affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Wednesday, 25 May 2016

نہ کوئی فال نکالی نہ اِستخارہ کیا ..


نہ کوئی فال نکالی نہ اِستخارہ کیا ..

بس اک صبح یونہی خلق سے کنارہ کیا ..


نکل پڑیں گے گھروں سے تمام سیارے ..

اگر زمین نے ہلکا سا اک اشارہ کیا ..


جو دل کے طاق میں تُو نے چراغ رکھا تھا ..

نہ پوچھ میں نے اُسے کس طرح ستارہ کیا ..


پرائی آگ کو گھر میں اُٹھا کے لے آیا ..

یہ کام دل نے بغیر اُجرت و خسارہ کیا ..


عجب ہے تُو کہ تجھے ہجر بھی گراں گزرا ..

اور ایک ہم کہ ترا وصل بھی گوارا کیا ..


ہمیشہ ہاتھ رہا ہے جمال آنکھوں پر ..

کبھی خیال کبھی خواب پر گُزارہ کیا ..


.. شاعر: جمال احسانی ..

جسے خود سے ہی نہیں فرصتیں،جسے دھیان اپنے جمال کا

جسے خود سے ہی نہیں فرصتیں،جسے دھیان اپنے جمال کا

اسے کیا خبر مرے شوق کی،اسے کیا پتا مرے حال کا


مرے کوچہ گرد نے لوٹ کر مرے دل پہ اشک گرا دیا

اسے ایک پل نے مٹا دیا جو حساب تھا مہ و سال کا


تجھے شوق دید غروب ہے،مری آنکھ دیکھ بھری ہوئی

کہیں تیرے ہجر کی تیرگی کہیں رنگ میرے ملال کا


شب انتظار وہ مہ لقا،جونہی میرے سامنے آگیا

مجھے کوئی ہوش نہیں رہا،نہ جواب کا نہ سوال کا


کبھی حال ہجر کہا نہیں،وہ ملا تو لفظ ملا نہیں

کہیں گفتگو ہی میں کھو گیا،جو معاملہ تھا وصال کا


جسے وقت جان غزل کہے،جو چلے تو شام کھڑی رہے

وہی میرے لفظ کا رنگ ہے،وہی روپ میرے خیال کا


شہزاد نیر

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے

بدل گئے مرے موسم، تو یار اب آئے

غموں نے چاٹ لیا، غمگسار اب آئے


یہ وقت اس طرح رونے کا تو نہیں، لیکن

میں کیا کروں، کہ مرے سوگوار، اب آئے


وہ دھوپ دھوپ میں ہی ہو گیا بسر، چپ چاپ

شجر شجر پہ مرے _______ برگ و بار اب آئے


وہ جن پہ دھوکہ سا جھیلا تھا، ہم نے منزل کا

وہ قافلے تو __________ سرِ راہ گزار، اب آئے


نہ ڈالیوں پہ کوئی پھول ہے، نہ ہونٹوں پر

مزہ تو جب ہے کہ ______ بادِ بہار، اب آئے


فرحت عباس شاہ

سوال

تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے

سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے


(امیر مینائی)

نظر کی دھوپ میں سائے گھلے ہیں شب کی طرح

نظر کی دھوپ میں سائے گھلے ہیں شب کی طرح

میں کب اداس نہیں تھا مگر نہ اب کی طرح


پھر آج شہرِ تمنا کی رہگزاروں سے

گز ر رہے ہیں کئی لوگ روز و شب کی طرح


تجھے تو میں نے بڑی آرزو سے چاہا تھا

یہ کیا کہ چھوڑ چلا تو بھی اور سب کی طرح ؟


فسردگی ہے مگر وجہِ غم نہیں معلوم

کہ دل پہ بھی بوجھ سا ہے رنجِ بے سبب کی طرح


کِھلے تو اب کے بھی گلشن میں پھول ہیں لیکن

نہ میرے زخم کی صورت نہ تیرے لب کی طرح


احمد فراز

Tuesday, 24 May 2016

اپنا حصہ شمار کرتا تھا

اپنا حصہ شمار کرتا تھا
مجھ سے اتنا وہ پیار کرتا تھا


وہ بناتا تھا میری تصویریں
ان سے باتیں ہزار کرتا تھا


میرا دکھ بھی خلوص نیت سے
اپنا دکھ ہی شمار کرتا تھا


سچ سمجھتا تھا جھوٹ بھی میرا
یوں میرا اعتبار کرتا تھا


پہلے رکھتا تھا پھول رستے میں
پھر میرا انتظار کرتا تھا


آج پہلو میں وہ نہیں فراز
جو مجھ پہ جان نثار کرتا تھا

Monday, 23 May 2016

تم سپنوں کی تعبیر پِیا

مرے پیروں میں زنجیر پِیا

اب نین بہاویں نیر پِیا
اے شاہ مرے اک بار تو آ
تو وارث، میں جاگیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

بے نام ہوئی، گم نام ہوئی
کیوں چاہت کا انجام ہوئی
مرا مان رہے، مجھے نام ملے
اک بار کرو تحریر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

کب زلف کے گنجل سلجھیں گے
کب نیناں تم سے الجھیں گے
کب تم ساون میں آؤ گے
کب بدلے گی تقدیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

سب تیر جگر کے پار گئے
مجھے سیدے کھیڑے مار گئے
آ رانجھے آ کر تھام مجھے
تری گھائل ہو گئی ہیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا

میں جل جل ہجر میں راکھ ہوئی
میں کندن ہو کر خاک ہوئی
اب درشن دو، آزاد کرو
اب معاف کرو تقصیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پیا

کب زین اداسی بولے گی
کب بھید تمہارا کھولے گی
کب دیپ بجھیں ان آنکھوں کے
تم مت کرنا تاخیر پِیا
تم سپنوں کی تعبیر پِیا
-
زین شکیل
کتاب: سن سانسوں کے سلطان پیا

 





تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن



تھام رکھا ہے جو تُو نے تو سلامت ہے بدن
تُو اگر ہاتھ چھڑا لے تو بکھر جاؤں میں

زین شکیل

تُو نہ بولے تو یہ تنہائی بہت چیختی ہے


تُو نہ بولے تو یہ تنہائی بہت چیختی ہے

 مار دے گا ترا رہنا یونہی مصروف، مجھے


زین شکیل

غزال مثل تجھے کیا خبر غزل کو مِری


غزال مثل تجھے کیا خبر غزل کو مِری
تری ردیف نگاہی نے قافیے دیے ہیں


زین شکیل

پاس تم نہیں آتے


پاس تم نہیں آتے
دیکھو اپنی آئی پر
ہم اگر اُتر آئے
یاد بھی نہ آئیں گے
زین شکیل

Saturday, 21 May 2016

تمہیں کتنا چاہتے ہیں

 

 

تمہیں کتنا چاہتے ہیں

کبھی تم نے یہ بھی سوچا
کہ تمہارے دل گرفتہ
تمہیں کتنا چاہتے ہیں ؟
تمہیں زندگی سے بڑھ کر 
جو عزیز ہم نے جانا
سو ، کوئی سبب تو ہو گا
کبھی تم نے یہ بھی سوچا؟
سرِ شام منتظر تھے
کہیں نیلمیں اُجالے
کہیں تتلیاں لبوں کی 
کہیں پھول جیسے عارض
کہیں قمقموں سی آنکھیں
یہ جو چارہ گر ہمارے
کوئی ساعتِ رفاقت
سرِ شام مانگتے تھے
انہیں کیا خبر کہ ہم نے
تمہیں سونپ دی ہیں راتیں 
تمہیں دان کی ہیں آنکھیں
کبھی تم نے یہ بھی سوچا
کہ تمہارے دل گرفتہ
کسی شمعِ سوختہ سے
یہ جو کر رہیں ہیں باتیں
تمہیں کتنا چاہتے ہیں ؟
تمہیں روز و شب کے دُکھ میں
کبھی بھولنا بھی چاہیں 
تو کبھی نہ بھول پائیں
کہ یہ عہدِ زندگی ہے
جسے توڑنا بھی چاہیں
تو کبھی نہ توڑ پائیں

 

(اعتبار ساجد)

Friday, 20 May 2016

سنبھلنے کے لیے گرنا پڑا ہے


سنبھلنے کے لیے گرنا پڑا ہے

ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے


رقم تھیں اپنے چہرے پر خراشیں

میں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے


مری آنکھوں میں تم کیوں جھانکتے ہو

تہوں میں آنسوؤ‎ں کی کیا پڑا ہے


حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن

ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے


بدن شوقین کم پیرہنی کے

درو دیوار پر پردہ پڑا ہے


اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میرا

گریبان پر خود اپنے جا پڑا ہے


محبت آنسوؤں کے گھاٹ لے چل

بہت دن سے یہ دل میلا پڑا ہے


زمیں ناراض ہے کچھ ہم سے شاید

پڑا ہے پاؤں جب الٹا پڑا ہے


ڈبو سکتی نہیں دریا کی لہریں

ابھی پانی میں اک تنکا پڑا ہے


مظفر رونقوں میلوں کا رسیا

ہجومِ درد میں تنہا پڑا ہے



مظفر وارثی

Wednesday, 18 May 2016

بڑے مختصر سے حروف میں

بڑے مختصر سے حروف میں

مجھے گہری بات بتا گیا

کہ وہ خواب سا کوئی شخص تھا

جو سحر سے پہلے جگا گیا

کسی مہربان کی دعا سے

یہ سفر تمام ہوا میرا

جنھیں رہبری کا غرور تھا

انھیں راستوں نے مٹا دیا

ہمیں آسماں سے گلہ نہیں

تیری رحمتوں پہ یقین ہے

جہاں زندگی شکست دی

کسی معجزے نے بچا لیا

ہمیں زندہ ہونے کا حوصلہ

تیری آرزو نے عطا کیا

بڑے گہرے زخم ملے ہمیں

جنھہں رفتہ رفتہ مٹا دیا

تمہارا لہجہ ہو خوشبوؤں سا، ہمارا لہجہ دعاؤں سا ہو

تمہارا لہجہ ہو خوشبوؤں سا، ہمارا لہجہ دعاؤں سا ہو

جو دوپہر میں بھی ہم ملیں تو، مزاج ٹھنڈی ہواؤں سا ہو


جو مل کے بیٹھیں تو اسطرح ہم کہ جیسے انسان مل رہے ہوں

نہ لفظ نشتر بنیں زباں پر، نہ لہجہ کڑوی دواؤں سا ہو


بچاؤں دنیا کو دھوپ سے میں، تمام خلقت کے کام آؤں

میرے خدایا وجود میرا، ہرے درختوں کی چھاؤں سا ہو


اُگیں خوشی کے گلاب کیسے، دہکتے شعلوں کی کھیتیوں میں

کسے پکارے یہ زندگانی، ہر آدمی جب چتاؤں سا ہو


بچا کے رکھنا انا کی دولت، یہی تو پونجی ہے اہلِ دل کی

کبھی بھی اس سے نہ جھک کے ملنا، غرور جس میں خداؤں سا ہو

لوگ کیوں بس کے اجڑتے ہیں کبھی سوچا ہے


لوگ کیوں بس کے اجڑتے ہیں کبھی سوچا ہے

کس لئے جاں سے گرزتے ہیں کبھی سوچا ہے


کیسے پلکوں کی لرزتی ہوئی منڈیروں پر

سینکڑوں دیپ چمکتے ہیں کبھی سوچا ہے


گویا بہاروں مین چمن ہوتے ہیں آباد مگر

پھول پامالی سے ڈرتے ہیں کبھی سوچا ہے


رنگ چہرے کا بدل جاتا ہے پل بھر کیلئے

لوگ جب بات بدلتے ہیں کبھی سوچا ہے


جو نظر آتے ہیں آئینہ سی پوشاکوں میں

وہ بھی مٹی میں اترتے ہیں کبھی سوچا ہے


نارسائی سے نہیں مرتا کوئی، مان لیا

دل میں آرے سے جو چلتے ہیں کبھی سوچا ہے

آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا


آنکھوں آنکھوں میں یہ ان سے رابطہ اچھا لگا

اس طرح سے گفتگو کا سلسلہ اچھا لگا



آنکھ میں آنسو لبوں پر سسکیاں اور دل میں غم

مجھ کو پھر اے دوست تیرا روٹھنا اچھا لگا


یہ بھی اچھا ہے نبھائی غیر سے اس نے وفا

بے وفائی میں بھی مجھ کو بے وفا اچھا لگا


دور تک مجھ کو ادا اسکی نشہ دیتی رہی

وقت رخصت اس کا مڑ کے دیکھنا اچھا لگا


اس نے ٹھکرایا تو سارے دوست بیگانے ہوئے

ہم کو اپنی موت کا پھر آسرا اچھا لگا


اپنے آنچل پر سجاتے وہ رہے رات بھر

میرے اشکوں کا رواں یہ سلسلہ اچھا لگا


وہ کسی کی یاد میں سوئے نہیں رات بھر

نیند سی بوجھل سی آنکھوں میں نشہ اچھا لگا


مجھ کو ہر ٹکڑے میں ناصر وہ نظر آنے لگے

ٹوٹ کر مجھ کو جب ہی تو آئینہ اچھا لگا

یہ سلسلہ ھی محبت کا ایک سراب لگے


میرے بدن پہ تیرے وصل کے گلاب لگے

یہ میری آنکھوں میں ، کس رُت میں , کیسے خواب لگے ؟

 

تمہارے ملنے کا مل کر بھی کب یقیں آیا

یہ سلسلہ ھی محبت کا ایک سراب لگے

 

نہ پُورا سوچ سکوں ، چھو سکوں ، نہ پڑھ پاؤں

کبھی وہ چاند ، کبھی گُل ، کبھی کتاب لگے

 

نہیں ملا تھا تو برسوں گزر گئے یوں ھی

پر اب تو اس کے بنا ھر گھڑی ، عذاب لگے

 

ھمیں تو اچھا ھی لگتا رھے گا وہ ، حیدر

بلا سے ھم اُسے اچھے لگے ، خراب لگے

ذہن کے خیالوں میں


ذہن کے خیالوں میں

روح کے اجالوں میں

زندگی کی جھیلوں میں

ذات کی فصیلوں میں

رتجگوں کے دامن میں

خواہشوں کے آنگن میں

دل کے خشک صحرا میں

چشمِ تر کے دریا میں

درد کے جہاں میں بھی

اشکِ بے زباں میں بھی

اور کچھ نہیں رہتا

تیری یاد رہتی ہے


Tuesday, 17 May 2016

الہام اگر ھوتا انجام پتہ ھوتا

الہام اگر ھوتا انجام پتہ ھوتا
انسان سمجھ جاتا امکان پتہ ھوتا
ارباب کریمی ہے اجرت کی خداجانے
گمنام اگر ھوتا معلوم پتہ ھوتا
یہ حسرت سبحانی ہے یا کوئ قصیدہ
صحرا بھی سمٹ جاتا انعام پتہ ھوتا
وہ دل پہ برستا تھا موج صبا کی رت میں
فریاد صنم ھوتا احکام پتہ ھوتا

چلو ہم مان لیتے ہیں

چلو ہم مان لیتے ہیں تمھیں ہم جو سمجھتے ہیں
اگر وہ جان لوں تم بھی تو دل بے تاب تو ھوگا
ہمارا نام لو گے جب تو یاد آۓ گی وہ باتیں
جنھیں تم اپنے اندر یوں سماتے ھو چھپاتے ھو
اگر ہم جان لے وہ سب تو کیا تم جان پاؤ گے
جو ہم تم کو سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو دل میں سازہیں سارے وہ سب تیری آنکھوں میں
ابھر کر یوں اترتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ جیسے ندیاں ساون میں اترتے ہیں ابھرتے ہیں
یہی وہ بات ہے جس پہ ہمیں تم سے شکایت ہے
کہ تم ہم میں نہیں بستے کہ ہم تم میں نہیں بستے

عمر کے بیت جانے سے مسافت کم نہیں ھوتی

عمر کے بیت جانے سے مسافت کم نہیں ھوتی
بنا موسم کے بارش میں تھکاوٹ کم نہیں ھوتی
بہت مجبور ھوتے ہیں جو دل پر وار سہتے ہیں
انھیں اپنا بنانے سے ملامت کم نہیں ھوتی
صبر کرتے ہیں ہرپل ان کے قدموں میں گھر کرلے
کہ ان کی بے نیازی پر عداوت کم نہیں ھوتی
وفاداری کا یہ منصب ہمیں کیوں بخشا ہے تم نے

جب نظروں سے گرایا ہے تو شدت کم نہیں ھوتی

سماعت میں ابھی تک آہٹوں کے پهول کهلتے ہیں



سماعت میں ابھی تک آہٹوں کے پهول کهلتے ہیں
کوئی چلتا ہے دل کے درمیاں آہستہ آہستہ--

"وہ لڑکی"

"وہ لڑکی"

میں کتنی ساعتوں سے،
آئینے کے سامنے ساکت کھڑی، یہ سوچتی ہوں مجھ سے، وہ لڑکی، حقیقت میں،
ذیادہ خُوبصورت تھی؟
تو کیا تم واقعی اُس نازنیں کی صندلیں آغوش پا کر
بھُول بیٹھے تھے؟
"تمہیں مجھ سے محبت ہے"
مِری آ نکھوں سےبڑھ کر پر کشش آنکھیں تھیں کیا اُس کی؟
بتاؤ ناں 

 مگر ہاں ٹھیک ہے شاید،
کہ مجھ جیسی،
اُداسی میں بھری،
بیکار سی لڑکی سے اُلفت کے تقاضے بھی کوئی پاگل نبھاتا ہے؟
کہ ظاہر ہے،
جہانِ رنگ و بُو میں کوئی آخر بوجھ اُلفت کا،
بھلا کب تک اُٹھاتا ہے۔۔۔

فریحہ نقوی

"ہر چند راستے میں تهے کانٹے بچهے ہوے"

 

"ہر چند راستے میں تهے کانٹے بچهے ہوے"
"جس کو میری طلب تهی گزرتا چلا گیا"

عدم

لا محدود ہیں

 

لا محدود ہیں
میری خواہشوں کے تقاضے جاناں
تجھے سوچنا
تجھے چاہنا
تجھے پانا
اور

 تیرا ہوجانا
اور محدود ہیں بس
زندگی کی چلتی سانسوں تک

 

 

kuch khud bhi they afsurda sey,

kuch khud bhi they afsurda sey,

kuch tum bhi hum sey rooth gaye,

kuch khud hi zakhm key aadi they,

kuch sheeshy haath sey choot gaye,

kuch khud bhi they hassaas bohat,

kuch tum ko sach sey nafrat thi,

kuch hum sey na boley jhoot gaye,

kuch logon ne uksaaya tumhain,

kuch apny muqaddar phoot gaye,

kuch khud itney mohtaat na they,

kuch log bhi hum ko loot gaye,

kuch talkh huqaiq thay,

ke khowaab hi saarey toot gaye'