نعت شریف
مدحتِ
خیر الورٰی وردِ زباں رہنے دیا
دل
کو مَیں نے شہرِ طیبہ کا مکاں رہنے دیا
اُن
کے روضے کی سنہری جالیوں کے سامنے
حسرتوں
کو مَیں نے محوِ بیاں رہنے دیا
اُن
کی چوکھٹ کے سوا اب اور جائے گی کہاں
خود
کو مَیں نے بے زمیں و آسماں رہنے دیا
ذکرِ
شاہِ دو جہاں سے بزم روشن ہو گئی
مَیں
نے ہر سُو رحمتوں کا اک سماں رہنے دیا
یا
نبی! رکھیے بھرم محشر میں اِس ناچیز کا
عشق
کو مَیں نے متاعِ دو جہاں رہنے دیا
از
قلم : رشنا اختر
٭٭٭٭٭٭٭٭
