ تونے بدل لۓ
میں وھی ھوں اب بھی تیری قسم_____ تیرے بعد بھی

دستخط



چلو تحریر کرتے ہیں
وفا کیسے نبھانی ہے
کریں پھر دستخط
اُس پر
پھرے جو قول سے اپنے
سزا اُس کو ملے رب سے
اُسے پھر سے محبت ہو
....

سنو جاناں




سنو جاناں
تمہیں اک بات بتلاؤں؟
ہمیشہ یوں ہوا ہے کہ
جن کی سنگت میں رہ کر
سکون محسوس کرتی ہوں
جن کے ساتھ چل کر میں
خوشی محسوس کرتی ہوں
میں جن سے پیار کرتی ہوں
جن پہ اعتبار کرتی ہوں
وہ مجھ کو چھوڑ جاتے ہیں
میری امیدیں سب سپنے
میری امیدیں سب سپنے
وہ پل میں توڑ جاتے ہیں
سنو جاناں
اب تم بھی پاس رہتے ہو
تم بھی ساتھ چلتے ہو
تم سے بھی پیار کرتی ہوں
تم پہ اعتبار کرتی ہوں
مگر جاناں
ذرا سا روٹھ جاتے ہو تو
یقیں سا ہونے لگتا ہے
کہ تم بھی چھوڑ جاؤ گے
میری امیدیں سب سپنے
تم پل میں توڑ جاؤ گے
سنو جاناں
ہمیشہ یوں ہوا ہے نا
مگر اب کے سوچا ہے
روا یت توڑ دوں گی میں
کہ
تمہارے چھوڑنے سے پہلے ہی
تم کو چھوڑ دوں گی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

اے مَحبّت

اے مَحبّت 
تُو جنوں خیز اثر سے اپنے
میری ہستی کے بکھرتے ہوئے شِیرازے کو
مسخ ہونے سے بچانے کے لئے پاس نہ آ
تیرے ہم راہ کئی رنگ تو کچھ سنگ بھی ہیں
جن کی بارش سے لرزتے ہیں شکستہ آنگن
بے سکونی کا پتا دیتی ہے تیری قربت
اے مَحبّت !
یہ جنوں خیز اثر کی وَحشت
میری رگ رگ میں اتر آئی ہے
آنکھ چوکھٹ پہ جما بیٹھا ہے لمحہ کوئی
اور اس لمحے کی تعبیر میں رسوائی ہے
اے مَحبّت ! میں ترے درد کی وسعت لے کر
تیرے اَسرار کی چوکھٹ پہ چلی آئی ہوں
دل کی دہلیز پہ قبضہ ہے اسی لمحے کا
میں ترے دردسے رخصت کی تمنّائی ہوں

سب کچھ نام تمھارے


آج یہ سب کچھ نام تمھارے
ساحل
ریت
سمندر
لہریں
بستی
دوستی
صحرا
دریا
خوشبو
موسم
پھول
دریچے
بادل
سورج
چاند
ستارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے
خواب کی باتیں
یاد کے قصے
سوچ کے پہلو
نیند کے لمحے
درد کے آنسو
چین کے نغمے
اڑتے وقت کے بہتے دھارے
روح کی آہٹ
جسم کی جنبش
خون کی گردش
سانس کی لرزش
آنکھ کا پانی
چاہت کے یہ عنوان سارے
آج یہ سب کچھ نام تمھارے

کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر


کہا نہ کچھ عرض مدعا پر، وہ لے رہے دم کو مسکرا کر
سنا کئے حال چپکے چپکے، نظر اُٹھائی نہ سر اُٹھا کر
نہ طور دیکھے، نہ رنگ برتے غضب میں آیا ہوں دل لگا کر
وگر نہ دیتا ہے دل زمانہ یہ آزما کر، وہ آزما کر
تری محبت نے مار ڈالا ہزار ایذا سے مجھ کو ظالم
رُلا رُلا کر، گھلا گھلا کر، جلا جلا کر، مٹا مٹا کر
تمہیں تو ہو جو کہ خواب میں ہو، تمہیں تو ہو جو خیال میں ہو
کہاں چلے آنکھ میں سما کر، کدھر کو جاتے ہو دل میں آکر
ستم کہ جو لذت آشنا ہوں، کرم سے بے لطف، بے مزا ہوں
جو تو وفا بھی کرے تو ظالم یہ ہو تقاضا کہ پھر جفا کر
شراب خانہ ہے یہ تو زاہد، طلسم خانہ نہیں جو ٹوٹے
کہ توبہ کر لی گئی ہے توبہ ابھی یہاں سے شکست پاکر
نگہ کو بیباکیاں سکھاؤ، حجاب شرم و حیا اُٹھاؤ
بھلا کے مارا تو خاک مارا، لگاؤ چوٹیں جتا جتا کر
نہ ہر بشر کا جمال ایسا، نہ ہر فرشتے کا حال ایسا
کچھ اور سے اور ہو گیا تو مری نظر میں سما سما کر
خدا کا ملنا بہت ہے آساں، بتوں کا ملنا ہے سخت مشکل
یقیں نہیں‌ گر کسی کو ہمدم تو کوئی لائے اُسے منا کر
الہٰی قاصد کی خیر گذرے کہ آج کوچہ سے فتنہ گر کے
صبا نکلتی ہے لڑکھڑا کر، نسیم چلتی ہے تھرتھرا کر
جناب! سلطانِ عشق وہ ہے کرے جو اے داغ اک اشارہ
فرشتے حاضر ہوں دست بستہ ادب سے گردن جھکا جھکا کر —

دِل میں اِک دشت ھے


دِل میں اِک دشت ھے اور آبلہ پائی یوں ھے
وہ میرے سامنے بیٹھا ھے، جدائی یوں ھے
ایک تلوار بھی ھے کاسہءِ اُمید کے ساتھ
اب کے اِس شہر میں اندازِ گدائی یوں ھے
دِل، جگر، آنکھ سبھی ایک ھوئے جاتے ھوئے
میرے احوال میں وہ دستِ حِنائی یوں ھے
بزمِ احباب بھی ھے رونقِ دُنیا بھی ھے
پر میرا دل نہیں لگتا، میرے بھائی ! یوں ھے
تیرے بارے میں کوئی مجھ کو بتاتا ہی نہیں
 وہ خُدا ایسا ھے اور اُس کی خُدائی یوں ھے


Sunday, 25 October 2015

ﻣُﺤﺒّﺖ




ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
  ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ...!
ﻣَﮕﺮ ﻣَﻄﻠَﺐ ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﺎ،
ﺳَﻤﺠﮫ ﻟَﯿﻨﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﺁﺳﺎﻥ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﭘﺎ ﮐﮯ ﮐَﮭﻮ ﺩَﯾﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﮭﻮ ﮐﮯ ﭘﺎ ﻟَﯿﻨﺎ،
ﯾﮧ ﺍُﻥ ﻟَﻮﮔُﻮﮞ ﮐﮯ ﻗِﺼّﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﺟَﻮ ﻣُﺠﺮِﻡ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻣِﻞ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﮨَﻨﺴﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺑِﭽَﮭﮍ ﺟﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺭَﻭﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
!.............! ﺳُﻨﻮ !.............!
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐَﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗَﻮ،
ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣَﻮﺵ ﮨَﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻗُﺮﺑَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟَﻮ ﻓُﺮﻗَﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﻓَﺮﯾﺎﺩ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻧﮧ ﻭﮦ ﺍَﺷﮑُﻮﮞ ﮐَﻮ ﭘِﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮐﮯ ﮐِﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟَﻔﻆ ﮐﺎ،
ﭼَﺮﭼﺎ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﻭﮦ ﻣَﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺍَﭘﻨﯽ ﭼﺎﮨَﺖ ﮐَﻮ،
ﮐَﺒﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧَﮩﯿﮟ ﮐَﺮﺗﮯ،
ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻥ ﮨﮯ ﮐَﮩﻨﺎ،
ﻣُﺤﺒّﺖ ﮨَﻢ ﺑﮭﯽ ﮐَﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ

مجھے تم سے محبت ہے

میں جب بھی اس سے کہتی ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
وہ مجھ سے پوچھتا ہے کہ
بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟
میں بازو کھول کر کہتی ہوں کہ
زمیں سے آسماں تک ہے
فلک کی کہکشاں تک ہے
میرے دل سے تیرے دل تک
مکاں سے لا مکاں تک ہے
وہ کہتا ھے، کہ بس اتنی!!!
میں کہتی ھوں
یہ بہتی ھے
لہو کی تیز حدت میں
میرے جذبوں کی شدت میں
تیرے امکاں کی حسرت کی
میرے وجداں کی جدت میں
وہ کہتا ہے
نہیں کافی ابھی تک یہ
میں کہتی ہوں
ہوا کی سرسراہٹ ہے
تیرے قدموں کی آھٹ ہے
کسی شب کے کسی پل میں
مجسم کھنکھناہٹ ہے
وہ کہتا ہے
 یہ کیسے (محسوس) ہوتی ھے؟؟
میں کہتی ہوں
چمکتی دھوپ کی مانند
بلوریں سوت کی مانند
صبح کی شبنمی رت میں
لہکتی کوک کی مانند
وہ کہتا ھے
مجھے بہکاوے دیتی ہو؟
مجھے سچ سچ بتاؤ نا
مجے تم چاھتی بھی ہو
یا بس بہلاوے دیتی ہو؟
میں کہتی ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
کہ جیسے پنچھی پر کھولے
ہوا کے دوش پر جھولے
کہ جیسے برف پگھلے اور
جیسے موتیا پھولے
وہ کہتا ھے
 مجھےالو بناتی ہو
مجھے اتنا کیوں چاہتی ھو؟
میں اس سے پوچھتی ہوں اب
تمھیں مجھ سے محبت ہے؟
بتاؤ نا کہ، کتنی ہے
وہ بازو کھول کے
مجھ سے لپٹ کے
جھوم جاتا ہے
میری آنکھوں کو کر کے بند
مجھ کو چوم جاتا ھے
دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی
دھیرے سے مسکراتا ھے
میرے کانوں میں کہتا ھے
فقط اتنی...



مُسافر ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



مُسافر ھوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 تیرے شہر مُحبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا
چلا جاؤں گا اپنے راستے پر
زندگی کی رات ڈھلنے دے، بدن کو مات ھونے دے
رُکی ھے جو لبوں پر بات، ھونے دے
تیرا شہر محبت خُوب ھے لیکن اسیری کا بہانہ ھے
ازل کی اولیں ساعت، ابد کا آخری لمحہ
یہیں پر مرتکز سارا زمانہ ھے
مگر مُجھ کو ۔۔ دور آگے
لاجوردی روشنی سے پیار کرنا ھے
ترا شہرِ مُحبت تو میرا
۔۔۔۔۔۔۔۔
فصیلِ وقت کے ٹھہرے ھوئے اُس دائرے کو پار کرنا ھے
ابد کی سرحدوں سے
پہلا پڑاؤ ہے
جسے تو آخری منزل سمجھتی ھے
دِلوں کے راستوں پر وہ فقط اک نیم روشن
سا الاؤ ھے
بڑی لمبی مُسافت ھے، بڑا گہرا یہ گھاؤ ھے
ابد کے اُس طرف بھی راستے ھی راستے ھیں
فاصلوں کا ایک نادیدہ بہاؤ ھے
جِسے میں دیکھ سکتا ھوں
جِسے میں چھو بھی سکتا ھوں
مگر میں تو مُسافر ھوں
تیرے شہر مُحبت میں ذرا سی دیر ٹھہروں گا
چلا جاوْں گا اپنے رستے پر

محبت کیا ھے؟

محبت کیا ھے؟
محبت کیسی ھوتی ھے؟
سنتے آئے ھیں کہ
محبت
گلاب پہ شبنم کے جیسی ھوتی ھے.
محبت ٹوٹے دلوں پہ مرہم لگاتی ھے..
محبت غیروں کو اپنا بناتی ھے..
محبت چٹانوں کو بھی
موم کی طرح پگھلاتی ھے.
یہ صحراؤں کو گلستان بناتی ھے.
محبت پت جھڑ میں نویدِ بہار لاتی ھے..
محبت چکور کو حد پرواز سے گزرنے پر ُاُکساتی ھے ..
یہ پروانے کو شمع پہ مٹنا سکھاتی ھے..
محبت سادہ سی آنکھوں کو
حسین خوابوں سے سجاتی ھے...
محبت عام سے چہرے کو
اپنا نور بخشتی ھے...
"""لیکن"""
چلو دیکھیں ھم آج اسکا روپ دوسرا....
::::محبت.::::
گلاب سے چہرے سے شبنم
اک پل میں نچوڑ لیتی ھے.
یہ خوش باش سے دل کو
زخمِ ناسُور سا دیتی ھے.
محبت پل بھر میں اپنوں سے
کسی کو باغی کرتی ھے.
کبھی یہ موم سے دل کو
پتھر کا بناتی ھے.
یہ اپنی سے کرنے پہ اگر آجائے تو
بہارِ رُت میں بھی جھڑی ساون کی لگاتی ھے.
محبت دیوانگی میں اُڑتے چکور کو...
بے دم کر کے گراتی ھے..
محبت پروانے کی معصومیت کو.
ھر شمع پہ لُٹاتی ھے...
یہ سادہ آنکھوں کو حسین خوابوں سے سجا کر..
پھر ھر اک خواب کو نُوچ لیتی ھے..
محبت پُرنُور چہروں کے دیپ بُجھاتی ھے..
محبت ایسی بھی تو ھوتی ھے...
یہ کیوں دل کو ویران کرتی ھے...
کیونکر برباد کرتی ھے...
کسی کی یوں نھیں سنتی....
کیوں ھر بار اپنی سی کرتی ھے...

میں تم اور محبت


 میں تم اور محبت
عجیب لوگ ہیں یہ
ساتھ رہتے ہیں مگر
ساتھ میں رہتے ھى نہيں
کبھی میں ہوتا ہوں
تم اور محبت نہیں ہوتے
کبھی تم ہوتے ہو
میں اور محبت نہیں ہوتے
کبھی میں اور تم ہوتے ہیں
لیکن وہ محبت نہیں ہوتی
يہ ہونے نہ ہونے کی
مسلسل اک حیرانی ھے
میں نہیں ہوتا تو
کہاں ہوتا ہوں
تم نہیں ہوتے تو
کہاں ہوتے ہو
محبت نہیں ہوتی پھر
میں اور تم کیوں یہاں ہوتے ہیں
عجب معمہ ھے
حل نہيں ہوتا
بسں دو ھی رہتے ہیں
تیسرا نہیں ہو تا

ضد

ہی گر ضد تمہاری ہے
چلو ہم بھول جاتے ہیں
سبھی وعدے، سبھی قسمیں
محبت کی سبھی رسمیں
نہیں منظور جو تم کو
کریں رنجور جو تم کو
تمہاری شادمانی ہی، عزیز از جان ہے جب تو
تمہیں پھر ٹوکنا کیسا؟
زیاں، سود کی بابت، بھلا پھر سوچنا کیسا
چلو ہم بھول جاتے ہیں
محبت کی ریاضت میں
وفاؤں کی مسافت میں
قدم کس کے کہاں بہکے، ہوئی کس سے کہاں لرزش
بسا دی جس نے اک پل میں، ہماری آنکھوں میں بارش
کہ جس کی تیز بوندوں سے
کسی تیزاب کی صورت
نشانِ منزلِ دل ہی، جلا ڈالا مٹا ڈالا
مگر جاناں
کہاں آسان ہوتا ہےِ؟
جگر کا خون اشکوں میں، بدلنا اور بہا دینا
خس و خاشاک چن چن کر
گھروندہ اک بنانا اور۔۔۔۔۔اسی کو پھر جلا دینا
جواں سپنوں کی لاشوں کو
درونِ جاں چھپا کر ۔۔۔۔۔ مسکرا دینا
خزائیں پالنا خود میں، بہاریں بانٹے پھرنا
کہاں آسان ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟
بہت ممکن ہے ہم بھی ہار ہی جائیں
جواں ہے ضبط جو اب تک
مقابل غم کے آئیں۔۔۔۔ اور ڈھئے جائیں
اور اس میں‌ بھی تعجب کیا۔۔۔۔؟
تمہارے لوٹ آنے کی۔۔۔۔۔ بچی ہو آس جوکوئی
نوائے بےزباں بن کر
سسک کر پھر سے اٹھے اور۔۔۔۔۔۔ تم تک بھی پہنچ جائے
سو تم سے یہ گزارش ہے
تب اک احسان تم کرنا
پلٹ کر دیکھنا یوں سرد نظروں سے
کہ جو بھی آس زندہ ہو۔۔۔
اسے یکسر مٹا دینا
ہمیں پتھر بنا دینا...!!

منظر



اسے جاتے ہوئے دیکھا ہی کیوں تھا
...... وہ آنکھ میں پتھرا گیا نا.

اسے کہنا



اسے کہنا
 محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا میں کبھی بارش نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
فقط اک پل کو ہوتی ہے
اور اس کے بعد صدیاں خشک سالی میں گزرتی ہیں
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور اس میں وصل کی بارش کو صدیاں بیت جاتی ہیں
مگر پھر بھی نہیں ہوتی
اور اگر باالفرض ہو بھی تو
پھر اس کے بعد صدیوں کی جدائی مار دیتی ہے
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
اور صحرا کے سرابوں میں بھٹک جانے کا خدشہ سب کو رہتا ہے
کبھی پیاسے مسافر جب سرابوں میں بھٹک جائیں
انھیں رستہ نہیں ملتا
اسے کہنا
محبت ایک صحرا ہے
وفاؤں کے سرابوں سے اٹا صحرا
محبت کے مسافر گر
وفا کے ان سرابوں میں بھٹک جائیں
تو پھر وہ زندگی بھر ان سرابوں میں ہی رہتے ہیں
کبھی واپس نہیں آتے
..

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں




الفاظ کے جھوٹے بندھن میں
اغراض کے گہرے پردوں میں
ہر شخص محبت کرتا ہے
حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں
سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں
سب دِل رکھنے کی باتیں ہیں
کب کون کسی کا ہوتا ہے
سب اصلی روپ چھُپاتے ہیں
احساس سے خالی لوگ یہاں
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں
ایک بار نظر میں آکر وہ
پھر ساری عمر رُلاتے ہیں
یہ عشق و محبّت مہر و وفا
یہ سب کہنے کی باتیں ہیں
ہر شخص خود ہی کی مستی میں
بس اپنی خاطر جیتا ہے

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے

عشق 
سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
 جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے
 ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن 
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے
 دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
 جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے
 یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
 میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے

Friday, 16 October 2015

ہجر



کئی برسوں سے آنکھوں میں
مسلسل اک سمندر ہے
تمہیں بچھڑے ہوئے مدت ہوئی
لیکن یہ لگتا ہے
تمہارے ہجر کا پہلا ہی عشرہ کٹ نہیں پایا
وہ منظر چشمِ حیرت سے ابھی تک ہٹ نہیں پایا
کہ جب تم ـــــــــ ایک ساعت میں
جدائی سونپ کر مجھ کو
ہمیشہ کیلئے اُس دیس کو نکلے
جہاں جاتے ہوئے وعدے تو ہوتے ہیں
مگر ــــــــــ پورے نہیں ہوتے

Thursday, 15 October 2015

اکھاں چھم چھم وسیاں

اکھاں چھم چھم وسیاں
 دلاں دیاں گلاں دلاں وچھ رہ گیئاں
نہ تُو سنیاں نہ دسیاں
اکھاں چھم چھم وسیاں
نکی جئی جندڑی نوں روگ کی اے لا لیا
چنا پردیسیاں نوں میت کیوں بنا لیا
سوچاں وچ ڈُبی ھوئی ونگ میں سجائیاں وے
کدی رون کدی ھسیاں، اکھاں چھم چھم وسیاں
کیھڑی گل ماہیا وے تُو مُکھ ساتھوں موڑیا
دل ساڈا غماں دے سمندراں چ روہڑیا
ایسے دل چندرے دے آکھے کاہنوں لگ کے
دکھاں وِچ میں ھسیاں، اکھاں چھم چھم وسیاں
تُو نہ جدوں پاس چنا کی اے ساڈے پاس وے
دن وی اداس ساڈے راتاں وی اداس وے
لُٹ گیا چین ساڈا رُس گئے ھاسے وے
خوشیاں نیں دور نسیاں، اکھا چھم چھم وسیا
ں

کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟


کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟
کہو ، وہ دَشت کیسا تھا ؟
جِدھر سب کچھ لُٹا آئے
جِدھر آنکھیں گنوا آئے
کہا ، سیلاب جیسا تھا،
بہت چاہا کہ بچ نکلیں مگر سب کچھ بہا آئے
کہو ، وہ ہجر کیسا تھا ؟
کبھی چُھو کر اسے دیکھا
تو تُم نے کیا بھلا پایا
کہا ، بس آگ جیسا تھا ، اسے چُھو کر تو اپنی رُوح یہ تن من جلا آئے
کہو ، وہ وصل کیسا تھا ؟
تمہیں جب چُھو لیا اُس نے
تو کیا احساس جاگا تھا ؟
کہا ، اِک راستے جیسا ،جدھر سے بس گزرنا تھا ، مکاں لیکن بنا آئے
کہو ، وہ چاند کیسا تھا ؟
فلک سے جو اُتر آیا !
تمھاری آنکھ میں بسنے
کہا ، وہ خواب جیسا تھا ، نہیں تعبیر تھی اسکی ،
اسے اِک شب سُلا آئے
کہو ، وہ عشق کیسا تھا ؟
بِنا سوچے بِنا سمجھے ،
بِنا پرکھے کیا تُم نے
کہا ، تتلی کے رنگ جیسا ،
بہت کچا انوکھا سا ،
جبھی اس کو بُھلا آئے
کہو ، وہ نام کیسا تھا ؟
جِسے صحراؤں اور چنچل ،
ہواؤں پر لکھا تُم نے
کہا ، بس موسموں جیسا ،
ناجانے کس طرح کس پل کسی رو میں مِٹا آئے

Saturday, 10 October 2015

کبھی تو دیکھنا

کبھی تو دیکھنا اور دیکھ کر مسکرا دینا کبھی نظریں چرا کر میری الجھن بڑھا دینا اچانک بے رخی اتنی دل بھر گیا ہو گا کہا بھی تھا کبھی ایسا ہوا تو بتا دینا تمہیں دکھ ہی یہ دیں گے چلو تم ایسا کر لینا میرے سب کارڈز اور تحفے دریا میں بہا دینا تم گر دیکھ لو تو شاید تم بھی نرم پڑ جاؤ تمہارے ذکر پر وہ میرا نظریں جھکا دینا دیکھو لے آیا آخر کس مقام پر ہم کو تمہارا معمولی باتوں کو بھی یوں ہوا دینا کبھی دیکھا ہے مچھلی کو کہ زندہ ہو بنا پانی؟؟ 
اگر ایسا ہوا ممکن مجھے بے شک بھلا دینا

ﺁ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﮬﮯ ﻭﮦ

ﺁ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﮬﮯ ﻭﮦ
ﻟﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻭﮦ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ
ﺑﺴﺘﺎ ﮬﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﮬﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﮧ ﻭﮦ
ﮬﻨﺴﺘﺎ ﮬﮯ

کسک رہی گر ، گنوائیں نیندیں ، نہ چین پایا تو کیا کرو گے

کسک رہی گر ، گنوائیں نیندیں ، نہ چین پایا تو کیا کرو گے
گئی رتوں نے مری طرح سے تمہیں رلایا تو کیا کرو گے

یہ شان، عہدہ، یہ رتبہ ،درجہ ، ترقیوں کا یہ طنطنہ سا
کسی بھی لمحے نے کر دیا گر تمہیں پرایا تو کیا کرو گے

ابھی ہیں معقول عذر سارے، جواز بھی ہیں بجا تمہارے
کبھی جو مصروف ہو کے میں نے تمہیں بھلایا تو کیا کرو گے

چُراؤ نظریں ، چھڑاؤ دامن، بدل کے رستہ بڑھاؤ الجھن
تمہیں دعاؤں سے پھر بھی میں نے، خدا سے پایا ، تو کیا کرو گے

رحیم ہے وہ ، کریم ہے وہ ،وہی مسیحا ،وہی خدا ہے
اُسی نے سن لیں مر ی دعائیں ، جو رحم کھایا تو کیا کرو گے

وصال ُرت

وصال ُرت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش تھی
کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا
تمہارے ہاتھوں کالمس جب میری وفا کی ہتھیلوں پر حنا بنے گا
تو سوچ لو گی
رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں
ہمارے باغوں سے سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو نہ گزر پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں
اگر کوئی شام یوں بھی آئے کے ہم تم لگے پرائے
تو جان لینا
کے شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں
تمہاری خوہش کی مٹھیاں بے دھانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا
کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے
تمھارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خوہشوں میں
بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے
مگر یہ خدشے ، یہ وسوسے تو تکلفاََ ہیں
ہم اپنے جذبوں کو منجمدرائیگانیوں کے سپرد کر کے
یہ سوچ لے گے
کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی
سفر کا آغاز کر چکا تھا