affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Tuesday, 23 August 2016

Jis ko likhta hon mein jan se pyairy jesa

ﺟﺲ ﮐﻮ لکھتا ہوں میں ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔

ﺩﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺘﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ

۔

ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻠﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ،ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔

ﻋﺸﻖ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺳﮯ ﮔﺰﺍﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔


ﺯﺧﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ،ﻣﺮﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﻭﮦ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔


ﺗﻢ ﺗﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮨﻢ ﺳﮯ۔

ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ،،ﻣﻼ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺟﯿﺴﺎ۔؟

Tumhara Khat mila janan

تمہارا خط ملا جاناں۔
وہ جس میں تم نے پوچھا ہے
کہ اب حالات کیسے ہیں؟
میرے دن رات کیسے ہیں؟
مہربانی تمہاری ہے
کہ تم نےاس طرح مجھ سے
میرے حالات پوچھے ہیں
میرے دن رات پوچھے ہیں
تمہیں سب کچھ بتا دونگا!
تمہیں سب کچھ بتا دونگا
مجھے اتنا بتاؤ کہ
کبھی ساگر کنارے پر
کسی مچھلی کو دیکھا ہے؟
کہ جسکو لہریں پانی کی،
کنارے تک تو لاتی ہیں
مگر پھر چھوڑ جاتی ہیں
میرے حالات ایسے ہیں
میرے دن رات ایسے ہیں

Thursday, 18 August 2016

Us k har baat mery dil ko rwa ho jaey

 

اس کی ہر بات مرے دل کو روا ہو جائے

وہ مگر اپنی انا سے تو رہا ہو جائے


بات ہم دل کی چھپائیں گے نہیں اب ہرگز
کوئی ہوتا ہے خفا گر تو خفا ہو جائے


جتنے ممکن تھے جتن ہم نے کئے ہیں لیکن
وہ جدائی پہ مصر ہے تو جدا ہو جائے


پھر سے سیراب کرے روح مری ، پیار ترا
دل کے صحراؤں پہ ساون کی گھٹا ہو جائے


ہم نے سوچا تھا تجھے بھول کے جینے کا مگر
دل کی مرضی ہے ترے غم میں فنا ہو جائے


ہم ترے غم سے تعلق کو نبھائیں گے سدا
چاہےاب ہم کو یہ جینا بھی سزا ہو جائے


ہم ترے حکم کو تسلیم کیئے لیتے ہیں
اس سے پہلے کہ کوئی اور خطا ہو جائے


کچھ تو میرے یار توازن بھی محبت میں رہے
اس کو اتنا بھی نہ چاہو کہ خدا ہو جائے

Monday, 8 August 2016

Bohat Ujra Hua Hai Dil Magr Apna Aqeeda Hai

Yadden

Bohat Ujra Hua Hai Dil Magr Apna Aqeeda Hai

Jhan Makhen Teri Yadden Wo Sehra Ho Nahi Sakta 

بہت اجڑا ہوا ہے دل مگر اپنا عقیدہ ہے

جہاں مہکیں تیری یا دیں وہ صحرا ہو نہیں سکتا.




Muhabbat ik barish hai


"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ 

 ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﮦ ﺍﮐﺜﺮ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ
"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ
ﺳﺒﮭﯽ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ 

 ﻣﮕﺮ ﭘِﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺳﺒﮭﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﯾﮑﺴﺎﮞ ۔۔۔۔۔ 

 ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺭﺍﺣﺖ ۔۔۔۔۔
ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﺳﻄﮯ ﺯﺣﻤﺖ ۔۔۔۔۔
ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺏ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻭﮦ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔۔۔
"ﻣﺤﺒﺖ"ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔
ﺳﺒﮭﯽ ﭘﮧ ﺟﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﻣُﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺳﯽ ﺗﮭﯽ،
ﻣﮕﺮ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﻟﯿﮯ ﺑﺎﺭﺵ
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺑﻦ ﺳﮑﯽ ﺭﺣﻤﺖ ۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﮧ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ ۔۔۔۔؟؟
ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﻮﮞ ﺗﻮ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﯾﮧ ﺩِﻝ، ﺩﯾﺘﺎ ﺩﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﭽﮯ ﻣﮑﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ۔۔۔۔۔۔۔
ﺑﺎﺭﺵ ﺭﺍﺱ ﺁﺋﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟

Sunday, 7 August 2016

Jub bhi sochon be ikhtyir ho kar tujhy

 

جب بھی سوچوں بے اختیار ہو کر تجھے

میری کھڑکی میں آ ٹھہرتا ہے چاند........

Zra Yaad Kar

ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮈﺭﺍ ﮈﺭﺍ ﺳﺎ ﺟﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﺷﻮﺥ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻝ ﺗﮭﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﮔﭩﮭﯽ ﮔﭩﮭﯽ ﺳﯽ ﻧﻮﺍﮰ ﺩﻝ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﮦ _ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺳﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﻮ ﭘﮍﮬﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﻧﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﮯ
ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﮭﯽ
ﺟﺴﮯ ﺭﻭ ﺩﯾﺎ ﮬﮯ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﻓﺸﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﻧﻔﺲ
ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺟﻮ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻧﺜﺎﺭ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﺗﻮ ﮬﮯ ﻏﻢ _ ﻣﺒﺘﻼ
ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺎ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﯿﺮﺍ ﻏﻢ ﮬﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺪﺍﻣﺘﯿﮟ
ﺗﻮ ﺟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺗﻮ ﻣﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﺗﺠﮭﮯ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﻠﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﺟﺮﻡ ﺟﺮﻡ _ ﻓﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﺑﯿﻘﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ..
ﺫﺭﺍ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ

Thursday, 4 August 2016

Chalta tha kabhi mera hath tham key jis par

چلتا تھا کبھی ہاتھ میرا تھام کے جس پر
کرتا ہے بہت یاد وہ رستہ اسے کہنا


امید نہ رکھے وہ کسی اور سے فراز
ہر شخص محبت میں نہیں " ہم " سا اسے کہنا

Wednesday, 3 August 2016

Itny tu wo bhi khafa nahi thy


اتنے بھی تو وہ خفا نہیں تھے


جیسے کبھی آشنا نہیں تھے


مانا کہ ہم کہاں تھے ایسے


پر یوں بھی جدا جدا نہیں تھے


تھی جتنی بساط،کی پرستش


تم بھی تو کوئی خدا نہیں تھے


حد ہوتی ہے طنز کی بھی آخر


ہم ترے نہیں تھے، جا نہیں تھے


کس کس سے نباہتے رفاقت


ہم لوگ کہ بے وفا نہیں تھے


رخصت ہوا، وہ تو میں نے دیکھا


پھول اتنے بھی خوشنما نہیں تھے


تھے یوں تو ہم اس کی انجمن میں


کوئی ہمیں دیکھتا، نہیں تھے


جب اس کو تھا مان خود پہ کیا کیا


تب ہم بھی فرازؔ کیا نہیں تھے


احمد فرازؔ


Saturday, 30 July 2016

Tehrereen ____ likhni humen nahi ati


تحریریں ________ لکھنی ہمیں نہیں آتی

ہم ، جسکا ہاتھ پکڑینگے ، شہزادی بنا دینگے

Tuesday, 26 July 2016

Khawab Ankhon m bhar gae barish

خواب آنکهوں میں بهر گئی بآرش
جانے کس کس کے گهر گئی بارش
سسکیاں دیر تک سنی میں نے
اور چپ چاپ مرگئی بارش
درد کی آخری حدوں میں تهی
آج حد سے گذر گئی بارش
کتنی پرچهائیوں میں لپٹی تهی
دل کو ویران کر گئی بارش
اس نے آنسو کی لاج رکهہ لی تهی
کون کہتا ہے ڈر گئی بارش
ایسے لکهے ہیں ریشمی جذبے
جیسے دل میں اتر گئی بارش
بهیگی آنکهیں یوں مسکراتی ہیں
جیسے سورج کے گهر گئی بارش
سوکهی دهرتی پہ خوشبوئیں لکهہ دیں
خوب یہ کام کر گئی بارش...!!
عاطف سعید

Mery Humsafar

میرے ہمسفر

تمہارا نام کچھہ ایسے میرے ہونٹوں پہ کِھلتا ہے
اندھیری رات میں جیسے
اچانک چاند بادل کے کسی کونے سے باہر جھانکتا ہے
اور سارے منظروں میں روشنی سی پھیل جاتی ہے
کلی جیسے، لرزتی اوس کے قطرے پہن کر مُسکراتی ہے
بدلتی رُت، کسی مانوس سی ڈالی کی آہٹ لے کے چلتی ہے
تو خوشبو باغ کی دیوار سے روکے نہیں رُکتی
اسی خوشبو کے دھاگے سے میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری سانسوں میں کِھلتا ہے
تمہیں میں دیکھتا ہوں جب سفر کی شام سے پہلے
!کسی اُلجھی ہوئی گُمنام سی چِنتا کے جادو میں
!کسی سوچے ہوئے بے نام سے لمحے کی خوشبو میں
!کسی موسم کے دامن میں، کسی خواہش کے پہلو میں
تو اس خوش رنگ منظر میں تمہاری یاد کا رشتہ
نجانے کس طرف سے پھوٹتا ہے
اور ایسے میری ہر راہ کے ہم راہ چلتا ہے
کہ آنکھوں میں ستاروں کی گزرگاہیں سی بنتی ہیں
دھنک کی کہکشائیں سی
تمہارے نام کے ان خوشنما حرفوں میں ڈھلتی ہیں
کہ جن کے لمس سے ہونٹوں پہ جگنو رقص کرتے ہیں
تمہارے خواب کا رشتہ میری نیندوں سے ملتا ہے
تو دل آباد ہوتا ہے
میرا ہر چاک سلتا ہے
تمہارے نام کا تارا میری راتوں میں کِھلتا ہے

امجد اسلام امجد

Khul gaey hain bhar k rasty



کُھل گئے ہیں بہار کے رستے

ایک دِلکش دیار کے رستے


ہم بھی پہنچے کسی حقیقت تک

اِک مُسلسل خُمار کے رستے


منزلِ عِشق کی حدوں پر ہیں

دائمی اِنتظار کے رستے


اُس کے ہونے سے یہ سفر بھی ہے

سارے رستے ہیں یار کے رستے


جانے کِس شہر کو مُنؔیر گئے

اپنی بستی کے پار کے رستے


مُنؔیر نیازی

Monday, 25 July 2016

Kahen chand rahon m kho gaia ,khen chandni bhi bathak gae



کہیں چاند راہوں میں‌ کھو گیا، کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی

میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا، میری رات کیسے چمک گئی

-

میری داستاں کا عروج تھا تیری نرم پلکوں کی چھاؤں‌ میں

میرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تیری آنکھ کیسے جھپک گئی
-
کبھی ہم ملے بھی تو کیا ملے، وہی دوریاں‌ وہی فاصلے
نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے، نہ کبھی تمہاری جھجک گئی
-
تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں
تیری یاد شاخِ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئی

 

بشیر بدر

Dil se dil milny kay bad

اک نیا رشتہ بنا ہے ' دِل سے دل مِلنے کے بعد
دھڑکنوں نے کچھ کہا ہے' دِل سے دل مِلنے کے بعد

اب جدائی کا تصوُّر ہے ' نہ مِلنے کا خیال
مجھ کو یہ کیا ہو گیا ہے؟ دِل سے دل مِلنے کے بعد

پیاس آنکھوں میں دَھری تھی اور لب خاموش تھے
گویا اَمرت پی لیا ہے' دِل سے دل مِلنے کے بعد

مَلگَجی سی شام میں اک چاند کا سایہ تھا وہ
اُس کو بس سوچا کِیا ہے' دِل سے دل مِلنے کے بعد

ہر طرف صحرا تھا ' کانٹے تھے ' سُلَگتی رَیت تھی
کیسا جَل تھل ہو گیا ہے' دِل سے دل مِلنے کےبعد

Ye or bat hai k wo nibha na saka Mohsin

 

یہ اور بات ہے کہ وہ نبھا نہ سکا محسن

مگر جو کیے تھے اس نے وہ وعدے غضب کے تھے

Aey dil e nadan

اے دل ناداں
اے دل ناداں آرزو کیا ہے
جستجو کیا ہے
ہم بھٹکتے ہیں
کیوں بھٹکتے ہیں
دشت و صحرا میں
ایسا لگتا ہے موج پیاسی ہے
اپنے دریا میں
کیسی الجھن ہے
کیوں یہ الجھن ہے
ایک سایہ سا روبرو کیا ہے
کیا قیامت ہے
کیا مصیبت ہے
کہہ نہیں سکتے
کِس کا ارماں ہے
زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے
حیراں حیراں ہے
یہ زمیں چپ ہے
آسماں چپ ہے
پھر یہ دھڑکن سی چارسو کیا ہے

Saturday, 23 July 2016

Ur jaen gay tasveer kay rangon k trh hain


اڑ جائیں گے تصویر کے رنگوں کی طرح ہیں
ھم وقت کی ٹہنی پہ پرندوں کی طرح ہیں


تم شاخ پہ کھلتے ہوئے پھولوں کی طرح ہو
ہم ریت پہ لکھے ہوئے حرفوں کی طرح ہیں


اک عمر ترستے ہیں کسی ایک خوشی کو
ہم لوگ بھی بنجر سی زمینوں کی طرح ہیں


دنیا کے لیےٴ کچھ بھی سہی تیرے لیےٴ ہم
مخلص صدا ماوٴں کی دعاوٴں کی طرح ہیں


تاریخ کی نظروں میں ھم اک عمر سے محسن
اسکول سے بھاگے ہوئے بچے کیطرح ہیں


Bebasi k chader mein

بےبسی کی چادر میں
چھید تو بہت سے ہیں
پھر بھی اس کے دامن میں
اک سکون سا بھی ہے
دھوپ چھاؤں کے لمحے
اس میں ہی گزاریں ہیں
بارشوں کے موسم میں
بھیگتے رہے ہیں ہم
دلخراش لمحوں سے
داغ داغ ہے چادر
ان کہی سی کچھ باتیں
اس کی خوشبوؤں میں ہے
دل لگی سی کچھ یادیں
اس کی وسعتوں میں ہیں
بے قراری کے نغمے
جا بجا منقش ہیں
ہم نے زندگی ساری
بےبسی کی چادر کی
قید میں گزاری ہے
ہاں تیرے بنا جاناں
زندگی ہی ہاری ہے

Wo ankhon se bol rha tha

  اپنے آنسو رول رہا تھا

وہ آنکھوں سے بول رہا تھا

تیرے بعد مرے کمرے میں
ماتم کا ماحول رہا تھا

ہم ہی چلنے سے عاری تھے
وہ تو رستے کھول رہا تھا

جان! تمہاری نگری اندر
میں کتنا بے مول رہا تھا

وہ بھی کیسے اپنی چُپ سے
میری چُپ کو تول رہا تھا

تم کتنے انمول ہوئے ہو
میں کتنا انمول رہا تھا

رات ، مری بے چین آنکھوں میں
چاند اداسی گھول رہا تھا

یاد ہے؟ تیری خاطر میرے
ہاتھوں میں کشکول رہا تھا

زین شکیل

Gali gali m meri yaad bichi hai pyairy

ﮔﻠﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺑﭽﮭﯽ ﮨﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺭﺳﺘﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﭼﻞ
ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﻧﮑﻞ

 

ﺍﯾﮏ ﺳﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﭘﮭﻮﻝ ﺳﺎ ﻧﺎﺯﮎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ
ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﭩﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﮕﻞ

 

ﯾﺎﺩ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﺷﺎﻡ ﻣﺠﮭﮯ
ﺗﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ ﮐﺎﺟﻞ

 

ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻧﺒﮭﮯ ﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﻓﮑﺮﻭ ﻋﻤﻞ

 

ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻨﮧ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺩﯾﮑﮫ ﺍﺱ ﮐﺎﻟﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ
ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻤﺮﺍﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺮﮮ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭼﻞ

 

"ﻧﺎﺻﺮ ﮐﺎﻇﻤﯽ"

Friday, 22 July 2016

mohabbat khubsurat hai

mohabbat khubsurat hai
mohabbat main agarchay dil ki aankhen
mudaton palken jhapakna bhool jaati hain
magar
in ratjagon k surkh doray
neel-gun sanwlahaten or abruon ki raaz daari b
ajab ek husn paida krti jati hai
mohabbat main agarchay dharkanen apna chalan tak chor jati hain
magar
sangeet aisi dharkanon ki thaap or sargam ko tarasta hai
mohabbat main agarchay by-khyaali dil ko boht tarpayey takhti hai
magar
dil ki tarap he zindagi ko pathron ki zindagi sy mukhtalif krti hai
dunya main agarchay
aankh sy ojhal huwi lgti hai dunya ek mohabbat k siwaa
laykin
baseerat ki kaiii benaeyan or khirkiaan khulti chali jaati hain
baatin main mohabbat main agarchay aansuon ko surkh hotay pal nahi lgta
magar
ye surkhiyaan kitnay gulistaan, chaand, taaray or zameen-o-aasmaan rangeen krti hai
mohabbat main judai dhoop k aangan main palti hai
agarchay phir b saari umer khwabon or duaon sy kabi thandak nahi jaati
mujay maaloom hai tum to mohabbat k mukhtalif ho magar jaanaan!!!
daleelen to daleelain hain
mohabbat in daleelon ki kahaan mohtaaj hoti hai
MOHABBAT KHOOBSOORAT HAI…

Kion bujh kar raakh nahe hotay

Din raaat k aanay janay main
Dunya k ajaib khaanay main
Kabi sheeshay dhundlay hotay hain
Kabi manzar saaf nahi hotay
Kabi sooraj baat nahi krta
Kabi taaray aankh badaltay hain
Kabi manzil peechay rehtay hai
Kabi rastay aagay chaltay hain
Kabi aasain tor nahi charhtin
Kabi khadshay pooray hotay hain
Kabi aankhen daikh nahi saktin
Kabi khwab adhuray hotay hain
Ye sab to sahi hail akin
Is aashob k manzar namay main
Din raaat k aanay janay main
Dunya k ajaib khaanay main
Kuch saaya karti aankhon k pymaan to dikhai detay hain
Hathon sy agarchay door sahi
Imkaan to dikhai detay hain
Han…
Rait k is dariya sy udher
Ek pariton wali basti k
Unwaan to dekhai detay hain
Manzil sy koson door sahi
Pur-dard sahi, ranjoor sahi
Zakhmon sy musafir choor sahi
Par kis sy kahen ay jan-e-wafa
Kuch aisay ghao b hotay hain
Jinhen zakhmi aap nahi dhotay
Bin roye huway aansu ki tarha
Seenay main chupaa k rakhtay hain
Or saari umer nahi rotay
Neenden b mohaiya hoti hain
Sapnay b door nahi hotay
Kyun phir b jagtay rehtay hain?
Kyun saari raat nahi sotay?
Ab kis say kahen ay jan-e-wafa?
Ye ehl-e-wafa kis aag main jaltay rehtay hain
Kyun bujh kar raakh nahi hotay…??

guraiz shab say, seher say kalaam rakhtay thay

guraiz shab say, seher say kalaam rakhtay thay
kabhi wo din thay k zulfon main shaam rakhtay thay

tumhaaray haath lagay hain to jo karo so karo
wagarna tum say to ham so ghulaam rakhtay thay

hamain bhi ghair liya ghar k zo’am nay to khulaa
kuch or log bhi is main qayaam rakhtay thay

yeh or baat hamain dosti na raas aai
hawaa thi sath to khushbu maqaam rakhtay thay

na-jaanay kon si rutt main bichar gaye woh log
jo apny dil main boht ehtaraam rakhtay thay

wo aa to jata kabhi, ham to is k raston par
diyay jalaaye huway subh-o-shaam rakhtay thay…

Tumhare sheher ka mausam barra suhaana lage

Tumhare sheher ka mausam barra suhaana lage,
Main ik shaam chura loon agar bura na lage,
Tumhare bas main agar ho to bhool jao humen,
Tumhen bhulaane main shayed mujhe zamaana lage,
Hamare pyar se jalne lagi hai ik duniya,
Dua karo kisi dushman ki baduaa na lage,
Na jane kya hai us ki be-baak ankhon main,
Woh mu chupaa ke jaye bhi to bewafa na lage,
Jo doobna hai to itne sakoon se doobo,
Ke aas paas ki lehron ko bhi pata na lage,
Ho jis ada se mere sath bewafayi kar,
Ke tere baad mujhe koi bewafa na lage,
Woh phool jo mere daaman se ho geya mansoob,
Khuda kare usay bazaar ki hawa na lage,
Tum aankh muund ke pe jao zindagi qaiser,
Ke aik ghoont main shaayed yeh bd-maza na lage..

Mosam ko teri deed kay qabil me bana dun

Mosam ko teri deed kay qabil me bana dun,
Jorey me koi phool tar o taza saja dun,
Jo mast pawan pi kay nagarya ko chali,
Ik lehza agar thehrey to phir us ko sada dun,
Khud ko bhi lutaon to bohat kami hai meri jan,
Ik umar ka hasil ho tujhey kesi wafa dun,
Ik pal bhi sulgatey hoye dekhon na tujhey main,
Jab dhoop parey tujhpey to zulfon ki ghata dun,
Khushbo sey gila ho na kisi rang e chaman ko,
Phoolon ko mehkaney ki agar koi ada dun.

Tum Laut Ana

Tum Lout Ana,
Koi guzra howa lamha
koi beiti hoi saat
Tumharay dil k band darichay main chali ay
Tumhain aisa lage
key mudat bad
tumhain, Dhemi si, Methi si,
Kasak mehsos hoti hai
Tumhai kuch yaad ata hai
Tu, meray bholay howe sathi
Mere naa meharbaan
Paalat Ana, Paalat Ana
K meri samatain ab bhi
Tumhari ahaton ki muntazir hain..

tum nay murjhaaye huway phool dekhay hain kabhi

tum nay murjhaaye huway phool dekhay hain kabhi?
dil ki qabro’n pay paray
hijr ki laash ki aankho’n pay dharay
!
tum nay uktaaye huway khwaab dekhay hain kabhi?
dard ki palko’n say liptay huway, ghabraaye huway
!
tum nay bay-chain duwayen kabhi dekhi hain
mohabbat k kinaaro’n pay bhatakti phirti
!
aadib! tum nay dekha hai mujhay?
kyaa.. kabhi dekha hai mujhay?

Ab to keh do na

Ab to keh do naa,
Main aj bohat udaas hun
Koi nahin,
Jis se dil ki verani bant sakun
Koi nahin,
Jo mere behte howe ansoun ko rok sake
Koi nahin,
Jo ik zara harf tasali de
Koi nahin,
Jo muskura k kahe
“Apni hasaas ankhun ko taklef na de
Yeh mooti mere dil pe girtey hain”
Koi nahin,
Ager hai, 
To bolta kyun nahin hai!!..

Chlo khawabon m milty hain

چلو خوابوں میں ملتے ہیں

کہ نیندیں بانٹ لیتے ہیں

زمانے کی نظر سے دور جا کر گھوم آتے ہیں

نئی دنیا بساتے ہیں

جہاں نہ کوئی روکنے والا

نہ ٹوکنے والا ہو

نہ کوئی خوف دنیا کا

نہ کوئی ڈر زمانے کا

جہاں بارش محبت کی

ہمیں مدہوش کر جائے

تمھارے سامنے میں ہوں

ہمارے سامنے تم ہو

چلو اس زندگانی میں

امر کرلیں اپنی کہانی کو

تو پھر خوابوں ملتے ہیں

محبت اوڑھ لیتے ہیں...!