affiliate marketing Famous Urdu Poetry: Qasoorwar by Sophia Akbar

Tuesday 1 May 2018

Qasoorwar by Sophia Akbar


جب  لوگوں نے مجھے بےعزت
میں روئی، میں نے کچھ نہیں کہا
جب مجھے لوگوں نے ستایا
مجھے تکلیف ہوئی
پر یہ تکلیف، میرے آنسو
کیسی کو نظر نہیں آئے
کیسی سے تو نہیں،
 پر میں نے اپنے آپ سے بھی شکایت نہیں کی
راتوں کو کمبل میں منہ چھپائے روتی رہی
پر کیسی نے صبح
سبب نہیں پوچھا ان سرخ آنکھوں کا
اب لگتا ہے جیسے میرے دل کو نہیں
میری روح کو یہ زخم لگے ہیں
مجھے اتنی تکلیف دینے کے بعد
اور اتنی تکلیف سہنے کے بعد
پہر بھی قصور وار میں ہی ہوں 

صوفیہ اکبر

No comments:

Post a Comment