affiliate marketing Famous Urdu Poetry

Tuesday, 9 May 2017

Mein tumhary aks k aarzoo m bas aaina bani rahi


میں تمہارے عکس کی آرزو میں بس آٰ ئینہ ہی بنی رہی

کبھی تم نہ سامنے آ سکے،کبھی مجھ پہ گرد پڑی رہی


وہ عجیب شام تھی،آج تک میرے دل میں اس کا ملال ھے

میری طرح جو تیری منتظر،تیرے راستے میں کھڑی رھی


کبھی وقف ہجر میں ہو گئ کبھی خواب وصل میں کھو گئ

میں فقیر عشق بنی رہی، میں اسیر یاد ہوئی رہی


بڑی خامشی سے سرک کے پھر مرے دل کے گرد لپٹ گئ

وہ رداےء ابر سپید جو ، سر کوہسار تنی رہی


ہوئی اس سے جب میری بات بھی،تھی شریک درد وہ ذات بھی

تو نہ جانے کون سی چیز کی میری زندگی میں کمی رہی

 ثمینہ راجہ

Monday, 17 April 2017

رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا



رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا

وہ یوں گیا کہ بادِ صبا یاد آگئی
احساس تک بھی ہم کو دلا کر نہیں گیا

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا

بس اک لکیر کھینچ گیا درمیان میں
دیوار راستے میں بنا کر نہیں گیا

شاید وہ مل ہی جائے مگر جستجو ہے شرط
وہ اپنے نقشِ پا تو مٹا کر نہیں گیا

گھر میں ہے آج تک وہی خوشبو بسی ہوئی
لگتا ہے یوں کہ جیسے وہ آکر نہیں گیا

تب تک تو پھول جیسی ہی تازہ تھی اس کی یاد
جب تک وہ پتیوں کو جدا کر نہیں گیا

رہنے دیا نہ اس نے کسی کام کا مجھے
اور خاک میں بھی مجھ کو ملا کر نہیں گیا

ویسی ہی بے طلب ہے ابھی میری زندگی
وہ خار وخس میں آگ لگا کر نہیں گیا

شہزاد یہ گلہ ہی رہا اس کی ذات سے
جاتے ہوئے وہ کوئی گلہ کر نہیں گیا

شہزاد احمد

Sunday, 16 April 2017

Abhi Kuch Din Mujhe Meri


Abhi Kuch Din Mujhe Meri
Mohabbat Aazmane Do

Mujhe Khamosh Rehne Do
Suna Hai Ishq Saccha Ho To
Khamoshi Lahu Ban Kar
Ragon Main Naach Uthti Hai
Zara Us Ki Ragon Main
Khamoshi Ko Jhoom Jane Do
Abhi Kuch Din Mujhe Meri
Mohabbat Aazmane Do

Usay Main Kyun Bataon
Main Ne Us Ko Kitna Chaha Hai
Bataya Jhoot Jata Hai
Ke Sacchi Baat Ki Khushboo
To Khud Mehsoos Hoti Hai
Meri Baaten, Meri Sochen
Usay Khud Jaan Jane Do
Abhi Kuch Din Mujhe Meri
Mohabbat Aazmane Do

Saturday, 25 March 2017

میرا کشمیر جل رہا ہے (Mera Kashmir jal rha hay by anjeela Qureshi)


میرا کشمیر جل رہا ہے

ہر ماں کا سینہ چھلنی , ہر باپ تڑپ رہا ہے

 کوئی ان سے سنے صدائیں کہ میرا کشمیر جل رہا ہے

کشمیر میری جنت ہے, کشمیر میری روح ہے

میں کیسے بتاؤں کہ میرا کشمیر جل رہا ہے

ہے ڈگر ڈگر موت,ہے قدم قدم پہ شہادت

 میں اس راہ میں کیسے نہ لرزوں,میرا کشمیر جل رہا ہے

کبھی جو جنت دکھتا تھا, وہاں ہر جاہ جنازہ ہو رہا ہے

 سنو کوئی میری فریاد میرا کشمیر جل رہا ہے

ظالم ہے ہر جگہ , مظلوم ہے بے سہارا

کوئی ظلم اب مٹائے ,میرا کشمیر جل رہا ہے

کبھی جو جنت دکھتا تھا,وہاں اب دہشت کا سایہ ہو رہا ہے

کیسے میں مسکراؤں میرا کشمیر جل رہا ہے

ہر انسان پریشان ,بے چین و لہو لہو ہو رہا ہے

کوئی مرہم انہیں لگائے , میرا کشمیر جل رہا ہے

سر سبز کھیتوں میں اب جو شمشان ہو رہا ہے

میں سکون کیسے پاؤں,میرا کشمیر جل رہا ہے

دن میں بھی ہے اندھیرا ,اور خورشید بھی بے نور ہو رہا ہے

 ایک دعا کے سوا اہل چمن کیا دیں *انجیلا*

 میں خوشی کہاں سے لاؤں میرا کشمیر جل رہا ہے.

Thursday, 23 February 2017

Khogaya Jane kahan woh waqt by Umme Eman


Khogaya Jane kahan woh waqt
jis mein main teri tu mera tha
dil ma bus tera baseera tha
neendon ma tera sapna to
honton pa tery leay muskarahat thi  
lout ae woh pal jis main tera sath tha
mery haathon ma tera hath tha
khof sa hone laga kismat ma apni
keh raat ka yeh ek sapna hay kahin toot na jae
itni shidat se chae koi kesi ko
yeh bi kesy mumkin tha
phr bi dil ma ek khuwaish Rahi
chaht bhra jahan ho sapno se saja asman
tum mere sath ho or be-panha pyar ho
lekan yeh waqt bhi ana tha
tum ko mujh se door Jana tha
mera Jo pyar tha tery liya sirf pachtawa tha
tumhe kahin door Jana tha
mujhy tumare sath rehna tha
Teri manzil thi kuch or
meri manzil Teri chaht thi
phir woh din bhi aya
jb tum ne kuch youn kaha
mera rasta hay kuch or
meri manzil tu nahi
Jane do mujha yahan se
k sath hum ko ab rehna nahe
ja tujhy keya azad kehti hu alvida
ke ab lout k na ana mujha teri chaht pa eitbr nahi
yeh kesi us ki mohbt thi Jo char din ki chandni bni
na hal-e-dil samjh saka na meri be-panha Mohbt ko
kahae dekha suna shayd parha tha
keya khub kesi ne kaha hay umm-e-eman
ke mohbt ka woh daur bhi or tha
jb dil main arman us k sath ka tha
Ankhon ma usi ka sapna saajta tha
bin kahe sub samjh jana  
uski mohabat main khud ko fana karna
yeh to meri  esi mohbt thi
jis ma meri us k liya chaht thi
ab kiya shikwa kiya shikayt karu ksi se
chalo choro rehny do ab Jane bi do use
mera liya woh mera sub kuch tha
shayed us ke leay main hi uski na thi......

Written by Umm-e-eman


mukhlis by Maira Anjum


تمہیں ہمیشہ ایسا کیوں لگا ہم مخلص نہیں تم سے

شاید اسلیے کہ تم ہمیں اپنے جیسا سمجھتے رہے

اس کی محبت میں وہ خلوص نہ تھا جو ہم دیکھنا چاہتے تھے

کیونکہ وہ اکثر بچھڑ جانے کی باتیں کرتا تھا

وہ ہم سے مخلص نہیں ہے یہ ہم جانتے تھے مگر

پھر بھی اسی کو چاہتے رہے جوہمارا تھا ہی نہیں کبھی

وہ میرا تو تھا ہی نہیں کبھی

اگر ہوتا تو یوں جاتا ہی نہیں کبھی

زمانہ ہم سے کہتا رہا کہ وہ ہم سے مخلص نہیں ہے

ہم ہی پاگل تھے جو اس سے محبت کر بیٹھے تھے


بہت مان تھا تجھے اپنی محبت پر

Monday, 6 February 2017

ہر شام شفق پر میں بھٹکوں ___ہر رات ستارہ ہو جاؤں

ہر شام شفق پر میں بھٹکوں ___ہر رات ستارہ ہو جاؤں
جو کنکر بن کر چبھتا ہے ___ وہ خواب تمہارا ہو جاؤں


مرے اشک تمہاری آنکھوں میں___ اک روز کبھی رستہ پا لیں
تم ڈوب کے مجھ میں یوں ابھرو ___ میں ندی کنارہ ہو جاؤں


پھر قطرہ قطرہ بہہ جائے تری باتوں سے ___تری آنکھوں سے
ترا دل ایسے پانی کر دوں ____میں برف انگارہ ہو جاؤں


تم جب جب اس کو دیکھو گے ___اک کرب سا دل کو کاٹے گا
ہر شب آنگن سے یوں گزروں ___ میں ٹوٹتا تارا ہو جاؤں


تم بات کرو گے جینے کی ___تم مجھ سے خود کو مانگو گے
میں گونگی بہری موجوں کا ____بے رحم سا دھارا ہو جاؤں


تو لاکھ بسانا چاہے بھی ___تو کوئی نہ اس میں آئے گا
ترے دل کی اجڑی بستی کا _______برباد نظارہ ہو جاؤں


پھر ڈھونڈو گے جب کھودو گے___ اور آخر اک دن رو دو گے
تم کبھی نہ جس کو بھر پاؤ ___ایسا میں خسارہ ہو جاؤں

Saturday, 4 February 2017

جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عُذر لاکھوں


جو آنا چاہو ہزار رستے___ نہ آنا چاہو تو عذر لاکهوں

مزاج برہم، طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم

Friday, 27 January 2017

ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

  ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺮ ﺭﺍﮦ ﻣﻠﮯ

ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﮔﺮﺩﺷﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﯽ

ﺍﺳﯽ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮯ ﭘﮧ ﺭﮐﯽ ﺭﮨﯿﮟ

ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﺬﺏ ﺳﮯ

ﯾﻮﻧﮩﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ

ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮﮞ

ﻣﯿﮟ ﺣﺼﺎﺭ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﺠﺎ ﺭﮐﮭﻮﮞ

ﻧﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﮯ ، ﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺳﮑﻮﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ

ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮﮞ ﺟﻮ ﮨﻮ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﺍﮔﺮ

ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﺗﻮ ﺟﻮ ﻧﺎ ﻣﻠﮯ

ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﮬﮍﮐﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﺮ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﭼﻠﺘﺎ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﻭﮞ

ﯾﮧ ﺟﻮ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﮧ

ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻭﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﺎﺭ ﺩﻭﮞ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ ﺳﮑﻮﻥ

ﺗﻮ ﺟﻮ ﺩﻭﺭ ﮨﻮ ، ﻧﺎ ﺟﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ

Tuesday, 24 January 2017

ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ


ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ،
ﯾﮧ ﻓﺮﺍﻕ ﻟﻤﺤﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺤﺎﺏ ﺳﮯ
ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ،
ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﺳﯽ،
ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ
ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ
ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﻮ!
ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻠﺴﻠﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﺳﮯ
ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ

 ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﻻ ﮐﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ،
ﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮩﺮ ﺗﮩﮧِ ﺁﺏ ﺳﮯ
ﻭﮨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ،
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺟﻮ ﺑﺎﺏ ﺗﻢ ﻧﮯ ﭼﺮﺍ ﻟﯿﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﮯ

Friday, 9 December 2016

Bohat se rang ,badal or prinday loat jaty hain


بہت سے رنگ، بادل اور پرندے لوٹ جاتے ہیں
کئی موسم بہت تاخیر کر دیتے ہیں آنے میں

Sunday, 4 December 2016

Sarapa wafa the khfa ja rhe the by Naina Baloch

Sarapa wafa the khfa ja rhe the
qasm hy khuda ki khfa ja rhe the
...
Wafaon ki dunia m laay arhe the
muhbt ki devi khfa ja rhe the
...
Wo palkon sy motii gira bh rhe the
ada by niyazi khfa ja rhe the
..
Wo nazuk c guriia ho pthr rhe the
chtanu c shktii khfa ja rhi the 
...
Wwo mjh ko dua  bh diye ja rhi the 
thma kr saza bh khfa ja rhe the 
...
Wo baziii wafa kheel kr ja rhi the
bhly "naina "hari khfa ja rhe the

Chlo kuch baat kerty hain


چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
خاموشی کا سحر ٹوٹے۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
وفاوں کی۔۔۔ جفاوں کی۔۔۔
چلو کچھ بات کرتے ہیں۔۔۔
بکھرنے کی۔۔۔ بچھڑنے کی
بکھر کر پھر سمٹنے کی۔۔۔
بچھڑ کر پھر سے ملنے کی۔۔۔
میں تم سے دور ہو جاوں۔۔۔
تمہیں جب بھی طلب ہو مجھ سے ملنے کی۔۔۔
کسی ویران ساحل پر کھڑے ہو کر۔۔۔
مجھے آواز دے دینا۔۔
تیری پلکوں کی چوکھٹ پر جو دستک دے۔۔۔
سمجھ لینا کہ وہ میں ہوں۔



Saturday, 26 November 2016

Jub tum ko he sawan ka sandesa nahi ban'na


جب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننا
مجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بننا

کہتی ہے کہ آنکھوں سے سمندر کو نکالو
ہنستی ہے کہ تم سے تو کنارہ نہیں بننا

محتاط ہے اتنی کہ کبھی خط نہیں لکھتی
کہتی ہے مجھے اوروں کے جیسا نہیں بننا

تصویر بناؤں تو بگڑ جاتی ہے مجھ سے
ایسا نہیں بننا مجھے ویسا نہیں بننا

اس طرح کے لب کون تراشے گا دوبارہ
اس طرح کا چہرہ تو کسی کا نہیں بننا

چہرے پہ کسی اور کی پلکیں نہیں جھکنی
آنکھوں میں کسی اور کا نقشہ نہیں بننا

میں سوچ رہا ہوں کہ میں ہوں بھی کہ نہیں ہوں
تم ضد پہ اڑی ہو کہ کسی کا نہیں بننا

میں رات کی اینٹیں تو بہت جوڑ رہا ہوں
پر مجھ سے تیرے دن کا دریچہ نہیں بننا

اُس نے مجھے رکھنا ہی نہیں آنکھوں میں عامر
اور مجھ سے کوئی اور ٹھکانہ نہیں بننا..

Sunday, 20 November 2016

آج دل پہ کچھ بوجھ سا ٹعھرا ہے


نازک لڑکی


کوئی تو ہو جو پتہ میرا ، مجھے بتانے آئے



کوئی تو ہو جو پتہ میرا ، مجھے بتانے آئے 

مجھے بھی میری طرح ، چاہنے آئے
بوجھل بوجھل ہیں آنکھیں لوری سنا کر 
کوئی تو ہو جو مجھے ، سلانے آئے
مدت سے لا پتہ ہو ں میں خود سے 
کوئی تو ہو جو مجھے خود سے ملانے آئے 
کب ہنسی تھی آخری با ر کچھ یاد نہیں
کوئی تو ہو جو مجھے پھر سے ، ہنسانے آئے
پتھروں کے اس مکان کو گھر کیسے کہوں
کوئی تو ہو جو مکان کو گھر بنانے آئے
میرے باغیچے کے سبھی پھول مرجھا گئے 
کوئی تو ہو جو آنگن میں گل کھلانے آئے 
ہو ا میں اک اداسی ، اک ویرانی سی ہے
کوئی تو ہو جو فضا کو مہکانے آئے
میں جو ہواؤں کی مسافر ہوا کرتی تھی
کوئی تو ہو جو مجھے اڑنا سکھانے آئے 
حسرتیں ہیں گمشدہ ، گمنام سے خواب ہیں
کوئی تو ہو جو میرے خوابوں سے ملانے آئے
ہیں پاؤ ں بھی شل او ر تنہا چلا نہیں جاتا
کوئی تو ہو جو چل کر سا تھ نبھانے آئے 
عرصہ ہوا میرے کانوں کو کوئی نغمہ سنے ہوئے
کوئی تو ہو جو مجھے گیت سنا نے آئے 
دل کی زمین خشک ، بنجر ہے صحرا کی طرح
کوئی تو ہو جو بارش کی بو ندیں گر انے آئے
روٹھیں کس سے اور کس سے خفا ہوں
کوئی تو ہو جو ہمیں منانے آئے 
محبتوں میں شمار میرے سواء کو ئی نہ ہو
کوئی تو ہو جو یہ حق جتانے آئے
علاج زخموں کا ، خود سے ممکن نہیں عمارہ
کوئی تو ہو جو مرہم زخموں پہ لگانے آئے
عمارہ شفیق (مکہ مکرمہ)


ان گنت حسیں راز بتائیں تیری آنکھیں از عمارہ شفیق


Friday, 18 November 2016

Aitraf ,Khawish ,Aurat


میری محبت کے اظہار نے

مجھے بے حد ارزاں کر دیاہے

مگر اسے یہ کون سمجھائے

جزبے، چاہت،اوروفا

کب کسی کے اختیار کی بات ہے

محبت تو محبت ہے

پہل میں کروں یاتو

مگر یہاں پر عورت کے اظہار کو

اسکےکمزور کردار سےملا دیا جاتا ہے

ایسا ہے تو کیوں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

وہ بھی ایسا ہی شخص ہے

جو میری محبت کو خطا سمجھا

دل چاہتا ہے کہ کبھی اس سے کہوں

محبت تو محبت ہے

حقیقت پسندی سے سوچو

ایسی نادان عمرمیں

ایسی غلطیاں ہو ہی جاتی ھیں

میری چھوٹی سی غلطی کو وجہ بنا کر

میری محبت کو بےتوقیر مت کرو

میری زات کابھرم رکھ لو

مجھے سرخرو کر دو


Thursday, 3 November 2016

Shiksta pai iradon kay pesh e pas m nahi


شکستہ پائی ارادوں کے پیش و پس میں نہیں
دل اُس کی چاہ میں گم ہے جو میرے بس میں نہیں
پروین شاکر

Friday, 28 October 2016

Macha deti hain halchal sham dhaly he teri yadden



مچا دیتی ھیں ہلچل شام ڈھلتے ہی تیری یادیں,

دلٍ نادان_____کا تجھ کو بھلانے کا ارادہ تھا..!!

( محسن نقوی)


Farz kro


فرض کرو

 تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا
کسی دن فرض کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
ایک پل، ایک دن یا ایک مہینہ بھی فرض کیا جا سکتا ہے لیکن احتیاطاً
ایک سال ہی سہی
فرض کر لو تو کسی عام آدمی کا بھیس بدل کر
اپنے گھر یا اپنے شہر جاؤ
اور لوگوں میں بیٹھ کر اپنا ذکر کرو
اور دیکھو
کہ تم جو ایک مشہور آدمی تھے اور کافی لوگوں میں مقبول بھی
تمہاری موت کے بعد
لوگ جو تمہیں بمشکل یاد رکھے ہوئے ہیں
تمہارے بارے میں گفتگو کرنے میں ذرا بھی دلچسپی محسوس نہیں کرتے
جو جو شخص
تم سے پیار کرتا تھا اتنا
کہ پل بھر کی جدائی بھی اسے عذاب لگتی تھی
اور اس وقت تک کھڑا رہتا تھا
جب تک تم اپنی نشست پر بیٹھ نہیں جاتے تھے
اور کبھی تمہاری آواز سے
اپنی آواز بلند نہیں ہونے دیتا تھا
اب اس کے پاس اتنا وقت نہیں
کہ کہیں بیٹھ کے چند گھڑیاں تمہارے ساتھ بیتے ہوئے لمحات یاد کر سکے
پھر وہاں سے آگے چلو
اور کسی ایسے آدمی کو تلاش کرو
جو تمہاری شاعری پہ دل و جان سے فدا ہو
اور تمہارا اتنا معتقد ہو
کہ ہمہ وقت ہاتھوں میں تمہاری کتابیں اٹھائے
اور ہونٹوں پر تمہارے شعر سجائے پھرتا ہو
لوگوں کو
دن رات تمہاری نظمیں سناتا تھکتا نہ ہو
تم اس سے ملو
اور اس سے گزارش کرو
کہ وہ تمہیں تمہاری نظمیں سنائے
اور تمہارے بارے میں اپنے خیالات اور اپنی معلومات کا اظہار کرے
وہ تمہاری بات سنتے ہی تمہیں اپنے پاس بڑے احترام سے بٹھا لے گا
اور بڑی خوشی اور گہری دلچسپی سے تمہیں تمہاری ساری شاعری سنا ڈالے گا
اور کہے گا
"فرحت شاہ ایک عظیم شاعر تھا
اس کی شاعری پڑھ کے ہوں لگتا ہے
جیسے اس نے لوگوں کے دلوں اور روحوں کے اندر اتر کے شاعری کی ہو
مجھے تو اس کی شاعری سے عشق ہے
یوں لگتا ہے جیسے اس نے سارا کچھ خود میرے متعلق ہی لکھ ڈالا ہے
میرے دل کا عالم اور حالات زندگی
بالکل ایسے ہی ہیں جیسے اس نے لکھا ہے
اس کی ایک ایک سطر پڑھتے ہوئے
مجھے یہ لگتا ہے کہ یہ بات تو میں خود کہنا چاہتا ہوں"
وہ شخص تمہیں بتاتا جائے گا ایسی ہزاروں باتیں
جن میں تمہارا کم اور اس کا اپنا حوالہ زیادہ ہو گا
ہاں صرف ایک سال بعد
تم جس کسی سے بھی ملو گے
جس سے بھی اپنے بارے پوچھو گے
صورت حال مختلف نہیں ہو گی
گویا تمام باتیں کسی زندہ آدمی کے لیے جاننا تقریباً ناممکن ہے
لیکن پھر بھی
کسی دن تم فرض تو کرو
کہ تمہیں مرے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے
اے میرے گمنام اور اجنبی فرحت شاہ

فرحت عباس شاہ

Thursday, 27 October 2016

Tery khyal k chader


ﺳﺴﮑﺘﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ
ﺗﺮﮮ ﻓﻘﯿﺮ ﻧﮯ ﮐﺎﻧﺪﮬﻮﮞ ﭘﮧ ﮈﺍﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ


ﻋﻘﯿﺪﺗﻮ ﮞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻻﺯﻭﺍﻝ ﻧﮕﺮﯼ ﻣﯿﮟ
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ

Ranj kitna bhi kren en ka zamany waly


رنج کتنا بھی کریں ان کا زمانے والے
جانے والے تو نہیں لوٹ کے آنے والے

 

کیسی بے فیض سی رہ جاتی ہے دل کی بستی
کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے

 

ایک پل چھین کے انسان کو لے جاتا ہے
پیچھے رہ جاتے ہیں سب ساتھ نبھانے والے

 

لوگ کہتے ہیں کہ تو دور افق پار گیا
کیا کہوں اے مرے دل میں اتر آنے والے

.

جانے والے تری مرقد پہ کھڑا سوچتا ہوں
خواب ہی ہوگئے تعبیر بتانے والے

 

ہر نیا زخم کسی اور کے سینے کا سعودؔ
چھیڑ جاتا ہے مرے زخم پرانے والے

 

شاعر : سعودؔ عثمانی

Ik qisa urtay paton ka


ﺍﮎ ﻗﺼﮧ ﺍﮌﺗﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﺎ .
ﺟﻮ ﺳﺒﺰ ﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﮎ ﻫﻮﮮ

ﺍﮎ ﻧﻮﺣﮧ ﺷﮩﺪ ﮐﮯ ﭼﮭﺘﻮﮞ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﻓﺼﻞ ﮔﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮐﮫ ﮨﻮﺋﮯ

ﮐﭽﮫ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺷﺘﻮﮞ ﮐﯽ

ﺟﻮ ﺑﯿﭻ ﻧﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﮯ

ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﯽ
ﺟﻮ ﺑﯿﭻ ﺑﻬﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭦ ﮔﺌﮯ

ﺗﻢ ﺩﺷﺖِ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﭨﻬﺮﮔﺌﮯ
ﮨﻢ ﻗﺮﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮔﺌﮯ

ﯾﮧ ﺑﺎﺯﯼ ﺟﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺯﯼ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﺟﯿﺖ ﮔﺌﮯ ﮨﻢ ﮨﺎﺭ ﮔﺌﮯ ۔۔۔
۔

Bohat Mumkin tha


بہت ممکن تھا
میرے پاؤں ،میرے زیست کے
کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا
میری راہ کے پتھّر پگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
میرے آگے سے ہٹ جاتیں
اگر تم آنکھ اٹھا کر دیکھ لیتے
کوہساروں کی طرف اک پل
چٹانیں اک تمہاری جنبش ابرو سے کٹ جاتیں
بہت ممکن تھا
انگاروں بھری اس زندگانی میں
تمہارے پاؤں کے اجلے کنول کھِلتے
رفاقت کی سنہری جھیل میں
دونوں کے عکس ضوفشاں بنتے
بس اک خواب مسلسل کی فضا رہتی
ہماری روح کب ہم سے
خفا رہتی
یہ سب کچھ عین ممکن تھا
اگر تم مجھ کو مل جاتے

(اعتبار ساجد)