affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Saturday, 21 October 2017

ایک دن چاند کی طرح از صوفیہ Ek din chand ki trah by Sophia

ایک دن چاند کی طرح

تمہیں بھی روشنی ملے گی

ایک دن ستاروں کی طرح
  
تم بھی چمکوں گے

ملے گا تمہیں وہ سب

جس کے تم قابل ہو 
 
نہ  گهبراؤ  اس دنیا کے لوگوں  سے  

ان کا تو کام ہے یہ 
 
دوسروں کی خوبیوں کو

خامیوں کا رنگ دینا

پر تم اپنے ارادوں کو 

مضبوط کر کے چلنا 

قدم بڑھاتے رہنا  

اپنی منزل کو پا کے رہنا

Monday, 9 October 2017

Teri rahi mein


حنائی ہاتھوں میں
سفید نرگس کے پھول تھامے
کھڑی رھی میں،
بہار آئی
خزاں میں بدلی
تیری رھی میں
گروی رکھ دی گلابی چوڑی
گجرے تک بھی اتار پھینکے
کہ اپنی ضد پہ اڑی رھی میں
تیری رھی میں

Kabhi un ka naam lena ,Kabhi un k baat krna


کبھی اُن کا نام لینا، کبھی اُن کی بات کرنا
میرا ذوق اُن کی چاہت، میرا شوق اُن پہ مرنا


وہ کسی کی جھیل آنکھیں، وہ میری جُنوں مِزاجی
کبھی ڈُوبنا اُبھر کر، کبھی ڈُوب کر اُبھرنا


تِیرے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کِسی کی بات سُننا نہ کِسی سے بات کرنا


شبِ غم نہ پُوچھ کیسے تِیرے مُبتلا پہ گُزری
کبھی آہ بھر کے گِرنا، کبھی گِر کے آہ بھرنا


وہ تِیری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مِیرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا

 

کہاں میرے دِل کی حسرت کہاں میری نارسائی ۔
کہاں تیرے گیسوؤں کا تِیرے دوش پر بِکھرنا

لوئے لوئے بھر لے کُڑیے

لوئے لوئے بھر لے کُڑیے، 

جے ددھ بھانڈا بھرناں
شام پئی بِن شام محمد،

 گھر جاندی نیں ڈرناں
مرنا مرنا ہر کوئی آکھے ،

میں وی آکھاں مرنا
جس مرنے وِچ یار نئی راضی،

 اُس مرنے دا کی کرنا​
بیلی بیلی ہر کوئی آکھے تے میں وی آکھاں بیلی
اس ویلے دا کوئی نہ بیلی جدوں نکلے جان اکیلی
ربّا توں بیلی تے سب جگ بیلی ان بیلی وی بیلی
سجناں باہجھ محمد بخشا سُنجی پئی حویلی۔
(سیف الملوک ۔ میاں محمد بخش۔ )

Agr me tum se kuch mango....,,



اگر میں تم سے کچھہ مانگوں........؟
اگر میں تم سے یوں بولوں.................؟
اگر میری تمنا ہو..............؟
میرے دل کی یہ خواہش ہو......؟
کہ......
زندگی میں جب کبھی تم کو پکاروں میں
تہمارا ساتھہ چاہوں میں.....؟
تہمارے پیار کی تھوڑی سی جو خیرات مانگوں میں.....؟
تو.......؟
وصل کے ان خوابیدہ لمحوں میں
تم!
ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو بانٹ لوگے ناں.......؟
ہمارا ساتھ دوگے ناں.....؟

Thursday, 28 September 2017

Nah ab woh dost hain by Maryam Sheikh

نہ اب وہ دوست ہیں
نہ اب وہ قصے کہانیاں ہیں
نہ اب کوئی حال پوچھتا ہے
نہ اب کوئی حال سُناتا ہے
نہ اب کوئی میری سیٹ  کے لیے لڑتا ہے
نہ اب کوئی ٹریٹ کے لیے لڑتا ہے
نہ اب کوئی بارش میں نہاتا ہے
نہ اب کوئی سموسہ کھلاتا ہے
نہ اب کوئی میری اسائنمنٹ کاپی کرتا ہے
نہ اب کوئی اگزیمز کی رات ہنساتا ہے
نہ اب کوئی بنک کرتا ہے
نہ اب کوئی پروکسی لگواتا ہے
نہ اب کوئی کیک کاٹتا ہے
نہ اب کوئی گفٹ دیتا ہے
نہ اب کوئی مسیج سین کرتا ہے
نہ اب کوئی کمینٹ کرتا ہے
نہ اب کوئی بھائی کی گاڑی چرا کے لاتا ہے
نہ اب کوئی سارا لاہور گھماتا ہے
نہ اب کوئی کافی ساتھ پیتاہے
نہ اب کوئی کش ساتھ لگاتا ہے
نہ اب کوئی وہ جھوٹی منگنی کی خبریں اڑاتا ہے
نہ اب کوئی بریک اپ پے ٹریٹ مانگتا ہے
نہ اب کوئی فلموں ڈراموں پر بحث کرتا ہے
نہ اب کوئی میرے کرش میں کیڑے نکالتا ہے
نہ اب کوئی پیزا ہٹ جاتا ہے
نہ اب کوئی بریانی کھلاتا ہے
نہ اب کوئی میچنگ کپڑے پہنتا ہے
نہ اب کوئی پینڈو کہہ کر دل جلاتا ہے
نہ اب کوئی میری جینز پہنتاہے
نہ اب کوئی میری پاکٹ منی چراتا ہے
نہ اب کوئی میرے پیسوں سے کھاتا ہے
نہ اب کوئی میری چیزیں چھپاتا ہے
نہ اب کوئی میری چاکلیٹس کھاتا ہے
نہ اب کوئی کوک پلاتا ہے
نہ اب کوئی میرے لیے لڑتا ہے
نہ اب کوئی مجھ سے لڑتا ہے
نہ اب وہ دوستوں کی چھیڑ چھاڑ ہے
نہ اب وہ قہقہوں کی بوچھاڑ ہے
نہ اب کوئی میری شادی پے آنے کا پلین کرتا ہے
نہ اب کوئی اپنی پے بلاتا ہے
نہ اب وہ پہلے سے دن ہیں
نہ اب وہ پہلی سی راتیں ہیں
نہ اب کوئی ساتھ ہنستا ہے
نہ اب کوئی ساتھ روتا ہے

اب اور کیا بتاؤں
کالج کا وہ چپا چپا اب اداس رہتا ہے
جہاں کبھی قہقوں کی بوچھاڑ ہوتی تھی

ہماری سرگوشیوں کا گواہ وہ درخت
اب ویرانیوں سے اجڑ گیا
ان گول گپوں کا کیا پوچھتے ہو صاحب
وہ ٹھیلا بھی اب ختم ہوگیا ہے
وہ جن ہواؤں میں بسی تھیں دوستی کی خوشبوئیں
وہ ہوائیں بھی اب رخ موڑ گئیں ہیں
وہ اب واٹس ایپ پروفائل پر گزارا کرنے والے دوست
سمجھتے ہیں مرنے والے کا حال اچھا ہے
وقت کی آندھیوں نے رخ ایسا موڑا ہے
کوئی جیے یا مرے اب کس کو تھوڑا ہے
وہ دن اب اداس رہتے ہیں
وہ راتیں بھی اب سسکتی ہیں
وہ ہزاروں کی جھرمٹ میں سجا چاند
اب اکیلا ہی ہنستا ہے
اب اکیلا ہی روتا ہے
وہ دن بھی اب گئے
وہ راتیں بھی اب گئیں
جب روتے تھے تو یار ہوتے تھے
جب ہنستے تھے تو یار ہوتے تھے


Wednesday, 27 September 2017

Wo dost ab nahi rahy (old & beautiful memories)

نہ اب وہ دوست ہیں 
نہ اب وہ قصے کہانیاں ہیں 
نہ اب کوئی حال پوچھتا ہے 
نہ اب کوئی حال سُناتا ہے 
نہ اب کوئی میری سیٹ  کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی ٹریٹ کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی بارش میں نہاتا ہے 
نہ اب کوئی سموسہ کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میری اسائنمنٹ کاپی کرتا ہے 
نہ اب کوئی اگزیمز کی رات ہنساتا ہے 
نہ اب کوئی بنک کرتا ہے 
نہ اب کوئی پروکسی لگواتا ہے 
نہ اب کوئی کیک کاٹتا ہے 
نہ اب کوئی گفٹ دیتا ہے 
نہ اب کوئی مسیج سین کرتا ہے 
نہ اب کوئی کمینٹ کرتا ہے 
نہ اب کوئی بھائی کی گاڑی چرا کے لاتا ہے 
نہ اب کوئی سارا لاہور گھماتا ہے 
نہ اب کوئی کافی ساتھ پیتاہے 
نہ اب کوئی کش ساتھ لگاتا ہے 
نہ اب کوئی وہ جھوٹی منگنی کی خبریں اڑاتا ہے 
نہ اب کوئی بریک اپ پے ٹریٹ مانگتا ہے 
نہ اب کوئی فلموں ڈراموں پر بحث کرتا ہے 
نہ اب کوئی میرے کرش میں کیڑے نکالتا ہے 
نہ اب کوئی پیزا ہٹ جاتا ہے 
نہ اب کوئی بریانی کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میچنگ کپڑے پہنتا ہے 
نہ اب کوئی پینڈو کہہ کر دل جلاتا ہے
نہ اب کوئی میری جینز پہنتاہے 
نہ اب کوئی میری پاکٹ منی چراتا ہے 
نہ اب کوئی میرے پیسوں سے کھاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چیزیں چھپاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چاکلیٹس کھاتا ہے 
نہ اب کوئی کوک پلاتا ہے 
نہ اب کوئی میرے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی مجھ سے لڑتا ہے 
نہ اب وہ دوستوں کی چھیڑ چھاڑ ہے 
نہ اب وہ قہقہوں کی بوچھاڑ ہے 
نہ اب کوئی میری شادی پے آنے کا پلین کرتا ہے 
نہ اب کوئی اپنی پے بلاتا ہے 
نہ اب وہ پہلے سے دن ہیں 
نہ اب وہ پہلی سی راتیں ہیں 
نہ اب کوئی ساتھ ہنستا ہے 
نہ اب کوئی ساتھ روتا ہے 
اب اور کیا بتاؤں 
کالج کا وہ چپا چپا اب اداس رہتا ہے 
جہاں کبھی قہقوں کی بوچھاڑ ہوتی تھی 

ہماری سرگوشیوں کا گواہ وہ درخت 
اب ویرانیوں سے اجڑ گیا 
ان گول گپوں کا کیا پوچھتے ہو صاحب 
وہ ٹھیلا بھی اب ختم ہوگیا ہے
وہ جن ہواؤں میں بسی تھیں دوستی کی خوشبوئیں 
وہ ہوائیں بھی اب رخ موڑ گئیں ہیں

 وہ اب واٹس ایپ پروفائل پر گزارا کرنے والے دوست 
سمجھتے ہیں مرنے والے کا حال اچھا ہے 
وقت کی آندھیوں نے رخ ایسا موڑا ہے 
کوئی جیے یا مرے اب کس کو تھوڑا ہے
وہ دن اب اداس رہتے ہیں 
وہ راتیں بھی اب سسکتی ہیں 
وہ ہزاروں کی جھرمٹ میں سجا چاند 
اب اکیلا ہی ہنستا ہے 
اب اکیلا ہی روتا ہے
وہ دن بھی اب گئے 
وہ راتیں بھی اب گئیں 
جب روتے تھے تو یار ہوتے تھے 
جب ہنستے تھے تو یار ہوتے تھے 

"مریم شیخ"

Wednesday, 20 September 2017

میری سانسوں کی روانی ہے



بات بے بات تم مجھ سے

 ناراض ہوجاتے هو

 برا سا منہ بنا کر .. خاموش ہوجاتے هو

 میں تمھیں کتنا مناتی ہوں

 پر تم تو ضد پر ہی اڈھ جاتے هو

 آخر تنگ اکر میں کہتی ہوں 

جب میں نہ ہونگی تو یاد کرو گۓ تم۔

اس بات کو سن کر تم

 بے ساختہ مسکراتے هو

 میرا ہاتھ تھامتے هو پھر کہتے چلے جاتے هو

 تم جو نہ ہوگی تو میں بھی جی نہ سکوں گا

 کے کس سے روٹھوں گا .

اور میں کس سے لڑوں گا

 تم ہی تو میرے جیون کی لڑی هو

 دل کا سکون اور روح کی خوشی هو

 میری زندگی کی حیات هو . 

میری آرزو میرا خواب هو

 میرا غرور هو میری دوستی کی میراج هو

میرا یہ روٹھ جانا تو

 تم سے الفت کی نشانی ہے

 کے دوستی میں روٹھنا منانا تو روز کی کہانی ہے

 بات بے بات پر منہ بناتا ھوں

 اور تمھیں بے حد ہنستا ھوں

 کے تمہاری یہی مسکان

 میری سانسوں کی روانی ہے

 عینی اسد

Saturday, 16 September 2017

یقین توڑے ۔۔۔۔ گمان چھینے



یقین توڑے ۔۔۔۔ گمان چھینے
ملے جو فرصت تو سوچنا کہ
تمہارے لفظوں نے میری آنکھوں سے
کیسے کیسے جہان چھینے
سکون لے کر ۔۔۔۔۔۔قرار لے کر
بس ایک پل میں جھٹک کے دامن
بدل کے رستہ چلے گئے ہو
شکستگی کے عذاب دے کر

وہی ہیں اآنسو ۔۔۔۔ وہی ہیں نالے

عمر بھر کی مسافتوں کے

بعد جسکو پتا چلے کہ

بھٹک گیا ہوں میں راستے سے

بتاؤ ہمدم ذرا یہ مجھکو

وہ اشک روکے یا ___دل سنبھالے


میں وہ ساری جگہیں دیکھنا چاہتی ہوں



میں وہ ساری جگہیں دیکھنا چاہتی ہوں
جنھیں تمھاری موجودگی نے مرتعش کر دیا
میں ان تمام راستوں سے گزرنا چاہتی ہوں
جن پر تمھارے قدموں نے منزلیں تراشیں
میں ان ہواؤں کو پینا چاہتی ہوں
جنھیں تمھاری خوشبو نے سیراب کیا
میں وہ ساری کتابیں پڑھنا چاہتی ہوں
جن کے حروف تمھارے مطالعے سے روشن ہیں
میں ان ساری چیزوں کو چھونا چاہتی ہوں
جنھیں تمھارے لمس نے جاوداں کردیا
میں تمھیں بالواسطہ یا بلاواسطہ
ایک لمحے کو بھی پا سکوں
تو صدیاں اسے دان کردوں گى

Tuesday, 12 September 2017

Chehray by Sophia

آج مجھے  پتا چلا
  چہرے  خوشیوں  سے  نہیں  
تکلیفوں سے  بدلتے  ہیں  

Tuesday, 29 August 2017

Mohabbat aziyat by Anee Asad

Mohabbat aziyat by Anee Asad


اس نے کہا تمہیں محبّت میں راحت ملے گی .
 میں نے کہا محبّت تو اذیت ہے .
تم کونسی راحت کے منتظر هو .
یہ تو فقط نظر کا دھوکہ ہے .
 ایک شفاف اور سفید دھوکہ .
 جو ہم کرتے ہیں اعتبار کے نام پر .
تم کن خوشیوں کے طلب گار هو .
که یہاں تو دکھ اور آنسوؤں کے سوا کچھ بھی نہیں .
 زندگی تو کسی کی بھی یہاں رکتی نہیں .
تم کہتے هو محبّت میں سکون ملے گا .
اے میرے ہمسفر!!
 یہ بس تمہاری خوش فہمیاں ہیں .
تمہیں پتہ ہے که جب محبّت پر نفرت غالب آجاے تو .
یہ اپنی وقعت اور وجود کھو دیتی ہے .
یہ محض ایک سایے کی مانند رہ جاتی ہے .
جو دن چڑھتے ساتھ ھوتا ہے .
 اور رات کے اندھیرے میں کوسوں دور .
سنو جاناں!!
 میں پھر بھی تم سے محبّت کرتی ھوں .
 کہ اپنے اس نرم و نازک وجود کو پاش ہوتے دیکھنا چاہتی ھوں .
میں خود کو تمہارے ہاتھوں سمٹتے دیکھنا چاہتی ہوں .
 میں تم پر اعتبار کرنا چاہتی ھوں .
میں اب بھی تم سے محبّت کرنا چاہتی ھوں ...

تحریر .. عینی اسد

Sunday, 27 August 2017

Ishq mein apna ahla muqam peda kar

عشق میں اپنا الا مقام پیدا کر
نیا زمانہ نے صوبۂ و شام پیدا کر
کرنا ہی ہے تو محنت سے پہاڑوں کو سر کر
اس معاشرے میں اپنا بھی اک نام پیدا کر
چاہیے اگر جنّت تو اس کے  لئے تو
سر توڑ محنت اور اچھا اخلاق پیدا کر
ہر کام کو کرنے کے لئے ممکن
خود میں ہمّت و جذبہ اور استحکام پیدا کر
نہ ہو گی منزل دور تم سے
اپنے گرد ماں باپ کی دعاؤں کا دائرہ پیدا کر
مت بیٹھ چپ ہر غلط کو دیکھ کر
کہ یہ تیرے لوگ ہیں ان پر مہربانی کے وصاف پیدا کر
مت بن اتنا سنگدل ک جو تیری نہیں پہچان
کہ یہ تیرے اپنے ہیں ان پی رحم ک وصاف پیدا کر
مت پر بحث میں ان ک ساتھ کہ یہ
رحمان کے ہیں بندے ان میں انصاف پیدا کر
تو نہیں ہار سکتا کہ تو ہے مومن
خود میں صبر اور انتظار کے اوصاف پیدا کر
آوارگی اور فرق رہنا تو نہیں ہے تیری پہچان
کہ تو ہے آدم کی اولاد تو خود میں اپنایت کا احساس پیدا کر
نہیں ہے کوئی ام کہ تو ہے پاکستان کی پہچان
خود میں انچایوں کو چھونے کے اوصاف پیدا کر
اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ یہ نہیں ہے تیری حقیقت
تو اپنے بھی کے لئے خود میں جذبہ ا ایثار پیدا کر
عرونہ سجاد

Thursday, 17 August 2017

Zindagi

تیرے دام سے نکل کر زندگی
جانے کس دام میں جا الجھی ھے
پیچھے بھی رسوائی تھی
آگے بھی تنہائی ھے

ساریہ چوہدری

اب کے دل میں

اب کے دل میں 
اک قبرستان بنا ڈالا ھے
جب بھی تیری یاد آئے گی
چپکے سے دفنا آئیں گے

ساریہ چوہدری