affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Sunday, 15 April 2018

Bila Unwan by Fizza Batool

"بلا عنوان"
  لفظ ہیں جوڑ توڑ حرفوں کی
یہ بھلا کب پائیدار ہوتے ہیں
دکھ ہی دیتے زندگی کو دوام
زخم تو سایہ دار ہوتے ہیں
عرش والے کی مان لینے سے
فرش والے بیزار ہوتے ہیں
یہ بغاوت نہیں عبادت ہے
آئینے کاٹ دار ہوتے ہیں
ہر اک کربلا کا محرک تو
اہل کوفہ کے تار ہوتے ہیں
اس کی آنکھوں کا رنگ ایسا کہ
دل تو سارے نہال ہوتے ہیں
عارضی نفرتوں میں گھر کر ہی
سارے انساں خوار ہوتے ہیں
دائمی حسرتوں کا کیا کہنا
جگر سارے فگار ہوتے ہیں
زندگی بوجھ بن ہی جاتی ہے
جب خسارے سوار ہوتے ہیں
رونا آئے تو پھوڑ لو آنکھیں
دلاسے خاردار ہوتے ہیں
صبر سے ہی عرش والے سے
رابطے استوار ہوتے ہیں

 
شاعرہ: فضہ بتول


Bila Unwan by Fizza Batool



"بلا عنوان"
لفظ ہیں جوڑ توڑ حرفوں کی
یہ بھلا کب پائیدار ہوتے ہیں
دکھ ہی دیتے زندگی کو دوام
زخم تو سایہ دار ہوتے ہیں
عرش والے کی مان لینے سے
فرش والے بیزار ہوتے ہیں
یہ بغاوت نہیں عبادت ہے
آئینے کاٹ دار ہوتے ہیں
ہر اک کربلا کا محرک تو
اہل کوفہ کے تار ہوتے ہیں
اس کی آنکھوں کا رنگ ایسا کہ
دل تو سارے نہال ہوتے ہیں
عارضی نفرتوں میں گھر کر ہی
سارے انساں خوار ہوتے ہیں
دائمی حسرتوں کا کیا کہنا
جگر سارے فگار ہوتے ہیں
زندگی بوجھ بن ہی جاتی ہے
جب خسارے سوار ہوتے ہیں
رونا آئے تو پھوڑ لو آنکھیں
دلاسے خاردار ہوتے ہیں
صبر سے ہی عرش والے سے
رابطے استوار ہوتے ہیں


شاعرہ: فضہ بتول



Bichrana kon chahata hai by Naima Ghazal

بچھڑنا کون چاہتا ہے
مگر اس زندگانی میں
سبھی لمحے
امر گر ہو بھی جائیں تو
زباں زد عام ہوتے ہیں
مگر قصے کہانی کی حدوں تک ہی یہ ممکن ہے
گھڑی کی سوئیاں کوئی
بھلا کیا روک سکتا ہے
یہ موسم آنے جانے ہیں
انہیں کیسے بھلا کوئی
پکڑ کر روک سکتا ہے
ہمارا تو کبھی خود پر بھی کوئی بس نہیں چلتا
کبھی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو دیکھ کر سوچو
ہمارا ضبط بھی اس کو بھلا کب روک پاتا ہے
مگر سب آتے جاتے موسموں سے ہم نے سیکھا ہے
کہ کچھ بھی ہو
کوئی دکھ ہو
کوئی آنسو
کوئی ہو درد کیسا بھی
ہماری زیست کا کیسا بھی موسم ہو
بدلنا اس کی فطرت ہے
کہ سارے موسموں کی ایک عادت یہ بہت اچھی

نائمہ غزل

Pory chand k raton m by Farzana Khral

پورے چاند کی راتوں میں
جب پہرہ خوشبو کا
تیرے دل پہ
ذرا سا ہاتھ رکھے
پرانا موسم میری آرزو کا
کوئی ٹوٹا ستارہ
پلک تیری چھو کے جائے
تمہاری انگلیوں کو
لمس میرا یاد آجائے
تبھی تم ہجر لکھنا
کبھی تم ہجر لکھنا

 شاعرہ فرزانہ کھرل


Thursday, 12 April 2018

چلو جاناں پھر سے محبت محبت کھیلتے ہیں از عروج احمد


چلو جاناں پھر سے محبت محبت  کھیلتے  ہیں

تم پھر سے مجھے خوابناک غزلیں لکھ کر بھیجنا
میں تحفے میں دو اداس آنکھوں کی نظمیں بھیجوں گی

تم روز رات دیر تک جاگ کر چاند سے میری باتیں کرنا
میں ڈائری میں تمھارے لیے چند پیغام لکھ چھوڑوں گی

چلو جاناں پھر سے محبت محبت کھیلتے ہیں_

مگر اب کی بار شرط یہ کہ ہم اپنی جگہیں بدل لیں
تم شرمیلی سی حور بن جاو کہ تمھیں دیکھوں تو بہک نہ جاوں

میں سخت گیر سا مرد بن جاوں اور پھر کھیل شروع ہو
تم مجھ پر سحر سا کردو میں پگھلوں تو موم موم ہو جاوں

چلو جاناں پھر سے محبت محبت کھیلتے ہیں_

اب کی بار کچھ ایسا کھیل ہو کہ تم یہ بازی پلٹ دو
اب کی بار تم جیت جانا کہ مات میرے حصے میں ہو

اب کی بار یوں خاموشی سے نہ جانا کہ سب ختم ہو جائے
اب کی بار کھیل یوں ختم ہو کہ اختیار میرے حصے میں ہو

چلو جاناں پھر سے محبت محبت کھیلتے ہیں_

عروج احمد

Kab tak hum khud ko jodty rahen gy by Hina Malik



کب تک ہم خود کو جوڑتےرہیں گے
اب عہد ہےکہ ہم بھی ٹوٹ کے جیئں گے

از قلم: ”حناملک

Nishani by Hina Malik


محنت وعظمت سے ملتی ہے کامرانی
خوابوں کو پانے کی بس یہی ہے نشانی

از قلم: ”حنا ملک

Manzal by Hina Malik


رستے میں جو سوئے تو کھو گئی منزل
منزلوں کےراہی کرتے ہیں سفر مسلسل

از قلم: ”حناملک

Hamen zarab bhi lagti hai by Hina Malik


ہمیں ضرب بھی لگتی ہے
اور تقسيم بھی ہو جاتےہیں
جمع بھی ہوہی جاتےہیں
بسؔ تفریق کو خود سے جوڑا نہیں کرتے

از قلم: ”حناملک


Wednesday, 11 April 2018

Tumhe ishq mujh se hota to youn hota by Nadim Qasir


{تمہیں عشق ہوتا مجھ سے تو یوں ہوتا }

میری دہلیز  پہ کھڑے،پہر پہر  بیتا دیتے
میری ایک جھلک کے واسطے راہوں میں پڑے ہوتے
اسف صد اسف تیری چاہت پہ رہسپار
تم راہِ زیست  میں گام گام ساتھ ہوتے
یوں چپکے سے چھوڑ کے جانے والے شبروان نہ ہوتے
تم ہوتے  تو میں خلوت نشیں نہ ہوتا
میری روحِ مطہر  یوں نہ تڑپتی
میرا سوزِجگر  جو دیھکتے تم بھی تڑپ اٹھتے


تمہیں عشق ہوتا مجھ سے تو یوں ہوتا

میری آنکھ جو اشک بار ہوتی تم سے بھی نہ ہنسا جاتا
تم میرا جراحتِ دل دیکھتے
تم میری شام و سحر کے مشتاق ہوتے

تمہیں عشق ہوتا مجھ سے تو یوں ہوتا

تم میری دید کے دعوٰے  دار ہوتے
تمہیں عشق ہوتا تو    میں ازیں شہرِ  برفتم نہ ہوتا
،
تمہیں عشق ہوتا مجھ سے تو یوں ہوتا

میں جو  ڈوب  رہا ہوتا  تم ساحل پہ کھڑے نہ رہتے
تمہیں عشق ہوتا تو، تمہیں اندیشہ ِہجر بھی ہوتا
میرے رنگ ِعشق نے شاید کے تجھے چھوا نہیں
تیرا دعوٰے عشق مجھے قبول نہیں
کاش! تمہیں تمنا ہوتی تو فقعت میری ہوتی

تمہیں عشق ہوتا مجھ سے تو یوں ہوتا

تہمیں عشق ہوتا مجھ سے تو میں تیرا مطمعِ نظر ہوتا
شکواہ،شکایت کرتے تم بھی محبت کرتے
قاؔصر میری خاطر تو ژولیدہ حال ہوتا


تمہیں عشق ہوتا مجھ سے تو یوں ہوتا

 By ::Nadeem qasir

Ishq k muragh e gariftar ko by Nadim Qasir


عشق  کے  مرغِ  گرفتار کو  اب  ٬ نجات  کہاں  ملے
تو  بتا  فصل ِ گل  میں خزاں  کے  نشاں  کہاں ملے 

کیا  کہا!  ترک ِ الفت  کا ارادہ   کیے  ہو ٬ بھلا   کیوں؟
رکھ کے پاٶں محبت میں واپسی کے امکانات کہاں ملے

آتا   ہے  اب  بھی  وہ   ٬ شام  ڈالے  گلی   میں  میری 
مگر   اب  اسے   میری   ملاقات   کہا ں    ملے

قاؔصر  غور  کیا  ٬ غنچہِ چمن  کی   حرکات   پہ   کبھی
افسوس!  کس  کی حرکت  ٬  اور  الزامات کہاں  ملے
       ندیم قاؔصر

Shayed by Urooj Ahmed



میں جس لمحے بھی تجھے دیکھوں
محبت کا نئے سرے سے آغاز ہو جاتا ہے۔۔
ان آنکھوں میں تیرا منظر
 اگلے دیدار تک جم جاتا ہے
میں آواز نہ دوں تو یہ نہ سمجھنا
جیسے بھول گئی ہوں شاید۔۔
تم کیا جانو اس خاموشی کی سریلی آواز کو
اس میں چھپا درد سب کچھ تو کہہ جاتا ہے
میں تجھے پکاروں تو پکاروں کس طرح
 یوں لگتا ہے شاید لفظوں کا فقداں ہو جاتا ہے
تمنا ہے تجھے دیکھنے
کو صدیوں کی مہلت مل جائے
تمنا ہے موت آنے تک
 تیری آغوش کا آسرا مل جائے
مگر یہ تمنایں کبھی پوری نہ ہوں شاید۔۔.
 عروج احمد

Hamary ho kar raho wagarna by A.H.Yaqin


Ik aks sa ubharta hay by A.H.Yaqin


Khot by A.H.Yaqin


Wohi hijar si rafaqat by A.H.Yaqin


Message by A.H.Yaqin


Neend bhi dheet hay by A.H.Yaqin


Mein khizan hon by A.H.Yaqin


Dua by A.H.Yaqin


Shabahat by A.H.Yaqin


Yeh mera dil hay jise ek pal qarar nahe by A.H. Yaqin


Kal rat by Hina Malik


کل رات بابا کی آئی یاد بہت
میں روئی ساری رات بہت
شب برات ہوگی اور میں تنہا
اس بات نے دی تکلیف بہت
دید انکی تھی عید میری.......
اس عید پہ ہونگے غمخوار بہت
وعدہ تھا روضہ مل کے دیکھیں گے
عمرے کیلئے تھے تیار بہت
آئےگا دن جب آزادی کا
آئیں گے بابا یاد بہت
جب کرتاہےکوئی ذکر اپنے بابا کا
دل ہو جاتاہے اداس بہت
الفاظوں کی تدبیر نہیں ہے
لکھنے کو ہیں جزبات بہت
کوئی تو انکو یہ بتلائے
کہ تاجؔ ولا ہے ویران بہت

از قلم: ”حناملک


Saturday, 7 April 2018

Gwadar City by Adeel Baloch


یہ لوگ تیرے نہیں ہے یہ شہر تیرا نہیں ہے
یہ مشورہ ہے میرا تو یہاں سے چل نکلو
عدیل بلوچ
This Poetry Written For Gwadar



Kirdar by Hina Malik


انسان کو بلند تو کردار کیاکرتاہے!
رنگوں کاکیاہےرنگ تو فقط خوشنما دکھاتےہیں!

از قلم: ”حنا ملک

Zindagi by Hina Malik


میں جو ہوں عجب تو میری زندگی ہے عجب تر
سفرطےکرتی رہی اک کارواں ہےسرِ راہ گزر

از قلم: ”حناملک

Dil by Hina Malik


شاخ جب روٹھتی ہے ٹہنی سےتو ٹہنی ٹوٹ جاتی ہے
یہ بات ہے مضبوط درختوں کی انسانیؔ دل تو بہت نازک ہوتے ہیں۔

از قلم: ”حناملک“

Muqadar by Hina Malik


جس کو بچھڑناہوتاہےوہ بچھڑ ہی جاتاہے
انسانوں کامقدر پہ بھلا کب زور چلتا ہے

از قلم: ”حناملک

Mere malik jesa tu chahta hai wesa bashar kar de by Kehkashan Hassan


لفظوں میں  نرمی ذات   کو  سایہ دار شجر  کر دے
میرے  مالک  جیسا  تو  چاہتامجھے  ویسا بشر کر دے
مانا   کہ بھیجا تھا تو نے دنیا  میں  کسی مقصد  کے لئے
بھٹکا  ہوں  راہ  سے تری رحمت کا اپنی اثر کر دے
بنا نادم  ہوےکیے گناہ پہ گناہ اس حیات فانی میں
تھک گیا ہوں مالک اپنی محبّت کو مجھ پہ امر کر دے 
بنا دے مجھےوہ  فلک ناز ہو جس کی کہکشاؤں پر
تاریکی کو جو کرے ختم مجھے وو روشن  سحر کر دے
کہکشاں حسن



Tuesday, 27 March 2018

Yar ki basti by Nadim Qasir


یار کی بستی

راہ میں پڑتی ہے بستی یار کی کچھ دیر روکتے چلو
بہت گزری شامیں ساتھ یار کے کچھ دیر روکتے چلو

جاں  ستاں  یادیں  ہیں اک فرسودہ  کہانی  ہے 
رات آج بھی چاندنی ہے کچھ دیر روکتے چلو

سرد ہوایئں بھی ویسی ہیں برسات کا موسم ہے
آج بھی بجلی ویسی کڑکتی ہے کچھ دیر روکتے چلو

چلو  سنیں کیا ابھی بھی آتے ہیں قہقے بزمِ یار سے
گر آج بھی سجھی محفلِ یار ہے کچھ دیر روکتے چلو

قاؔصر دیکھو تو یہی وہ بستی ہے کیا اب بھی وہ بستی ہے
دیکھو آج کیا خوب نظارے ہیں کچھ دیر روکتے چلو
                               ندیم قاؔصر

aj teri yad mein dil beqarar ho gaya hay by Nadim Qasir


آج تیری یاد میں دل بےقرار ہوگیا ہے
اس شبِ ماہ میں جی بیزار ہو گیا ہے

جو سو گیا تھا درد چادر تان کر
آج وہ دردِنہاں بیدار ہو گیا ہے

آفت ِجاں٬خمیازہ و آشوب ہے یاد تیری
آج شبِ زندہ دار بھی گناہگار ہو گیا ہے

شہنائی بجی چمن میں علانِ بہار ہوا
اب گلوں سے دل بیزار ہو گیا ہے

بچھڑ گیا ہے جب سے وہ آفتابی چہرہ قاؔصر
میری زیست کا ہر پہلو سوگوار ہو گیا ہے
                        ندیم قاؔصر