affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Friday, 2 June 2017

مجھ کو معلوم نہیں ہجر کے قاتل لمحے



مجھ کو معلوم نہیں ہجر کے قاتل لمحے

تو نے کس آگ میں جل جل کے گذارے ہوں گے

کبھی لفظوں میں تھکن تو نے سمیٹی ہو گی

کبھی کاغذ پہ فقط اشک اتارے ہوں گے

یہ بھی ممکن ہے کہ گذرا ہو ا لمحہ لمحہ

جس کو میں آج بھی سینے سے لگا رکھتا ہوں

تیرے نزدیک فقط یاد کی پر چھائی ہو

دور کی جیسے تری اس سے شنا سائی ہو

جس طرح دھوپ دسمبر کی دریچے سے لگی

بے ارادہ کہیں آنگن میں اتر آئی ہو

جیسے محفل میں کسی شخص کی تنہائی ہو

عاطف سعیدؔ

Zindagi k rahon m kuch muqam aty hain

زندگی کی راہوں میں
کچھ مقام آتے ہیں
لوگ روٹھ جاتے ہیں
ساتھ چھوٹ جاتے ہیں
زندگی کے سب ہی پل
بے مراد لگتے ہیں
دن اداس لگتے ہیں
چار سو اندھیرا جب
خوب بڑھنے لگتا ہے
اور دل یہ کرتا ہے
زندگی کے یہ لمحے
اب تمام ہو جائیں
بہت جی لئے ہیں ہم
اب سکوں سے سو جائیں
تب کہیں سے اک تارا
نور کا ابھرتا ہے
مضطرب سے اس دل کو
پھر گماں گزرتا ہے
جس نے زندگی دی ہے
جس نے غم، خوشی دی ہے
اس کے لطف سے بڑھ کے
غم کیا ہم نے پائے ہیں ؟؟؟
گردش زمانہ سے
پھر کیوں تنگ آئے ہیں ؟
زندگی کی راہوں میں
شکر کی جو منزل کا
راستہ ملے تم کو
اس پہ مطمئن ہو کے
تم قدم بڑھاؤ تو
زندگی کا ہر لمحہ
رب کے نام کر ڈالو

مسرت جبین

Thursday, 1 June 2017

Mujhay bhool ja by Anee Asad

Mujhay bhool ja by Anee Asad

مجھے بھول جا 
مجھے بھول جا 
یہ  ہی کہا تھا 
تو نے کبھی 
مجھے محبّت کے حصار میں 
گم کیا تھا تو نے کبھی 
تجھے ایسا لگا میں بھول گئ 
اور راہ میں نے بدل ہی لی 
یہ تیرا ہی گمان تھا 
کے راہ سے  ھوں میں بھٹک گئ. 
میری آرزو میری جستجو 
تیری روح سے تیری ذات تک 
میری زندگی ہے یہیں کہیں 
تیری راہ میں رکی ہوئی 
میں بھول نہ سکی تجھے 
میں ھوں اب بھی وہیں کھڑی ہوئی 
جہاں تو نے مجھ سے 
کہا تھا یہ بھی کبھی 
مجھے بھول جا 
مجھے بھول جا 

عینی اسد

Tuesday, 30 May 2017

Suno humdum tumharay wastay kuch lafz likhnay hain



سنو ہم دم ! تمھارے واسطے کچھ لفظ لکھنے ہیں
تمھارے نام۔۔۔
کچھ اشعار کرنے ہیں
ہماری ذیست کے اے دوست!
وہ لمحے معتبر تو ہیں۔۔۔
تمھارے سنگ جو بیتے ۔۔۔
تمھاری پُر لطف قُربت سے۔۔۔
جو کچھ پل میں نے تھامے ہیں
سنو ساتھی !
وہ پل سارے ،
لفظوں کو رنگ میں رنگ کر۔۔۔
ابھی تم کو سنانے ہیں ،
کسی تصویر میں رنگ کر ۔۔۔
ابھی تم کو سکھانے ہیں ۔۔۔
سنو ہم دم!
کہو تو پاس میں رکھ لوں ،
اثاثہ اُس گلابوں کا۔۔۔
تمھاری میٹھی باتوں کا۔۔۔
اور اُن میٹھی باتوں سے ۔۔۔
مجھے کچھ لفظ چننے ہیں ،
پھر تم سے بس یہ کہنا ہے۔۔۔!
سنو ساتھی ، سنو ہم دم!
اگر جو تم اجازت دو۔۔۔
تمہیں اپنے پاس میں رکھ لوں۔۔۔
عمر بھر ساتھ میں رکھ لوں۔۔۔؟؟؟

Woh alfaz dhoon raha tha by Anee Asad


وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا ...
مجھے روکنے کے لئے ...
آنکھوں میں کئی سوال تھے ...
مجھے واپس پانے کے لئے ...
کئی الفاظ بے معنی سے ..
کئی جذبات بے سہارا سے ...
نہ کوئی دلیل تھی ...
نہ کوئی وضاحت تھی ...
الفاظوں کا ایک ہجوم تھا ...
اس گہری خاموشی میں ...
انتہا کا درد تھا ...
پر اس میں ایک سکون تھا ...
کچھ امیدیں ٹوٹی ہوئیں ...
کچھ سانسیں تھمی ہوئیں ...
محبّت کے بھرم کو نبھا رہا تھا۔...
وہ مجھ کو واپس بولا رہا تھا۔..

عینی اسد۔۔۔

Monday, 29 May 2017

Aadaten by Anee Asad


عادتیں مختلف ہیں۔.
عادتیں بدل ڈالو۔.
کم محبّت کرنے والے۔.
اکثر بھول جاتے ہیں۔.

عینی اسد ۔۔۔

Woh alfaz dhoond raha tha



وہ الفاظ ڈھونڈ رہا تھا ...
مجھے روکنے کے لئے ...
آنکھوں میں کئی سوال تھے ...
مجھے واپس پانے کے لئے ...
کئی الفاظ بے معنی سے ..
کئی جذبات بے سہارا سے ...
نہ کوئی دلیل تھی ...
نہ کوئی وضاحت تھی ...
الفاظوں کا ایک ہجوم تھا ...
اس گہری خاموشی میں ...
انتہا کا درد تھا ...
پر اس میں ایک سکون تھا ...
کچھ امیدیں ٹوٹی ہوئیں ...
کچھ سانسیں تھمی ہوئیں ...
محبّت کے بھرم کو نبھا رہا تھا۔...
وہ مجھ کو واپس بولا رہا تھا۔..

عینی اسد۔۔۔
https://ssl.gstatic.com/ui/v1/icons/mail/images/cleardot.gif


Tuesday, 9 May 2017

Mein tumhary aks k aarzoo m bas aaina bani rahi


میں تمہارے عکس کی آرزو میں بس آٰ ئینہ ہی بنی رہی

کبھی تم نہ سامنے آ سکے،کبھی مجھ پہ گرد پڑی رہی


وہ عجیب شام تھی،آج تک میرے دل میں اس کا ملال ھے

میری طرح جو تیری منتظر،تیرے راستے میں کھڑی رھی


کبھی وقف ہجر میں ہو گئ کبھی خواب وصل میں کھو گئ

میں فقیر عشق بنی رہی، میں اسیر یاد ہوئی رہی


بڑی خامشی سے سرک کے پھر مرے دل کے گرد لپٹ گئ

وہ رداےء ابر سپید جو ، سر کوہسار تنی رہی


ہوئی اس سے جب میری بات بھی،تھی شریک درد وہ ذات بھی

تو نہ جانے کون سی چیز کی میری زندگی میں کمی رہی

 ثمینہ راجہ

Monday, 17 April 2017

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا



رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آگئی
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا

بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں
دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا

شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط
وہ اپنے نقشِ پا تو مٹا کر نہیں گیا

گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئی
لگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آکر نہیں گیا

تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یاد
جب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا

رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا

ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگی
وہ خار وخس میں آگ لگا کر نہیں گیا

شہزاد یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سے
جاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا

شہزاد احمد

Sunday, 16 April 2017

Abhi Kuch Din Mujhe Meri


Abhi Kuch Din Mujhe Meri
Mohabbat Aazmane Do

Mujhe Khamosh Rehne Do
Suna Hai Ishq Saccha Ho To
Khamoshi Lahu Ban Kar
Ragon Main Naach Uthti Hai
Zara Us Ki Ragon Main
Khamoshi Ko Jhoom Jane Do
Abhi Kuch Din Mujhe Meri
Mohabbat Aazmane Do

Usay Main Kyun Bataon
Main Ne Us Ko Kitna Chaha Hai
Bataya Jhoot Jata Hai
Ke Sacchi Baat Ki Khushboo
To Khud Mehsoos Hoti Hai
Meri Baaten, Meri Sochen
Usay Khud Jaan Jane Do
Abhi Kuch Din Mujhe Meri
Mohabbat Aazmane Do

Saturday, 25 March 2017

میرا کشمیر جل رہا ہے (Mera Kashmir jal rha hay by anjeela Qureshi)


میرا کشمیر جل رہا ہے

ہر ماں کا سینہ چھلنی , ہر باپ تڑپ رہا ہے

 کوئی ان سے سنے صدائیں کہ میرا کشمیر جل رہا ہے

کشمیر میری جنت ہے, کشمیر میری روح ہے

میں کیسے بتاؤں کہ میرا کشمیر جل رہا ہے

ہے ڈگر ڈگر موت,ہے قدم قدم پہ شہادت

 میں اس راہ میں کیسے نہ لرزوں,میرا کشمیر جل رہا ہے

کبھی جو جنت دکھتا تھا, وہاں ہر جاہ جنازہ ہو رہا ہے

 سنو کوئی میری فریاد میرا کشمیر جل رہا ہے

ظالم ہے ہر جگہ , مظلوم ہے بے سہارا

کوئی ظلم اب مٹائے ,میرا کشمیر جل رہا ہے

کبھی جو جنت دکھتا تھا,وہاں اب دہشت کا سایہ ہو رہا ہے

کیسے میں مسکراؤں میرا کشمیر جل رہا ہے

ہر انسان پریشان ,بے چین و لہو لہو ہو رہا ہے

کوئی مرہم انہیں لگائے , میرا کشمیر جل رہا ہے

سر سبز کھیتوں میں اب جو شمشان ہو رہا ہے

میں سکون کیسے پاؤں,میرا کشمیر جل رہا ہے

دن میں بھی ہے اندھیرا ,اور خورشید بھی بے نور ہو رہا ہے

 ایک دعا کے سوا اہل چمن کیا دیں *انجیلا*

 میں خوشی کہاں سے لاؤں میرا کشمیر جل رہا ہے.

Thursday, 23 February 2017

Khogaya Jane kahan woh waqt by Umme Eman


Khogaya Jane kahan woh waqt
jis mein main teri tu mera tha
dil ma bus tera baseera tha
neendon ma tera sapna to
honton pa tery leay muskarahat thi  
lout ae woh pal jis main tera sath tha
mery haathon ma tera hath tha
khof sa hone laga kismat ma apni
keh raat ka yeh ek sapna hay kahin toot na jae
itni shidat se chae koi kesi ko
yeh bi kesy mumkin tha
phr bi dil ma ek khuwaish Rahi
chaht bhra jahan ho sapno se saja asman
tum mere sath ho or be-panha pyar ho
lekan yeh waqt bhi ana tha
tum ko mujh se door Jana tha
mera Jo pyar tha tery liya sirf pachtawa tha
tumhe kahin door Jana tha
mujhy tumare sath rehna tha
Teri manzil thi kuch or
meri manzil Teri chaht thi
phir woh din bhi aya
jb tum ne kuch youn kaha
mera rasta hay kuch or
meri manzil tu nahi
Jane do mujha yahan se
k sath hum ko ab rehna nahe
ja tujhy keya azad kehti hu alvida
ke ab lout k na ana mujha teri chaht pa eitbr nahi
yeh kesi us ki mohbt thi Jo char din ki chandni bni
na hal-e-dil samjh saka na meri be-panha Mohbt ko
kahae dekha suna shayd parha tha
keya khub kesi ne kaha hay umm-e-eman
ke mohbt ka woh daur bhi or tha
jb dil main arman us k sath ka tha
Ankhon ma usi ka sapna saajta tha
bin kahe sub samjh jana  
uski mohabat main khud ko fana karna
yeh to meri  esi mohbt thi
jis ma meri us k liya chaht thi
ab kiya shikwa kiya shikayt karu ksi se
chalo choro rehny do ab Jane bi do use
mera liya woh mera sub kuch tha
shayed us ke leay main hi uski na thi......

Written by Umm-e-eman


mukhlis by Maira Anjum


تمہیں ہمیشہ ایسا کیوں لگا ہم مخلص نہیں تم سے

شاید اسلیے کہ تم ہمیں اپنے جیسا سمجھتے رہے

اس کی محبت میں وہ خلوص نہ تھا جو ہم دیکھنا چاہتے تھے

کیونکہ وہ اکثر بچھڑ جانے کی باتیں کرتا تھا

وہ ہم سے مخلص نہیں ہے یہ ہم جانتے تھے مگر

پھر بھی اسی کو چاہتے رہے جوہمارا تھا ہی نہیں کبھی

وہ میرا تو تھا ہی نہیں کبھی

اگر ہوتا تو یوں جاتا ہی نہیں کبھی

زمانہ ہم سے کہتا رہا کہ وہ ہم سے مخلص نہیں ہے

ہم ہی پاگل تھے جو اس سے محبت کر بیٹھے تھے


بہت مان تھا تجھے اپنی محبت پر

Monday, 6 February 2017

ہر شام شفق پر میں بھٹکوں ___ہر رات ستارہ ہو جاؤں

ہر شام شفق پر میں بھٹکوں ___ہر رات ستارہ ہو جاؤں
جو کنکر بن کر چبھتا ہے ___ وہ خواب تمہارا ہو جاؤں


مرے اشک تمہاری آنکھوں میں___ اک روز کبھی رستہ پا لیں
تم ڈوب کے مجھ میں یوں ابھرو ___ میں ندی کنارہ ہو جاؤں


پھر قطرہ قطرہ بہہ جائے تری باتوں سے ___تری آنکھوں سے
ترا دل ایسے پانی کر دوں ____میں برف انگارہ ہو جاؤں


تم جب جب اس کو دیکھو گے ___اک کرب سا دل کو کاٹے گا
ہر شب آنگن سے یوں گزروں ___ میں ٹوٹتا تارا ہو جاؤں


تم بات کرو گے جینے کی ___تم مجھ سے خود کو مانگو گے
میں گونگی بہری موجوں کا ____بے رحم سا دھارا ہو جاؤں


تو لاکھ بسانا چاہے بھی ___تو کوئی نہ اس میں آئے گا
ترے دل کی اجڑی بستی کا _______برباد نظارہ ہو جاؤں


پھر ڈھونڈو گے جب کھودو گے___ اور آخر اک دن رو دو گے
تم کبھی نہ جس کو بھر پاؤ ___ایسا میں خسارہ ہو جاؤں

Saturday, 4 February 2017

جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عُذر لاکھوں


جو آنا چاہو ہزار رستے___ نہ آنا چاہو تو عذر لاکهوں

مزاج برہم، طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم

Friday, 27 January 2017

ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

  ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺮ ﺭﺍﮦ ﻣﻠﮯ

ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﮔﺮﺩﺷﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ

ﺍﺳﯽ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮯ ﭘﮧ ﺭﮐﯽ ﺭﮨﯿﮟ

ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺬﺏ ﺳﮯ

ﯾﻮﻧﮩﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ

ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮﮞ

ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺎﺭ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ

ﻧﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﮯ ، ﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﻮﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ

ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﻮ ﺟﻮ ﻧﺎ ﻣﻠﮯ

ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮧ

ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻭﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﺎﺭ ﺩﻭﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﻥ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ، ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ

Tuesday, 24 January 2017

ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ


ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ،
ﯾﮧ ﻓﺮﺍﻕ ﻟﻤﺤﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺤﺎﺏ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ،
ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﺳﯽ،
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ!
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻠﺴﻠﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﺳﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ

 ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﻻ ﮐﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ،
ﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮩﺮ ﺗﮩﮧِ ﺁﺏ ﺳﮯ
ﻭﮨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ،
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺑﺎﺏ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼﺮﺍ ﻟﯿﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ

Friday, 9 December 2016

Bohat se rang ,badal or prinday loat jaty hain


بہت سے رنگ، بادل اور پرندے لوٹ جاتے ہیں
کئی موسم بہت تاخیر کر دیتے ہیں آنے میں

Sunday, 4 December 2016

Sarapa wafa the khfa ja rhe the by Naina Baloch

Sarapa wafa the khfa ja rhe the
qasm hy khuda ki khfa ja rhe the
...
Wafaon ki dunia m laay arhe the
muhbt ki devi khfa ja rhe the
...
Wo palkon sy motii gira bh rhe the
ada by niyazi khfa ja rhe the
..
Wo nazuk c guriia ho pthr rhe the
chtanu c shktii khfa ja rhi the 
...
Wwo mjh ko dua  bh diye ja rhi the 
thma kr saza bh khfa ja rhe the 
...
Wo baziii wafa kheel kr ja rhi the
bhly "naina "hari khfa ja rhe the

Chlo kuch baat kerty hain


چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
بکھرنے کی۔۔۔ بچھڑنے کی
بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔
بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔
میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔
تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔
کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔
مجھے آواز دے دینا۔۔
تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔
سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔



Saturday, 26 November 2016

Jub tum ko he sawan ka sandesa nahi ban'na


جب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا
مجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بننا

کہتی ہے کہ آنکھوں سے سمندر کو نکالو
ہنستی ہے کہ تم سے تو کنارہ نہیں بننا

محتاط ہے اتنی کہ کبھی خط نہیں لکھتی
کہتی ہے مجھے اوروں کے جیسا نہیں بننا

تصویر بناؤں تو بگڑ جاتی ہے مجھ سے
ایسا نہیں بننا مجھے ویسا نہیں بننا

اس طرح کے لب کون تراشے گا دوبارہ
اس طرح کا چہرہ تو کسی کا نہیں بننا

چہرے پہ کسی اور کی پلکیں نہیں جھکنی
آنکھوں میں کسی اور کا نقشہ نہیں بننا

میں سوچ رہا ہوں کہ میں ہوں بھی کہ نہیں ہوں
تم ضد پہ اڑی ہو کہ کسی کا نہیں بننا

میں رات کی اینٹیں تو بہت جوڑ رہا ہوں
پر مجھ سے تیرے دن کا دریچہ نہیں بننا

اُس نے مجھے رکھنا ہی نہیں آنکھوں میں عامر
اور مجھ سے کوئی اور ٹھکانہ نہیں بننا..