affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Friday, 1 December 2017

jo dil ka ho nah mukhlis by Noreen Muskan Sarwar

غزل
شاعرہ؛ نورین مسکان سرور
جو دل کا ہو نہ مخلص ،اس سے آنکھیں چار کیا کرنا
کسی بے فیض کی خاطر ،یہ دل بیمار کیا کرنا
قفل ہونٹوں پہ ،سینے میں لیئے پھرتے ہیں دل زخمی
  نگاہیں بند ہیں سب کی ،غم اظہاف کیا کرنا 
محبت کے سوالوں پہ میں اتنا کہہ کے آئی ہوں
نظر اقرار کرڈالے تو پھر انکار کیا کرنا
سر بازار اس کا مول ،چاہوں تو لگا ڈالوں
وہ ہے ہی آخری خواہش،اسے بیکار کیا کرنا
ضرورت معافیوں کی ہے،چلو سجدے میں گر جائیں
خدا روٹھا ہوا ،خلق خدا سے پیار کیا کرنا


be sabab yonhi aksar by Noreen Muskan Sarwar

غزل: محبت
شاعرہ: نورین مسکان سرور
بے سبب یونہی اکثر،  چھپ  کے رونے لگتے ہیں
اس کو دیکھ کر، اپنے ہوش کھونے لگتے ہیں
عشق اور محبت میں ،دید لازمی عنصر
کتنے معجزے اکثر ،اک ساتھ ہونے لگتے ہیں
کالی رات کی دیوی ،یاد اس کی لاتی ہے
دن کے جب تھکے ہارے شب کو سونے لگتے ہیں
نہ کبھی ہمارا تھا ،نہ وہ اب ہمارا ہے
سوچتے ہی ہم غم سے ،چور ہونے لگتے ہیں
مسکان سوچتے ہیں  جب، اس کو بھول جائیں اب
زندگی کی راہوں سے دور ہونے لگتے ہیں۔ 


Wednesday, 29 November 2017

Aah o fighan by Noreen Muskan Sarwar

بڑی امید سے میں نے تمہیں حالات لکھے ہیں۔
بہت ناکامیاں لکھیں،بہت سے خواب لکھے ہیں
کوئی تعلق نہیں تھا وہ ،فقط اک آشنائی تھی
جو ٹوٹے آبرو پر، وہ سبھی عذاب لکھے ہیں
بہت ہے جاں گسل قصہ مگر،پہچان آساں ہے
محبت اور جہالت کے سبھی نصاب لکھے ہی
یہاں نوچے کلیجے ہیں کسی نے پھول گلشن کے
بڑا بے حس زمانہ ہے،خلوص طاق لکھے ہیں
سر بازار ہوتا ہے بہن بیٹی کا جو سودا
وہ نیلامی کے سب کلیے ،ہنر بیباق لکھے ہیں
سمندر بے کراں روحیں تڑپتی ہیں جو لرزش ہے
ہاں ان ماؤں کے ،رونے کے سبھی انداز لکھے ہیں
وہ جو حصار ٹوٹا تھا،زمیں پر عظمت انساں
بلکتی آرزوئیں اور سسکتے خواب لکھے ہیں
جو مسکان ڈوبے تھے ،فلک کی نیلگوں میں وہ
ہاں گرہن میں اذیت سے تڑپتے چاند لکھے ہیں۔

Sunday, 26 November 2017

Ek ehsas sa by Areeba Fatima

ایک احساس سا 
کوئ خاس سا 
ناجانے کیوں ہر پل سوچوں میں رہتا ہے
جب چلتی ہواؤں میں
میری دعاؤں میں
اسکا ذکر أجاتا ہے
چہرہ کھل کھلا جاتا ہے
اٹھتی آس سا
میرے پاس سا
ناجانے کیوں ہر پل سوچوں میں رہتا ہے
مجھ سے بات کیلیۓ 
ایک ملاقات کیلۓ
کیا تھوڑا سا وقت نکال کر 
محبت کو نگاہوں میں ڈال کر
کیا وہ آسکتا ہے ؟ 
مجھے بتا سکتا ہے ؟ 
کیوں باتوں میں ٹھہرا ہے ؟ 
کیوں یادوں میں پہرہ ہے ؟
بجتے ساز سا
میرے راز سا
ناجانے کیوں ہر پل سوچوں میں رہتا ہے

Saturday, 25 November 2017

Ana ka takabar by Noreen Muskan Sarwar

انا کے ٹوٹ جانے سے تکبر سر پٹختا ہے
ملنساری ہنستی ہے ۔زعم جی بھر چٹختا ہے

قدر انسانیت کی پھر دوبارہ جاگ جاتی ہے

پھر شکوہ مقدر کا اندھیروں میں بھٹکتا ہے

خدا کی رحمتیں آکر زمیں پر غل مچاتی ہیں

قریب انسان کے پھر نا کوئی شیطاں پھٹکتا ہے

دلوں کی وادیوں میں پھر محبت جاگ جاتی ہے

وہاں کوئی  بھی  نفرت کا نہ پتھر اٹکتا ہے

پھر انصاف ہوتا ہے،ضمیروں کی عدالت میں

کرپشن اور رشوت پہ بڑا تالا لٹکتا ہے

وہاں مسکان سچائی کرو فر سے رہتی ہے

بڑے ہی غم پھر یوں جھوٹ اپنا سر جھٹکتا ہے


Thursday, 23 November 2017

Aj dairy pe likhty hoey by Rohy Gull


کاش میں تیرا موبائیل سام سانگ ہوتا Kash meiN tera mobile samsung hota by Muhammad Iqbal SHamas


کاش میں تیرا موبائیل سام سانگ ہوتا
شام وسحر اسی بہانے تیرے سنگ ہوتا
سجا سنوار کے رکھتی تو چاہت سے مجھے
ہر روز مجھ میں نیا اک رنگ ہوتا
نازک انگلی کے پوروں سے جب چھوتی مجھ کو
اپنی قسمت پر میں تو بس دنگ ہوتا
لگاتی مجھ کو جب سماعت سے بات کرنے کے لئے
میرے انگ انگ میں اک جلترنگ ہوتا
سکھا دیا تو نے اپنا کر سلیقہ جینے کا
تو نہ اپناتی تو اقبال بے ڈھنگ ہوتا
محمد اقبال شمس

Koi mere dil ka hal nahe janta by Rohy Gull


Nazam by Noreen Muskan Sarwar

بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟

جو میری ذات بے اماں کی

کرچی کرچی سمیٹ لیتا
مجھے مقدس حیا کی دیوی
سمجھ کے نظریں جھکا کے چلتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟
یہاں کسی کے پاس اتنا
وقت نہیں ہے کہ آتے جاتے
کسی مدد کے مستحق پر
تسلی کی اک نگاہ اٹھا دے
کوئی لگی آگ  کو بجھا دے
کسی کی کوئی راہگزر سجا دے
کسی پیاسے کی تشنگی کو
دے کے قطرہ اسے بجھا دے
پھر بھلا کوئی  مجھ کو کیسے
غم کی دلدل سے نکال لیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
کسی کی آہوں کی نہ فکر ہے
کسی کے رونے کا کیا سبب ہے؟
کیوں متورم ہوئی ہیں آنکھیں؟
سخن وری کیوں غم زدہ ہے؟
ہر طرف دھول ہے ،دھواں ہے
اور آبرو بھی بے اماں ہے
نہیں کسی کو فکر کسی کی
تو میری عزت کی فکر کس کو
میری حرمت کا کون وارث ؟
جو غموں کو سمیٹ لیتا
جومیرے خوابوں کی تعبیر ہوتا
جو معتبر مجھ کو کرتا
جو میری حسرتیں ساری گن کر
یاس کی دھوپ سے بچا کر
خواہشوں کو رنگ دے کر
ساری خوشیوں کا حساب دیتا
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟
جو مجھ کو خوشیاں نصیب کرتا
جومجھ کو دل کے قریب کرتا
جسے میری ذات کے چمن میں
گلوں کی از حد خوشی ستاتی
جسے میری چاہتوں کے نغمے
جا کے باد صبا سناتی
کوئی جو مجھ کو نام دے دے
عزت کا  سنہری لباس دےدے
کوئی جو در وبام دے دے
جو گمنام کو نامور بنا دے
کوئی تو عزت کا انعام دیتا
جو دیتا مسکان مجھے تسلی
بھلا یہ احسان کون کرتا؟؟؟؟؟


Wednesday, 22 November 2017

Mein purani hon ek kahani by Noreen Muskan Sarwar

میں پرانی ہوں اک کہانی ،مجھے بھلایا،توکیا خطا ہے ۔
میں ایک وعدہ ہوں بس وفا کا،جو توڑ ڈالا تو کیا برا ہے

میں خود  سراپائے عشق بن کر ،الم کی ایسی کتاب ہوں اب

جسے زمانہ پڑھے گا اک دن،حیات میری اک داستاں ہے 

میں تو بس ایک خواب تھا جو،آنکھ کھلتے ہی ٹوٹ جائے

جو تم نے اب ، دیکھنے سے پہلے ہی توڑ ڈالا تو کیا برا ہے

بھنور میں  آکر میری کشتی نے ڈوب جانا تھا،یہ اٹل تھا

سو تم نے پتوار پہلے چھوڑے ہیں ،ڈوبنے سے تو کیا گناہ ہے

اڑا ہے میرا آوارہ پنچھی ،چاہتوں کا تیری طلب میں

تم نے پر کاٹ کر جو اس کو سزا سنا دی تو کیا برا ہے

میرا مسکان دل وہ دنیا ،سدا جو آباد رہنا چاہے

اس کو بسنے سے پہلے  سنگدل، اجاڑ ڈالا تو کیا گناہ ہے

Saturday, 4 November 2017

Intezar _انتظار


انتظار
چلے آؤ کہ اب سورج کے ڈھلتے ہی مری آنکھیں !
سیہ ہوتے فلک پر گننے لگتی ہیں ستاروں کو
سنا تھا یہ کبھی میں نے
فلک پر جتنے تارے ہیں
اگر وہ گن لیے جائیں
تو پھر جو بھی دعا مانگیں
وہ پوری ہوکے رہتی ہیں
چلے آؤ!
کہ اب آنکھیں مری تھکنے لگی ہیں
اور دعائیں مانگتے لب بھی


عاطف سعید 

Tuesday, 31 October 2017

Mery HumSafar




مرے بے خبر
مرے ہمنشیں، میرے ہمسفر
تجھے کیا پتا، تجھے کیا خبر
مرے لب پہ ٹھہری ہوئی تھی 
جو وہ ہزار صدیوں کی پیاس تھی
تجھے پا کے مجھ کو لگا ہے یوں
مجھے صرف تیری تلاش تھی
مرے ہمنشیں،مرے ہمسفر
تجھے کیا پتا تجھے کیا خبر
مرے دل میں جتنا بھی پیار ہے
وہ ترے لیے ہے ترے لیے!
میں نے برسوں جس کے لیے لکھا
مرے خواب جس سے سجے رہے
وہ فقط ہے تو، تیری ذات ہے
تجھے کیا پتا، تجھے کیا خبر!
تجھے سوچ کر، تجھے چاہ کر
مرے ہمنشیں یہ یقیں ہوا
تو ہی منزلوں کا سراغ ہے
تو ہی تیرگی میں چراغ ہے
ہے تو ہی وہ جس کے لیے ہوں میں
مری زندگی، مری شاعری
مرا دن بھی، شام بھی، رات بھی
مری خامشی، مری بات بھی
تیرے بن جو گزری گزر گئی
بھلا اس کا کوئی شمار کیوں
مری زندگی ترا ساتھ ہے
ترا پیار میری حیات ہے
مرے ہمنشیں مرے ہمسفر
تجھے کیا پتا، تجھے کیا خبر
ترے پیار سے جو بجھی ہے اب
وہ ہزار صدیوں کی پیاس ہے
عاطف سعید

Monday, 23 October 2017

موت آئے گی تو چلی جاؤں گی از ثنا احمد

موت آئے گی تو  چلی جاؤں گی
زندہ رہ کر مجھے دور ہونا نہیں آتا
سلسلہ کچھ یوں ہے میری محبت کا
تمھارے سوا مجھے کسی اور کا ہونا نہیں آتا

Saturday, 21 October 2017

ایک دن چاند کی طرح از صوفیہ Ek din chand ki trah by Sophia

ایک دن چاند کی طرح

تمہیں بھی روشنی ملے گی

ایک دن ستاروں کی طرح
  
تم بھی چمکوں گے

ملے گا تمہیں وہ سب

جس کے تم قابل ہو 
 
نہ  گهبراؤ  اس دنیا کے لوگوں  سے  

ان کا تو کام ہے یہ 
 
دوسروں کی خوبیوں کو

خامیوں کا رنگ دینا

پر تم اپنے ارادوں کو 

مضبوط کر کے چلنا 

قدم بڑھاتے رہنا  

اپنی منزل کو پا کے رہنا

Monday, 9 October 2017

Teri rahi mein


حنائی ہاتھوں میں
سفید نرگس کے پھول تھامے
کھڑی رھی میں،
بہار آئی
خزاں میں بدلی
تیری رھی میں
گروی رکھ دی گلابی چوڑی
گجرے تک بھی اتار پھینکے
کہ اپنی ضد پہ اڑی رھی میں
تیری رھی میں

Kabhi un ka naam lena ,Kabhi un k baat krna


کبھی اُن کا نام لینا، کبھی اُن کی بات کرنا
میرا ذوق اُن کی چاہت، میرا شوق اُن پہ مرنا


وہ کسی کی جھیل آنکھیں، وہ میری جُنوں مِزاجی
کبھی ڈُوبنا اُبھر کر، کبھی ڈُوب کر اُبھرنا


تِیرے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے
نہ کِسی کی بات سُننا نہ کِسی سے بات کرنا


شبِ غم نہ پُوچھ کیسے تِیرے مُبتلا پہ گُزری
کبھی آہ بھر کے گِرنا، کبھی گِر کے آہ بھرنا


وہ تِیری گلی کے تیور، وہ نظر نظر پہ پہرے
وہ مِیرا کِسی بہانے تُجھے دیکھتے گُزرنا

 

کہاں میرے دِل کی حسرت کہاں میری نارسائی ۔
کہاں تیرے گیسوؤں کا تِیرے دوش پر بِکھرنا

لوئے لوئے بھر لے کُڑیے

لوئے لوئے بھر لے کُڑیے، 

جے ددھ بھانڈا بھرناں
شام پئی بِن شام محمد،

 گھر جاندی نیں ڈرناں
مرنا مرنا ہر کوئی آکھے ،

میں وی آکھاں مرنا
جس مرنے وِچ یار نئی راضی،

 اُس مرنے دا کی کرنا​
بیلی بیلی ہر کوئی آکھے تے میں وی آکھاں بیلی
اس ویلے دا کوئی نہ بیلی جدوں نکلے جان اکیلی
ربّا توں بیلی تے سب جگ بیلی ان بیلی وی بیلی
سجناں باہجھ محمد بخشا سُنجی پئی حویلی۔
(سیف الملوک ۔ میاں محمد بخش۔ )

Agr me tum se kuch mango....,,



اگر میں تم سے کچھہ مانگوں........؟
اگر میں تم سے یوں بولوں.................؟
اگر میری تمنا ہو..............؟
میرے دل کی یہ خواہش ہو......؟
کہ......
زندگی میں جب کبھی تم کو پکاروں میں
تہمارا ساتھہ چاہوں میں.....؟
تہمارے پیار کی تھوڑی سی جو خیرات مانگوں میں.....؟
تو.......؟
وصل کے ان خوابیدہ لمحوں میں
تم!
ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو بانٹ لوگے ناں.......؟
ہمارا ساتھ دوگے ناں.....؟

Thursday, 28 September 2017

Nah ab woh dost hain by Maryam Sheikh

نہ اب وہ دوست ہیں
نہ اب وہ قصے کہانیاں ہیں
نہ اب کوئی حال پوچھتا ہے
نہ اب کوئی حال سُناتا ہے
نہ اب کوئی میری سیٹ  کے لیے لڑتا ہے
نہ اب کوئی ٹریٹ کے لیے لڑتا ہے
نہ اب کوئی بارش میں نہاتا ہے
نہ اب کوئی سموسہ کھلاتا ہے
نہ اب کوئی میری اسائنمنٹ کاپی کرتا ہے
نہ اب کوئی اگزیمز کی رات ہنساتا ہے
نہ اب کوئی بنک کرتا ہے
نہ اب کوئی پروکسی لگواتا ہے
نہ اب کوئی کیک کاٹتا ہے
نہ اب کوئی گفٹ دیتا ہے
نہ اب کوئی مسیج سین کرتا ہے
نہ اب کوئی کمینٹ کرتا ہے
نہ اب کوئی بھائی کی گاڑی چرا کے لاتا ہے
نہ اب کوئی سارا لاہور گھماتا ہے
نہ اب کوئی کافی ساتھ پیتاہے
نہ اب کوئی کش ساتھ لگاتا ہے
نہ اب کوئی وہ جھوٹی منگنی کی خبریں اڑاتا ہے
نہ اب کوئی بریک اپ پے ٹریٹ مانگتا ہے
نہ اب کوئی فلموں ڈراموں پر بحث کرتا ہے
نہ اب کوئی میرے کرش میں کیڑے نکالتا ہے
نہ اب کوئی پیزا ہٹ جاتا ہے
نہ اب کوئی بریانی کھلاتا ہے
نہ اب کوئی میچنگ کپڑے پہنتا ہے
نہ اب کوئی پینڈو کہہ کر دل جلاتا ہے
نہ اب کوئی میری جینز پہنتاہے
نہ اب کوئی میری پاکٹ منی چراتا ہے
نہ اب کوئی میرے پیسوں سے کھاتا ہے
نہ اب کوئی میری چیزیں چھپاتا ہے
نہ اب کوئی میری چاکلیٹس کھاتا ہے
نہ اب کوئی کوک پلاتا ہے
نہ اب کوئی میرے لیے لڑتا ہے
نہ اب کوئی مجھ سے لڑتا ہے
نہ اب وہ دوستوں کی چھیڑ چھاڑ ہے
نہ اب وہ قہقہوں کی بوچھاڑ ہے
نہ اب کوئی میری شادی پے آنے کا پلین کرتا ہے
نہ اب کوئی اپنی پے بلاتا ہے
نہ اب وہ پہلے سے دن ہیں
نہ اب وہ پہلی سی راتیں ہیں
نہ اب کوئی ساتھ ہنستا ہے
نہ اب کوئی ساتھ روتا ہے

اب اور کیا بتاؤں
کالج کا وہ چپا چپا اب اداس رہتا ہے
جہاں کبھی قہقوں کی بوچھاڑ ہوتی تھی

ہماری سرگوشیوں کا گواہ وہ درخت
اب ویرانیوں سے اجڑ گیا
ان گول گپوں کا کیا پوچھتے ہو صاحب
وہ ٹھیلا بھی اب ختم ہوگیا ہے
وہ جن ہواؤں میں بسی تھیں دوستی کی خوشبوئیں
وہ ہوائیں بھی اب رخ موڑ گئیں ہیں
وہ اب واٹس ایپ پروفائل پر گزارا کرنے والے دوست
سمجھتے ہیں مرنے والے کا حال اچھا ہے
وقت کی آندھیوں نے رخ ایسا موڑا ہے
کوئی جیے یا مرے اب کس کو تھوڑا ہے
وہ دن اب اداس رہتے ہیں
وہ راتیں بھی اب سسکتی ہیں
وہ ہزاروں کی جھرمٹ میں سجا چاند
اب اکیلا ہی ہنستا ہے
اب اکیلا ہی روتا ہے
وہ دن بھی اب گئے
وہ راتیں بھی اب گئیں
جب روتے تھے تو یار ہوتے تھے
جب ہنستے تھے تو یار ہوتے تھے


Wednesday, 27 September 2017

Wo dost ab nahi rahy (old & beautiful memories)

نہ اب وہ دوست ہیں 
نہ اب وہ قصے کہانیاں ہیں 
نہ اب کوئی حال پوچھتا ہے 
نہ اب کوئی حال سُناتا ہے 
نہ اب کوئی میری سیٹ  کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی ٹریٹ کے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی بارش میں نہاتا ہے 
نہ اب کوئی سموسہ کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میری اسائنمنٹ کاپی کرتا ہے 
نہ اب کوئی اگزیمز کی رات ہنساتا ہے 
نہ اب کوئی بنک کرتا ہے 
نہ اب کوئی پروکسی لگواتا ہے 
نہ اب کوئی کیک کاٹتا ہے 
نہ اب کوئی گفٹ دیتا ہے 
نہ اب کوئی مسیج سین کرتا ہے 
نہ اب کوئی کمینٹ کرتا ہے 
نہ اب کوئی بھائی کی گاڑی چرا کے لاتا ہے 
نہ اب کوئی سارا لاہور گھماتا ہے 
نہ اب کوئی کافی ساتھ پیتاہے 
نہ اب کوئی کش ساتھ لگاتا ہے 
نہ اب کوئی وہ جھوٹی منگنی کی خبریں اڑاتا ہے 
نہ اب کوئی بریک اپ پے ٹریٹ مانگتا ہے 
نہ اب کوئی فلموں ڈراموں پر بحث کرتا ہے 
نہ اب کوئی میرے کرش میں کیڑے نکالتا ہے 
نہ اب کوئی پیزا ہٹ جاتا ہے 
نہ اب کوئی بریانی کھلاتا ہے 
نہ اب کوئی میچنگ کپڑے پہنتا ہے 
نہ اب کوئی پینڈو کہہ کر دل جلاتا ہے
نہ اب کوئی میری جینز پہنتاہے 
نہ اب کوئی میری پاکٹ منی چراتا ہے 
نہ اب کوئی میرے پیسوں سے کھاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چیزیں چھپاتا ہے 
نہ اب کوئی میری چاکلیٹس کھاتا ہے 
نہ اب کوئی کوک پلاتا ہے 
نہ اب کوئی میرے لیے لڑتا ہے 
نہ اب کوئی مجھ سے لڑتا ہے 
نہ اب وہ دوستوں کی چھیڑ چھاڑ ہے 
نہ اب وہ قہقہوں کی بوچھاڑ ہے 
نہ اب کوئی میری شادی پے آنے کا پلین کرتا ہے 
نہ اب کوئی اپنی پے بلاتا ہے 
نہ اب وہ پہلے سے دن ہیں 
نہ اب وہ پہلی سی راتیں ہیں 
نہ اب کوئی ساتھ ہنستا ہے 
نہ اب کوئی ساتھ روتا ہے 
اب اور کیا بتاؤں 
کالج کا وہ چپا چپا اب اداس رہتا ہے 
جہاں کبھی قہقوں کی بوچھاڑ ہوتی تھی 

ہماری سرگوشیوں کا گواہ وہ درخت 
اب ویرانیوں سے اجڑ گیا 
ان گول گپوں کا کیا پوچھتے ہو صاحب 
وہ ٹھیلا بھی اب ختم ہوگیا ہے
وہ جن ہواؤں میں بسی تھیں دوستی کی خوشبوئیں 
وہ ہوائیں بھی اب رخ موڑ گئیں ہیں

 وہ اب واٹس ایپ پروفائل پر گزارا کرنے والے دوست 
سمجھتے ہیں مرنے والے کا حال اچھا ہے 
وقت کی آندھیوں نے رخ ایسا موڑا ہے 
کوئی جیے یا مرے اب کس کو تھوڑا ہے
وہ دن اب اداس رہتے ہیں 
وہ راتیں بھی اب سسکتی ہیں 
وہ ہزاروں کی جھرمٹ میں سجا چاند 
اب اکیلا ہی ہنستا ہے 
اب اکیلا ہی روتا ہے
وہ دن بھی اب گئے 
وہ راتیں بھی اب گئیں 
جب روتے تھے تو یار ہوتے تھے 
جب ہنستے تھے تو یار ہوتے تھے 

"مریم شیخ"

Wednesday, 20 September 2017

میری سانسوں کی روانی ہے



بات بے بات تم مجھ سے

 ناراض ہوجاتے هو

 برا سا منہ بنا کر .. خاموش ہوجاتے هو

 میں تمھیں کتنا مناتی ہوں

 پر تم تو ضد پر ہی اڈھ جاتے هو

 آخر تنگ اکر میں کہتی ہوں 

جب میں نہ ہونگی تو یاد کرو گۓ تم۔

اس بات کو سن کر تم

 بے ساختہ مسکراتے هو

 میرا ہاتھ تھامتے هو پھر کہتے چلے جاتے هو

 تم جو نہ ہوگی تو میں بھی جی نہ سکوں گا

 کے کس سے روٹھوں گا .

اور میں کس سے لڑوں گا

 تم ہی تو میرے جیون کی لڑی هو

 دل کا سکون اور روح کی خوشی هو

 میری زندگی کی حیات هو . 

میری آرزو میرا خواب هو

 میرا غرور هو میری دوستی کی میراج هو

میرا یہ روٹھ جانا تو

 تم سے الفت کی نشانی ہے

 کے دوستی میں روٹھنا منانا تو روز کی کہانی ہے

 بات بے بات پر منہ بناتا ھوں

 اور تمھیں بے حد ہنستا ھوں

 کے تمہاری یہی مسکان

 میری سانسوں کی روانی ہے

 عینی اسد